انقلاب کا ایندھن

کالم نگار  |  غلام اکبر
انقلاب کا ایندھن


ہر سیاسی لیڈر اپنی اپنی بساط کے مطابق انقلاب یا تبدیلی کی بات کررہا ہے۔ کس سیاسی لیڈر کے ذہن میں انقلاب یا تبدیلی کا کون سا خاکہ یا نقشہ ہے اس کے بارے میں ہم کچھ زیادہ نہیں جانتے لیکن یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ انقلاب اور تبدیلی کی بات جب بھی کی جاتی ہے تو ساتھ ہی نوجوان نسل کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ تقریباً تمام ہی قابل ذکر سیاسی لیڈروں اور جماعتوں نے اپنی توجہ اور توقعات ” یوتھ “ یعنی نوجوان نسل پر مرکوز کردی ہے۔ آغاز اس رحجان کا عمران خان اور ان کی تحریک انصاف سے ہوا تھا اور اس کی ایک قابل فہم وجہ یہ تھی کہ عمران خان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بنکس میں اتنی بڑی دراڑیں ڈالنے کی امید نہیں رکھتے تھے کہ انہیں انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوجائے کہ وہ اقتدار میںآسکیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے پیغام کا رخ یوتھ کی طرف موڑ دیا۔ اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیںکہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں نوجوان نسل کا وو ٹ بنک بہت بڑا ہوگا۔ظاہر ہے کہ دوسری سیاسی جماعتیں اس بڑے ووٹ بنک کی قوت سے چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتی تھیں۔ مسلم لیگ )ن(نے فوری طور پر یوتھ کے ووٹ بنک میں دراڑیں ڈالنے کےلئے ایک جامع حکمت عملی بنائی اور اس پر تیزی کے ساتھ عمل درآمد شروع کردیا۔اور اب پاکستان پیپلزپارٹی بھی ” یُوتھ “ کواپنی طرف راغب کرنے کےلئے اپنے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھرپور طریقے سے میدان ِ سیاست میں اتارنے کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ جہاں تک ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کا تعلق ہے وہ اس ضمن میں کسی بڑے منصوبے کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھتے کہ وہ جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی طاقت کا سرچشمہ لسانی و نسلی و فاداریاں ہیں۔
جو بات میں اپنے آج کے کالم میں کہنا چاہتا ہوں وہ میرے خیال میں ایک ستم ظریف اور تلخ حقیقت پر مبنی ہے اور تمام سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی توجہ کی مستحق ہے۔اس بات کا فیصلہ تو عام انتخابات میں سامنے آنےوالی زمینی حقیقتیں ہی کریں گی کہ نوجوان نسل اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتی ہے ¾ اور کس لیڈر یا کس جماعت کو اِس قابل سمجھتی ہے کہ ملک میں کوئی تبدیلی یا انقلاب لا سکے ¾ لیکن بہت سارے حقائق ایسے ہیں جو کسی سے چُھپے ہوئے نہیں اور جن سے چشم پوشی ممکن نہیں ۔ یہ درست ہے کہ ہماری نوجوان نسل موجودہ معاشرتی معاشی اور سیاسی صورتحال سے بالکل مطمئن نہیں اور اسکے ذہن میں یہ امنگ ایک طوفان کی صورت میں موجود ہے کہ حالات جیسے ہیں ویسے نہ رہیں اور کچھ ایسا ہوجائے کہ وہ اپنا سرفخر سے اٹھا کر چل سکے اور اُس کا حال اور اُس کا مستقبل بے یقینی اور عدم تحفظ کی گہری دھندے سے باہر نکل آئے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہماری ” یوتھ“ اُس ” فکری قوت “ ¾ اُن ” اخلاقی اقدار “ اور اُس ” ایمانی کیفیت“ سے نہ تو آگاہ‘ نہ بہرہ مند اور نہ ہی سرشار ہو پائی ہے جس کے بغیر تبدیلی یا انقلاب کی بات کرنا ایندھن کے بغیر انجن چلانے کے مترادف ہے۔
یہ ایک ایسی محرومی ہے جس کا مداوا فوری طور پر نہیں ہوسکتا۔ ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ اس محرومی میںقصور ہماری نوجوان نسل کا نہیں ¾ اس نسل کا ہے جس نے اس ملک کا سیاسی معاشرتی معاشی اخلاقی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ڈھانچہ بنایا۔
میری ملاقات ایسے نوجوانوں سے ہوتی رہتی ہے جو اقبال ؒ کے شاہین بننا چاہتے ہیں اور جن کے سینوں میں ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی امنگیں ہیں‘ مگر جو ایک ایسے نظام سے تعلیم پا کر نکلے ہیں جس میں اسلام اور مسلم تاریخ کے اکابرین کے افکار اور کارناموں سے آگہی حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
