گھر پھونک تماشا

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
گھر پھونک تماشا


سچ پوچھیں تو میں ان دنوں اخبارات سے آنکھیں چراتا ہوں، اُن کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہوں۔ اخبار کے صفحات کھولتے ہوئے ہول آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کرپشن کا ایک سمندر ہے جس میں ہم غوطے کھا رہے ہیں جس ادارے کا نام لو اس کے اندر جھانک کر دیکھو تو آپ کو کرپشن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آئیگا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ لوٹ مار کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جس میں ہر صاحب اقتدار، ہر صاحب حیثیت اور ہر طاقتور بھاگ دوڑ کر رہا ہے اور ختم ہوتی ہوئی مہلت سے پہلے سب کچھ لوٹ لینا چاہتا ہے۔ عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ نچوڑ لینا چاہتا ہے۔ ملک کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس دوڑ میں سب سے آگے ہے خود بھی لوٹ مار کر رہی ہے اور اپنے کندھوں پر ایم کیو ایم اور اے این پی جیسے اتحادیوں کو سوار کر کے انہیں بھی خورد برد اور کرپشن کے وسیع تر مواقع فراہم کر رہی ہے۔
میاں نواز شریف بھی بالآخر سچ بولنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے درست کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکومت نے مفاہمت کے نام پر سندھ کا امن، گورننس اور سماجی و اقتصادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکےخلاف سندھ کے عوام، صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، دانشوروں اور ادیبوں کی پُرامن سیاسی جدوجہد کی حمایت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی سندھ میں سندھ بچاﺅ کمیٹی کا ایک سرگرم حصہ ہے۔
سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے مطابق باقی سارے سندھ میں پرانا لوکل باڈیز نظام چلتا رہے گا جبکہ کراچی میں لوکل گورنمنٹ کا نظام نافد کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام ریاست کے اندر ریاست ہے۔ اگر ایسا انتظام دیانتدار ہاتھوں میں ہو، بھتہ خوروں کے قبضے میں نہ ہو اور سارے صوبے کے چپے چپے کیلئے یکساں ہو تو پھر اس سے کسی مفید نتیجے کی امید کی جا سکتی ہے مگر جب اس کا بنیادی مقصد اپنے اتحادیوں کو کھل کھیلنے کی مکمل آزادی دینا ہو تو پھر لوکل گورنمنٹ کے ایسے کسی انتظام سے مزید تباہی و بربادی کے علاوہ اور کسی چیز کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
بھتہ خوروں کے خلاف کراچی میں تاجر اٹھ کھڑے ہوئے وہ اپنی جان ہتھیلی پر لے کر کھڑے ہوئے مگر انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ بتاﺅ تمہارا کیا ارادہ ہے کتنی جانیں اور پیش کر سکتے ہو۔
پیپلز پارٹی کا گڑھ سندھ ہے۔ پیپلز پارٹی قومی سیاست پر جب اثر انداز ہونا چاہتی ہے تو وہ سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کی خوشنودی کیلئے زرداری صاحب اپنا گھر توڑنے اور اسے پھونکنے پر کیوں کمربستہ ہو گئے ہیں۔ انہیں کیا اندازہ نہیں کہ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کیلئے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اندرون سندھ بے چینی ہو گی، اگر لوگ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے نالاں ہو جائینگے اگر وہ پیپلز پارٹی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے تو پیپلز پارٹی کی بنیاد کا کیا بنے گا، سندھ کارڈ کا کیا حشر ہو گا۔ جناب زرداری اس حشر سامانی پر کیوں تُل گئے ہیں۔ اندرون سندھ اب بچہ بچہ یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کھپے، سندھ کھپے کا نعرہ لگانے والوں کا اب صرف ایک نعرہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کھپے چاہے وہ کس قیمت پر کھپے۔
ساری جمہوری دنیا میں بلدیاتی ادارے بہترین حکمرانی کی جان ہوتے ہیں۔ یہی ادارے روزمرہ کی تمام سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ روزمرہ ضروریات بطریق احسن پوری ہو رہی ہوں تو زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے اور اگر یہ ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں یا انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہو تو زندگی ناگوار ہو جاتی ہے۔ یورپی ممالک ہوں یا امریکی ریاستیں ان شہروں کو آرام دہ بستیاں بنانے کا سارا انتظام اور اہتمام بلدیاتی اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ رجب طیب اردگان کو ان دنوں سارے عالم اسلام میں ایک قابل تقلید مثال سمجھا جا رہا ہے ہو اسلامی ملک کے عوام اُنکے گن گا رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ یہ ہے کہ انہوں نے استنبول کے میئر کی حیثیت سے دو بار خدمت عوام کے وہ کارنامے انجام دئیے جن کا اس سے پہلے تصور بھی ناممکن تھا۔ ترک عوام نے جب دیکھا کہ اگر یہ شخص وزیراعظم بن گیا تو یہ استنبول ماڈل کے مطابق پورے ملک کی کایا پلٹ دےگا اور ایسا ہی ہوا ہے اور اب طیب اردگان نے خدمت عوام کے منصوبوں کا جال سارے ترکی میں بچھا دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی طرح بلدیاتی انتخابات کا دروازہ بند نہیں رکھا، وہاں بڑی باقاعدگی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں اور اب ترکی کا ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر قریہ استنبول بن چکا ہے، سڑکوں کا جال بچھ چکا ہے ہر شہری کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں حکومت کے اخراجات پر پیش کی جا رہی ہیں۔ یہاں کراچی جل رہا ہے، ٹارگٹ کلنگ سے بے قصور اور معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ بھتہ خوروں نے شہر کراچی کے مکینوں پر بندوقیں تان رکھی ہیں جو بھتہ نہیں دیتا اسے گولی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ظلم و ستم کی کوئی داد فریاد نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ نہ امن ہے نہ استقرار ہے، نہ قرار ہے نہ سکون ہے اور نہ ہی داد رسی کا کوئی انتظام ہے۔
اسی طرح بلوچستان کی صورتحال بڑی نازک ہے وہاں بھی لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ برسوں کے مکینوں کو غیر بلوچی کہہ کر اُن کی جائیدادوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ ایک باخبر شخص نے مجھ سے بڑی رازداری سے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بڑا گھمبیر ہے مگر اس سے کہیں نازک صورتحال سندھ کی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان دہائی دے رہے ہیں‘ اللہ کے بندو! آگے بڑھ کر سندھ کو سنبھالو۔ وہاں بندہ¿ مزدور کے ہی نہیں ہر بندے کے اوقات بہت تلخ ہیں، بہت دگرگوں ہیں بلکہ بہت ہی تشویشناک ہیں۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سندھی صدر آصف علی زرداری سندھ کے عوام کو، شہری اور دیہاتی میں بانٹنے پر کیوں تُلے ہوئے ہیں اور خاص طور پر وہ اپنی ہی پیپلز پارٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر کیوں کمربستہ ہیں۔ نہ جانے زرداری صاحب گھر پھونک تماشا کیوں دیکھ رہے ہیں۔