محمد عربی ؐ کے اوصاف اور ہمارا کردار

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
محمد عربی ؐ کے اوصاف اور ہمارا کردار

طلوع اسلام سے قبل اہل عالم کی حالت ناگفتہ بہ تھی ‘ انسانیت منہ چھپا رہی تھی ‘ رحم کا لفظ عربوں کیلئے اجنبی تھا ‘ بھائی بھائی کے خلاف نبرد آزما تھا ‘ انسانیت کی کشتی ظلم و استبداد کے بھنور میں ہچکولے کھا رہی تھی ‘ زمین ششدر تھی اور آسمان اہل زمین کی چیرہ دستیاں دیکھ کر حیران ہور ہا تھا ‘ مگر یکا یک وادی بطحا میں ایک آواز پیدا ہوئی ‘ ایک بجلی چمکی ایک بادل گرجا ‘ زمین فخر سے جھوم اٹھی آخر زمین فخر سے کیوں نہ جھومتی رحمت دو عالم فخر موجودات سرور کونین محبوب سبحانی ظل یزدانی راحت انس و جان حضرت آمنہ کی گود میں اتر چکے تھے…جس طرح بہار کی آمد سے فضا میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے بارش سے پہلے فضاء میں نمی بڑھ جاتی ہے ہر شے دھل جاتی ہے فضاء معطر ہوجاتی ہے اسی طرح دنیائے عالم میںمحمد عربی رحمۃللعالمین کی آمد سے ہر شے کو گویا نیا وجود مل چکا تھا۔یہ ربیع الاول کے ماہ مبارک کے دن تھے۔ یہ دن ہمیں آپؐ کے کردار، وصف اور انکے احکامات پر عمل کرنے کی یاد تازہ کرنے کی مہلت دیتے ہیں۔

