بدنصیب قوم کو قائد کی تلاش

کالم نگار  |  محمد اکرام چودھری
بدنصیب قوم کو قائد کی تلاش


سمجھ میں نہیں آتا کہاں سے شروع کروں چاروں طرف آہیں ہیں، سسکیاں ہیں، بے بسی سے مرنے والے ہیں یا ان مرنے والوں پر بین کرنےوالے ہیں ہم پوری دنیا سے تیرہ ہزار ارب روپے قرض لے کر ڈکار چکے۔ اندرون ملک قرضہ اتنا بڑھ گیا کہ اب تو سٹیٹ بنک کو کاغذ چھاپنے کےلئے ادھار لینا پڑ جائےگا۔ پیپلز پارٹی کی بھوک اور طمع جانے ہمیں کہاں لے جائے۔ یہ آصف علی زرداری کے ویژن کا ہی کرشمہ ہے کہ آج جمہوریت تو نہیں لیکن فروعی اختلافات صوبوں شہروں سے نکل کر گلی کوچوں تک آ پہنچے ہیں۔ آج یہ اختلافات اتنا سر چڑھ کر بولنے لگے ہیں کہ سڑک کی اس جانب کے لوگ سڑک کے اس جانب کے لوگوں سے ناآشنا اور اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے ہی برقرار رہا تو ہم تقسیم در تقسیم کے عمل میں اس ہندسے پر پہنچ جائیں گے جہاں پر جا کر جمع تفریق ضرب سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں قیادت کا فقدان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد پیدا ہو گیا تھا اور آج یہ فقدان ایسی عفریت بن چکا ہے جو ہماری سیاست، سماجت، ثقافت، معیشت غرض سب کو کھانے پر تیار ہو چکی ہے۔
مجھے دکھ ہوتا ہے ان پتھرائی آنکھوں کو دیکھ کر جو پچھلے چونسٹھ سالوں سے کسی مسیحا کی منتظر ہیں اور اس مسیحائی کے بھیس میں انہیں کس بے دردی سے لوٹا گیا۔ انکے خوابوں کے ساتھ ایسا کھلواڑ کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ اس بے کس بے بس مخلوق نے کس کس کو اپنا مسیحا نہیں سمجھا کس کس کی پوجا نہیں کی کسی کو قائد عوام بنا کر اپنے کندھوں پر بٹھایا تو کسی کو اسلام کا عظیم سپاہی قرار دے کر اپنے سر ماتھے پر بٹھایا کسی کو جمہوریت کی دیوی قرار دے دیا تو کسی کو جمہوریت کا بے نام بادشاہ قرار دے کر ہیوی مینڈیٹ حوالے کر دیا۔
 کبھی کڑے احتساب کا نعرہ لگانے والوں کے پیچھے چل بڑے تو کبھی روشن خیالی کے نام پر بے وقوف بن گئے۔ جو بھی آیا جس نے جو بھی دعویٰ کیا جو بھی جھوٹا خواب دکھایا یہ اس پر جھوٹا اعتماد کرتے رہے اور ہر آنےوالے نے قیادت کے بھیس میں رہزنی کی قومی خزانہ تو خیر ان رہزنوں کی جاگیر تھی۔ انہوں نے غریب عوام کے حلق کا لقمہ تک چھین لیا لوگ بھوکے مرتے رہے اور یہ سیاسی ڈاکو اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ سرے محل بنتے رہے۔ لندن میں عالیشان فلیٹس خریدے جاتے رہے۔ پاﺅنڈز ڈالرز میں اکاﺅنٹس کھلتے رہے۔ بے رحمی سی بے رحمی ہے کہ سانسیں چھوڑ کر ان غریب عوام کا سب کچھ لوٹ لیا گیا اور وفاشعار قوم لٹ گئی مر گئی لیکن اس نے کبھی اپنے لبوں پر شکوہ تک نہ آنے دیا۔ اقتدار کو فالودے کی دکان سمجھ کر بھر بھر کر پیالے پئے گئے اور عوام دو گھونٹ پانی کےلئے بلکتے رہے۔
آج قیادت کا بحران اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ چار سو اندھیرا پھیل چکا ہے جس میں اصل نقل سچ جھوٹ رہبری رہزنی سب گم ہو کر رہ گئی ہے۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ آج جو اس لمحہ موجود میں زندہ ہیں وہ بہت خوش قسمت ہیں کیونکہ آنےوالا وقت ان لمحوں سے زیادہ بے مہر اور بے رحم ہے۔ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں چالیس ہزار جانیں گنوانے کے بعد بھی آج ہم دہشت گرد ہی ہیں۔
