قصہ سانحہ ¿ مشرقی پاکستان

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
قصہ سانحہ ¿ مشرقی پاکستان

 1970سے بھی بہت پہلے اگر تلہ میں ”را“ اور بھارتی آرمی انٹیلی جنس نے مل کربھارتی سرحد کے اندر ہیڈ کوارٹر قائم کر لیا تھا جہاںسے تخریبی کاروائیوں کی رہنمائی کی جاتی تھی۔ اب جب سیاسی حالات خراب ہوئے تو یہ ہیڈ کوارٹر بہت زیادہ متحرک ہو گیا۔
اہم بنگالی فوجی آفیسرز، ایسٹ پاکستان رائفلز کے بنگالی آفیسرز اور ایسٹ پاکستان پولیس کے آفیسرز سے رابطہ مضبوط کیا ۔وہاں سے ہر موقعہ کےلئے مناسب راہنمائی اور ہتھیار وغیرہ فراہم کئے گئے۔ کئی بنگالی فوجی آفیسرز ”ریکی“ کے بہانے باقاعدگی سے وہاں جاتے۔ کارروائی کےلئے نقد رقوم اور ہدایات لے آتے۔ بعد میں مختلف بھارتی فوجی آفیسرز کی لکھی گئی کتابوں سے یہ بھی پتہ چلا کہ بھارت نے فروری۔مارچ1971میں ایک مکمل کمانڈو بریگیڈ قتل و غارت اور شرانگیز کاروائیوں کےلئے مشرقی پاکستان میں داخل کیا تھا جس کی تعداد جنگ سے پہلے بڑھ کرتین برگیڈ تک پہنچ گئی جبکہ مارچ1971ءمیں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی کل تعداد محض 12-15ہزار تھی جس میں مشرقی پاکستانی بھی شامل تھے۔ اس کل تعداد میں لڑاکا فوج 8یا9ہزار سے کسی صورت بھی زیادہ نہ تھی جبکہ مشرقی پاکستان کا کل رقبہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ مربع کلو میٹر تھا۔
3مارچ 1971ءکو اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا۔ یحییٰ خان نے یکم مارچ کو یہ اجلاس ملتوی کر دیا تو مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں مظاہرے اور غیر بنگالیوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔ وہاں پر موجود8 ہزار فوج کو پورے ملک میں پھیلا دیا گیا اور یوں فوج چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔ ان پر حملوں کےلئے اور عام قتل و غارت کےلئے مکتی باہنی کے غنڈے اور مختلف عسکری تنظیمیں پہلے ہی تیار تھیں۔ اسلحہ سب نے جمع کر رکھا تھا حتیٰ کہ بنگالی فوجیوں نے اپنے فیملی کوارٹرز میں بھی اسلحہ رکھا تھا اور وقت آنے پر یہ لوگ غیر بنگالیوں پر ٹوٹ پڑے۔
پورا مشرقی پاکستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ تمام عدالتیں اور سرکاری وفاتر مفلوج ہوگئے۔ 2مارچ کو مشرقی پاکستان میں کرفیو لگا دیا گیا۔ ایک دو روز اس کرفیو پر عمل بھی ہوااور چند شر پسندوں کو گولیاںماری گئیں جس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اس کے ساتھ ہی عوامی لیگ نے اس کرفیو کی سخت مذمت کی اور خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ حکومت ڈر گئی۔ 6مارچ کو کرفیو ختم کرکے فوج واپس بلا لی جو غالباً بہت بڑی غلطی تھی۔ رات کا کرفیو بہرحال برقرار رہا۔ فوج کےلئے ایک ”ٹاپ سیکرٹ“ آرڈر نکالاگیا کہ اگر کوئی کرفیو کی خلاف ورزی بھی کرے تو اسے کچھ نہ کہا جائے تاوقتیکہ کوئی فوج پر حملہ نہ کرے۔ یہ کھلم کھلا فوج کی بے عزتی اور فوج کے ساتھ مذاق تھا کیونکہ فوج سیاسی انداز میں کام کر ہی نہیں سکتی۔ دوسراایسے احکامات بہت خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ سوائے متعلقہ اشخاص کے کسی کو اس کی بھنک تک نہیں پڑنے دی جاتی۔ اگر ایسے احکامات کا راز کسی بھی طرح افشا ہوجائے تو تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔ یہی کچھ یہاں ہوا۔