جب آپؐ چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو منصب نبوت سے نوازا گیا ‘ اسکے بعد آپؐ نے خدا تعالیٰ کا پیغام سنانا شروع کیا اور ادھر مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے شروع ہوگئے۔آپؐ کو تکالیف کچھ اس طرح سے دی گئیں کہ کوئی اور ہوتا تو تاب نہ لا سکتا ، ذرا تاریخ کے اوراق گردانیے کہ ایک کافر نماز کی حالت میں آپؐ پر اوجھڑی پھینکتا ہے مگر آپؐ اس کو بھی معاف فرما دیتے ہیں… ہندہ نامی عورت جس نے آپکے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا آگے بڑھتی ہے اور معافی کا سوال کر تی ہے آپؐ ارشاد فرماتے ہیں جائوتمہیں معاف کیا…وہی ابو سفیان جو آپکے قتل کے منصوبے بناتا تھا نت نئی سازشیں کر تا تھا مگر جب آپؐ کے سامنے لایا گیا تو اس کیلئے بھی اعلان ہوتا ہے جائو تمہیں امن دیا جائیگا،پھر اسلام کا سب سے پہلا دار الامان ابو سفیان کا گھر بنا… ایک بوڑھی عورت روزانہ آپ پر کوڑا پھینکتی ہے اور حضور رحمۃ اللعالمین مسکرا کرخندہ پیشانی سے آگے گزر جاتے ہیں اور اگر کسی دن اس کو غیر حاضر پاتے ہیں تو تشویش ہوتی ہے کہ کیا وہ بڑھیا بیمار تو نہیں ہوگئی۔معلوم ہوا کہ بیمار ہے عیادت کیلئے اسکے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور بیمار پرسی کر تے ہیں۔ آپؐ طائف کی وادی میں تشریف لے جاتے ہیں تو روساء طائف آپؐ پر پتھر بر ساتے ہیں آپ ؐ کو زخمی کر دیتے ہیں اور جسم اطہر سے خون بہنے لگتاہے جبرائیل امینؑ آکر عرض کر تا ہے اگر آپؐ چاہیں تو دونوں پہاڑوں کو ساتھ ملا کر انکو ملیا میٹ کردوں مگر آپؐ رحمۃ اللعالمین فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رحمۃللعالمین بناکر بھیجا ہے لہٰذا میں ان کو معاف کرتا ہوں اور ان کیلئے ہدایت کی دعاکرتا ہوں۔
جب مکہ فتح ہوا تو حرم کے صحن میں قریش کے تمام سردار مفتوحانہ انداز میں کھڑے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو اسلام کے مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاچکے تھے، وہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایاکرتے تھے، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کیا کرتے تھے، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتے تھے، وہ بھی تھے جو خود اس پیکر قدسی کے ساتھ گستاخیوں کا حوصلہ رکھتے تھے۔ وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے بچھائے تھے وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تلواریں چلائی تھیں، وہ بھی تھے جو غریب اور بے کس مسلمانوں کو ستاتے تھے ان کو جلتی ریتوں پر لٹاتے تھے۔ دہکتے شعلوں سے انکے جسم کو داغتے تھے۔ آج یہ سب مجرم سرنگوں سامنے تھے پیچھے دس ہزار خون آشام تلواریں محمد رسول اللہ کے ایک اشارے کی منتظر تھیں، مگر قربان جائیے محمد عربی پر کہ اس نے ان تمام جرائم سے قطع نظر، جانی دشمنوں پر ہر طرح سے غلبہ کے باوجود انکے ساتھ کیسا سلوک کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم سے وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا’’آج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘۔ یہ بیان کرنے کا مقصد آج کے مسلمانوں کا احاطہ کرنا ہے جن کے کردار میں ملاوٹ شامل کر دی گئی ہے، ہماری دوائیوں میں ملاوٹ، ہمارے کھانوں میں ملاوٹ، ہمارے پینے، سانس لینے ، اوڑھنے ، بچھونے ، الغرض ہمارے آپس میں ملنے میں بھی ملاوٹ شامل ہوچکی ہے۔ یورپ کے بادشاہ، صدر اور وزیراعظم اپنے لان کی گھاس خود کاٹتے ہیں لیکن اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے جرابیں پہنانے کیلئے بھی ملازم رکھے ہوئے ہیں، ہمارے خانہ کعبہ میں طواف کے دوران لوگوں کی جیبیں کٹ جاتی ہیں، لوگ احرام باندھ کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے بیگ چوری کر لیتے ہیں اور حاجی احراموں میں ہیروئن چھپا کر سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں، پوری اسلامی دنیا میں خواتین اور بچوں پر تشدد ہوتا ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں خالص دوا نہیں ملتی۔ہم لوگ آب زم زم میں بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے، ہم جنازوں کے دوران دوسروں کی جیبیں کاٹ لیتے ہیںاور ہماری تعلیمی حالت یہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں بین الاقوامی معیار کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں، ہم غلاف کعبہ کیلئے دھاگہ اور رنگ بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں،ہمارے لیے تسبیحاں اور جائے نماز چین بناتا ہے اور ہم نمازوں کے اوقات تک طے کرنے کیلئے یہودیوں کے تشکیل کردہ نظاموں کے محتاج ہیں۔یہ کیا ہے؟
باتیں ہم آپؐ پر جان قربان کرنے کی کرتے ہیں مگر اُن کی تعلیمات پر عمل کرنے سے جان جاتی ہے۔ یہاں دن دیہاڑے عزتیں لوٹی جاتی ہیں، بیٹیوں کو ننگا گلیوں میں گھماکر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مہذب ملکوں میں رات 3بجے بھی خواتین کی عزتیں محفوظ ہوتی ہیں، یہاں ہماری بہن بیٹیاں دن کے وقت بھی پردہ کرکے گزرتی ہیں تب بھی وہ محفوظ نہیں رہتیں، کوئی قانون کار گر نہیں رہا ،جنگل کا قانون ہے، جب دل چاہے جس کو مرضی مار دو ، ایک انسان کے قتل کرنے والے کوہمارے دین میں پوری انسانیت کا قاتل کہا گیا ہے۔ مگر افسوس یہاں ہر شخص نے قرآن پاک اور احادیث میں سے اپنی من پسند کی آیات اور احادیث یاد کر رکھی ہیں۔ اگر کسی سے پوچھو کہ تم نے یہ کام غلط کیوں کیا تو وہ اپنے مند پسند ترجمے سامنے لے آئیگا۔ اور چونکہ معذرت کے ساتھ ہمارے بعض علماء نے بھی دین کی دکانداریاں لگائی ہوئی ہیں جنہیں شاید کوئی پوچھنے والا پیدا ہی نہیں ہوا… وہ اس کار خیر میں پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔
آج چونکہ حضورؐ کی سخاوت و اوصاف کی یاد منانے کا دن ہے تو ایسے ہی دل میں چھپی چند باتوں کو سامنے لے آیا ورنہ تو اسلامی بھائیوں سے کبھی کبھی ڈر بھی لگتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ داد دینے میں سخاوت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے تنگ نظر ی سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ آپؐ کی ہر لحاظ سے سخاوت سے کون واقف نہیں ؟حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اتنے سخی تھے کہ کوئی بھی آپ کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور سخاوت میں بادشاہوں کو بھی شرمندہ کر دیتے تھے۔ایک عورت نے آپؐ کو ایک چادر ہدیہ دی تو آپؐ نے زیب تن کی اسی وقت ایک ضرورت مند نے آپؐ سے مانگ لی تو فورا رحمۃللعالمین نے اس کو وہ چادر مر حمت فرمادی۔ ایک مرتبہ حضور کی خدمت میں کہیں سے90 ہزار درہم آئے تو آپؐ نے فوراََ اس مجلس میں تقسیم فرما دیئے‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ سے کسی نے کچھ مانگا ہواور آپ نے انکار کر دیا ہوجو بھی سوالی آتا کبھی بھی خالی نہ جاتا۔ ہمارے سمجھنے کیلئے اور کردار کو بہتر کرنے کیلئے یہی مثالیں بہت ہیں مگر ان باتوں کو سمجھنا اور اُن پر عمل کرنا شرط ہے!