ایک نوجوان نے مجھ سے بڑے شکایتی لہجے میں کہا۔ ” انکل ہم اب کیسے جانیں کہ مغرب جو تنقید ہمارے دین پر اور قرون اولیٰ سے تعلق رکھنے والے ہمارے عظیم اکابرین پر کرتاہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ؟ اگر اسلام کے بارے میں ہماری سوچوں کے اندر کوئی کجی یا گمراہی ہے تو اسے دو ر کیسے کریں۔ ؟ کون سی کتابیں پڑھیں ؟ کس مورّخ یا مفکر سے رہنمائی حاصل کریں؟ اسلام اور ہمارے پیغمبر کے بارے میں بہت سارا مواد مغرب سے چھپ کر آرہا ہے۔ کیا ہماری رہنمائی کےلئے وہ مواد کا فی ہے جس میں کسی نہ کسی انداز میں ہمارے دین اور ہمارے پیغمبر کے متعلق شرانگیز سوالات اٹھائے جاتے ہیں؟ یہ تو میں جانتا ہوں کہ یہ سوالات نیک نیتی پر مبنی نہیںہوتے اور ان کا مقصد اسلام کی سچائی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرناہوتاہے مگر حقیقت کیا ہے وہ ہم کیسے جانیں ؟ یہ باتیں میں آپ سے اس لئے کررہا ہوں کہ جو کچھ ہم نے اپنے تعلیمی نظام سے حاصل کیا ہے اور جو کچھ ہمیںمارکیٹ میں دستیاب کتابوں سے حاصل ہوتاہے اس کااثر قبول کرنےوالے نوجوان ذہنوں کی تعداد معمولی نہیں۔“
اِس نوجوان کی باتوں میں بے پناہ تشویش کا پہلو بھی ہے اور ایک خوش آئند صورتحال کی نشاندہی بھی۔ تشویش کا پہلو یہ ہے کہ ایسی کتابوں اور ایسے مصنفوں کا واقعی ایک قحط سا ہے جن سے ان ” تصورات “ کا اثر زائل ہوسکے جو مغرب سے درآمد ہونےوالے لٹریچر کے ذریعے ابھارے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر آنحضرت کی ذات اور حیات مبارکہ پر مغرب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جارہا ہے اور ان میں سے اکثر تحریروں سے اگرچہ ” موافقت “ اور  ” ہمدردانہ نقطہ نظر “ کا تاثر ابھرتا ہے لیکن ہر تحریر یا کتاب میں کچھ سوال ایسے اٹھادیئے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ قرآن خدا کا کلام ہے بھی یا نہیں یا پھر حضرت محمد درحقیقت ایک پیغمبر تھے یا محض ایک ایسے بھلے انسان جنہوں نے اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے کےلئے پیغمبری کا پلیٹ فارم اختیار کیا )نعوذباللہ (
میں یہاں کچھ ایسی کتابوں اور تحریروں کی مثالیں دوں گا جو بہت عرصہ قبل لکھی گئیں۔ جیسے واشنگٹن ارونگ کی ) Mohammadﷺ(یا کارلائل کی On Hero And Hero Worshipیا پھر ہارٹ کی ”100“جس میںتاریخ کی عظیم ترین شخصیات کی درجہ بندی کرتے ہوئے مصنف نے آنحضرت کو پہلے نمبر پررکھا۔اور کچھ مثالیں دورِ حاضر کی تصنیفات سے دوں گا جیسےBarnaby Rogersonکی تصنیف The Prophet Mohammadیا Karen Armstrongکی The Prophet of our Time
یہ تمام تصانیف عمومی طور پر اس عظیم کردار کا اعتراف کرتی نظر آتی ہیںجو تاریخ انسانی کادھارا تبدیل کرنے میں پیغمبر اسلام نے ادا کیا۔ مگرکیرن آرمسٹرانگ کے ماسوا تمام مصنفوں نے کسی نہ کسی انداز میں خطرناک قسم کے سوالیہ نشان ضرور کھڑے کئے ہیں۔ یہ تو معروف تصانیف ہیں۔ غیر معروف تصانیف تو بے شمار ہیں جن میں آنحضرت کو ”موضوع تحقیق“ بنایا گیا ہے۔ اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جن میں آپ پرقرآن پراور اسلام پر کھل کر حملے کئے گئے ہیں۔ ان میںایک کتاب کاذکر میں بطور خاص کروںگا اور وہ ہے ‘سیم ہیرس کی The End of Faith۔ اس میں واضح طور پر یہ تھیوری پیش کی گئی ہے کہ اگر نسلِ انسانی کو تباہی سے بچانا ہے تو اسلام کے فتنے کو )نعوذ باللہ(آ ہنی قوت کے ساتھ کچلنا ہوگا۔ اس مصنف نے اپنی اس تھیوری کو بنیاد فراہم کرنے کےلئے قرآنی آیات کا سہارا لینے کی کوشش بھی کی ہے۔
ان تمام کتابوں کے مقابلے میں مجھے شبلی نعمانی اور سلیمان ندوی کی سیرت النبی محمد حسین ہیکل کی ” محمد ﷺ “ اورمارٹن لنگس کی ” محمد ﷺ “ کے علاوہ اور کوئی قابل ِ ذکر تصنیف نظر نہیںآتی۔
متذکرہ نوجوان کے شکوے سے جس خوش آئند پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری آج کی نوجوان نسل اس صورتحال کی تصویر بہرحال پیش نہیںکرتی جسے دیکھ کر علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا۔
” خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریادبھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ! “
ہمارے سیاستدانوں کو دلچسپی اس بات سے نہیں کہ اِس نوجوان نسل سے کام کیا لیا جانا چاہئے اور اس کام کےلئے اسے تیار کیسے کیاجائے دلچسپی انہیںصرف ان کی مدد سے انتخابات جیتنے سے ہے۔
میری حقیر فہم یہ کہتی ہے کہ مسلم ممالک میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان محاذ جنگ گرم ہوچکاہے۔ ہمارے سامنے ترکی اور مصر کی مثالیں موجودہیں۔ سیکولر قوتیں اسلام کے ظہور اور عروج کو روکنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا رہی ہیں اور لگائیں گی ۔ اسی صورتحال کا سامنا ہمیں پاکستان میں بھی ہوگا۔
اطمینان کی بات ہمارے لئے یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں اپنی بنیادوں کی طرف واپسی کی تڑپ موجودہے۔ اگر اسکی رہنمائی کےلئے مناسب لائحہ عمل تیار کیا گیا تو پاکستان میں حقیقی اسلامی انقلاب لایا جاسکتاہے۔