خوشبوؤں کا ہالہ اور نعت گو شاعر

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
خوشبوؤں کا ہالہ اور نعت گو شاعر

اس بار جشن میلاد النبی ایسے موقع پر منایا جارہا ہے جب شمع رسالت کے پروانوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے اس بھی بڑھ کر صدیوں بعد جشن عید میلادالنبی حجاز مقدس 'حرمین شریفین میں بھی سرکاری اہتمام سے منایا جا رہا ہے۔ آقا و مولا سرور کائناتﷺکے حضور نذرانہ عقیدت اور نعت گوئی کی روایت آپ کی حیات مبارکہ میں حضرت حسان بن ثابت سے شروع ہوئی برصغیر میں اعلے حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے والہانہ انداز میں قصیدہ رسول کو آگے بڑھایا۔ آج جشن میلادالنبی کے موقع پر نعت گو شعرا کے اس مقدس قافلے میں نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں گلہائے عقیدت کا ایک نمونہ اس کالم میں وارفتگی و محبت کے جذبے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ نوجوان دانشور جنید سلیم نے عجب والہانہ انداز سے اس نعت کو تحت الفظ میں پڑھ کر دنیا جہاں کی نعمتیں اور سعادتیں سمیٹی ہیں۔

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا
سانس لیتاتو اور میں جی اٹھتا
کاش مکہ کی میں فضا ہوتا
ہجرتوں میں پڑا ہوتا میں
اور تُو کچھ دیر کو رکا ہوتا
تیرے حجرے کے آس پاس کہیں
میں کوئی کچا راستہ ہوتا
بیچ طائف بوقتِ سنگ زنی
تیرے لب پہ سجی دعا ہوتا
کسی غزوہ میں زخمی ہو کر میں
تیرے قدموں میں جا گرا ہوتا
کاش احد میں شریک ہو سکتا
اور باقی نہ پھر بچا ہوتا
تری کملی کا سوت کیوں نہ ہوا
تیرے شانوں پہ جھولتا ہوتا
چوب ہوتا میں تری چوکھٹ کی
یا تیرے ہاتھ کا عصّا ہوتا
تیری پاکیزہ زندگی کا میں
کوئی گمنام واقعہ ہوتا
لفظ ہوتا کسی میں آیت کا
جو تیرے ہونٹ سے ادا ہوتا
میں کوئی جنگجو عرب ہوتا
اور تیرے سامنے جھکا ہوتا
میں بھی ہوتا تیرا غلام کوئی
لاکھ کہتا نہ میں رہا ہوتا
سوچتا ہوں تب جنم لیا ہوتا
جانے پھر کیا سے کیا ہوا ہوتا
چاند ہوتا تیرے زمانے کا
پھر تیرے حکم سے بٹا ہوتا
پانی ہوتا اداس چشموں کا
تیرے قدموں میں بہہ گیا ہوتا
پودا ہوتا میں جلتے صحرا میں
اور تیرے ہاتھ سے لگا ہوتا
تیری صحبت مجھے ملی ہوتی
میں بھی تب کتنا خوشنما ہوتا
مجھ پہ پڑتی جو تیری چشمِ کرم
آدمی کیا میں معجزہ ہوتا
ٹکڑا ہوتا میں ایک بادل کا
اور ترے ساتھ گھومتا ہوتا
آسمان ہوتا عہدِ نبویؐ کا
تجھ کو حیرت سے دیکھتا ہوتا
خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی
اور تیرے پاؤں چومتا ہوتا
پیڑ ہوتا کھجور کا میں کوئی
جس کا پھل تو نے کھا لیا ہوتا
بچہ ہوتا غریب بیوہ کا
سر تیری گود میں چھپا ہوتا
رستہ ہوتا تیرے گزرنے کا
اور تیرا رستہ دیکھتا ہوتا
بت ہی ہوتا میں خانہ کعبہ میں
جو تیرے ہاتھ سے فنا ہوتا
مجھ کو خالق بناتا غار حَسن
اور میرا نام بھی حرا ہوتا
جناب حسن کی اس نعت کے ساتھ الحاقی شاعر نے بھی نئے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں۔ دیگر حضرات نے عقیدت میں اپنی اپنی افتادِ طبع کے مطابق ہدیہ عقیدت کے پھول بارگاہ رسالت مآب ؐ میں پیش کئے ہیں۔