موت کا سامان لے جانےوالے نیٹو کنٹینروں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ دنیا میں اپنے قاتلوں کو کوئی اتنا پروٹوکول بھی دیتا ہے؟ اقتصادی طور پر ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ بھوک ننگ بے چارگی کسی آسیب کی طرح ہمیں اپنی لپیٹ میں لے چکی بین الاقوامی طور پر ہم آج تنہا ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا بھیانک اندھیرا ہماری صنعت کھا چکا، ہمارے کارخانے کھا چکا، ہماری معیشت کھا چکا اور ابھی اس کا پیٹ نہیں بھرا۔ اب بھی نہ جانے اور کتنا اندھیرا ہمارے نصیب میں لکھا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ قوموں کے نصیب میں پہلے روز سے ہی خوشحالی اور آسودگی لکھی ہوتی ہے۔ زندہ قومیں اپنا آج اور آنےوالا کل خود بناتی ہیں لیکن اس کےلئے انکے پاس ایک ایسی قیادت کا ہونا ضروری ہے جو آج کی ضرورتوں اور تقاضوں کے ادراک کے ساتھ کل کے آنےوالے چیلنجز کو نہ صرف سمجھے بلکہ ان سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ہمارا عالم یہ ہے کہ جب لوڈشیڈنگ اور توانائی کا بحران ہمارے سر پر آ کر گرا تو ہماری قیادت کو پتہ چلا کہ پاکستان تو توانائی کے بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے سب سے محبوب ملک بھارت کا گاڈفادر امریکہ چاہے ہم سے لاکھ بار یہ کہے کہ وہ انرجی بحران ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرےگا لیکن عملی طور پر وہ ایران کی گیس پائپ لائن پاکستان میں آنے ہی نہیں دےگا۔ وہ ہمیں ایسے دھتکارتا ہے جیسے کوئی بے حس نو دولتیا اپنے در پر آنےوالے فقیر کو۔
 آصف علی زرداری کے ویژن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والے ملک بھارت جس کی بلوچستان اور کراچی میں مداخلت کے واضح ثبوت سیکورٹی اداروں کے پاس ہیں آج ہماری دی موسٹ فیورٹ نیشن ہے اور صدر آصف علی زرداری اس سے محبت کی پینگیں بڑھانے میں اتنے بے تاب ہیں کہ اگر ان کا بس چلے تو بھارتی وزیراعظم کی آمد سے قبل ہی پیدل دوڑتے ہوئے بھارت انکے استقبال کےلئے چلے جائیں۔ ایک آصف علی زرداری ہی کیا قیادت کا فقدان ہماری ہر سیاسی جماعت میں بہت واضح ہے۔ کاش یہ دھرتی درجنوں وزرائے اعظم صدور‘ گورنرز اور ہزاروں ارکان اسمبلی پیدا کرنے کے بجائے ایک قائد پیدا کر دیتی۔ ایک چرچل‘ ایک منڈیلا ‘ایک چواین لائی‘ ایک سوئیکارنو پیدا کر دیتی لیکن افسوس ہمیں ایک جینوئن لیڈر نہیں مل سکا جو بھی ملا وہ چائنہ کے مال کی طرح ناپائیدار ہی نکلا اس نے اپنا سودا بیچا پیسے اکٹھے کئے اپنی دکان بڑھائی اور چلتا بنا۔
میں نے جب پاکستان کی سیاست میں قدم رکھا تھا تو مسلم لیگ ق میں نے اس امید سے جوائن کی تھی کہ شاید اس پلیٹ فارم سے قوم کی خدمت ممکن ہو گی میں نے حتی الوسع کوشش بھی کی کہ میں اپنی ایماندارانہ اور پاکستان سے محبت پر مبنی اپنی سوچ قائدین کے کانوں تک پہنچا سکوں لیکن افسوس ق لیگ کی قیادت جہاں خوشامد سے اس سسٹم میں ہمیشہ رہنے کا فن جانتی ہے وہیں وہ خود بھی یہ خواہش رکھتی ہے کہ اس کے اردگرد چاپلوسوں خوشامدیوں کا ایک حصار قائم رہے اور ان تک ایک بھی جینوین آواز نہ پہنچ سکے۔
چودھری برادران نے جس طرح اکثریت کی پرموشن میں اپنا کردار ادا کیا وہ میرے لئے ہمیشہ ایک جذباتی صدمہ رہا پاکستان میں اوریجنل قیادت پنپ ہی کیسے سکتی ہے جبکہ سیاست پر وڈیروں، نوابوں، جاگیرداروں اور چودھریوں نے اس سطح پر پنجے گاڑھ دئیے ہیں کہ ایک حقیقی آواز بھی پیدا نہیں ہو پا رہی۔ جنرل ضیاءالحق سے لے کر جنرل مشرف تک چودھری برادران نے آمریت کی شان میں جو قصیدے کہے وہ میرے لئے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنا اور پھر اسی اذیت نے مجھے ق لیگ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اب میں آزاد ہوں خود کو انتہائی پرسکون اور پرعزم محسوس کرتا ہوں۔ پاکستان کے لئے ایک حقیقی ہیرو کی تلاش میری زندگی کا مقصد ہے میری تلاش جاری ہے۔ میں مایوس نہیں اس دھرتی نے ہمیشہ دکھ نہیں دیکھنے قوموں کی زندگیوں میں مشکل وقت آتے ہیں۔ سیاہ اندھیرے کو روشنی کی ایک معمولی کرن ہی شکست دے دیتی ہے۔ وہ کرن ضرور پیدا ہو گی میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ہوں آئیں آپ بھی میرا ساتھ دیں۔