بنگالی میجر خالد مشرف پاکستان آرمی کا قابل، ذہین ،دلیر اور بہترین کمانڈو آفیسر تھا۔ یہ شخص شیخ مجیب الرحمن اور”را“ سے مل چکا تھا۔ جب فوج کی ہائی کمان کی طرف سے یہ ٹاپ سیکرٹ آرڈر یونٹوں میں موصول ہوا تو اس وقت تک یونٹوں میں بغاوت شروع نہیں ہوئی تھی۔ ہائی کمان کا خیال تھا کہ بنگالی فوجی پاکستان کے وفادار ہیں جو کہ انٹیلی جنس کی بہت بڑی ناکامی تھی۔ میجر خالد مشرف نے اس آرڈر کی فوری اطلاع خفیہ طور پر عوامی لیگ ہائی کمان کو دی اور یہ اطلاع مشرقی پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔
 میرے خیال میں بنگلہ دیش اسی وقت معرضِ وجود میں آگیا تھا جب میجر خالد مشرف نے یہ راز عوامی لیگ کے ہیڈ کوارٹر پہنچایا۔ اس وقت کے بعد سے عوامی لیگ اور بنگالیوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میجر خالد مشرف نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ معصوم غیر بنگالی سویلین کا قتل عام تو وہ پہلے ہی کر رہے تھے۔ اب انہوں نے سیدھا فوج کو نشانہ بنایاجو پاکستان کی حفاظت کی ذمہ دار تھی۔ جہاں کہیں ایک دو اکیلے فوجی نظر آتے بنگالی انہیں مار دیتے۔ فوج محض چھاﺅنیوں تک محدود ہو کر رہ گئی اور سول کی تمام انتظامیہ عوامی لیگ نے سنبھال لی۔ فوج کا تازہ راشن اور ہر قسم کی سپلائی بند کر دی گئی۔ اسی دوران دو گورنر یکے بعد دیگرے تبدیل ہوئے۔ گورنر ٹکا خان سے وہاں کے چیف جسٹس نے بیماری کے بہانے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ مغربی پاکستان کی فیملیز کو پکڑ پکڑ کر ریپ کیا گیا۔ ان کے پیٹ میں چاقو مارے گئے۔ جن بنگالی یونٹوں میں مغربی پاکستانی جوان تھے انہیں قید کر لیا گیا۔ بعض کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں۔ نعروں کی گونج میں ذبح کیا گیا۔ چٹا گانگ میں جب دوبارہ کنٹرول حاصل کیا گیا تو کئی انسانی خون کے بھرے ڈرم ملے۔ بنگالی غنڈے سامنے کھڑے ہو کر فوجی جوانوں کو گالیاں دیتے لیکن فوج کو حکم تھا کہ وہ کچھ نہ کہے مبادا کہ عوامی لیگ والے ناراض نہ ہوجائیں۔
 ہماری قومی بد قسمتی دیکھیں کہ فوج کو بے بس کرکے سار اکنٹرول عوامی لیگ کے ہاتھوں دے کر عوام کو لولی پاپ دیا گیا کہ مسئلہ سیاسی طور پرحل کیا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کی دیدہ دلیری اس حد تک بڑھ گئی کہ مارچ میں مغربی پاکستان سے جناب خان عبد الولی خان (مرحوم) اور کچھ دیگر معزز راہنما یہاں سے مذاکرات کےلئے ڈھاکہ پہنچے۔ ڈھاکہ ائیر پورٹ پر مکتی باہنی والوں نے روک لیا۔ سخت بد تمیزی کی۔ ہاتھ اٹھانے کی کوشش بھی کی گئی۔ فوج انہیں مشکل سے وہاں سے نکال کر چھاﺅنی میں محفوظ مقام پر لے گئی۔
فوج کی بے بسی کی حالت ملاحظ ہو کہ مغربی پاکستانی فوجیوں کو چھاﺅنی سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ ایک دن ایک بد قسمت مغربی پاکستانی نوجوان آفیسر بنگالی گارڈ ساتھ لے کر تازہ سبزی لینے کےلئے چھاﺅنی سے نزدیکی بازار گیا جہاں عوامی لیگ کے غنڈوں نے پکڑ لیا۔ بنگالی گارڈ آرام سے کھڑی رہی۔ بنگالیوںنے اس نوجوان آفیسر کو سخت زخمی کر دیا۔اپنی طرف سے وہ اسے مارچکے تھے۔ بنگالی گارڈ آرام سے واپس آگئی۔ مزید بد قسمتی یہ کہ ایسے بد معاشوں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے سے منع کر دیا گیا۔ دو چار فوجیوں کو ہر چھاﺅنی میں روازنہ قتل کرنا معمول بن گیا لیکن سیاسی دانشمندی کی وجہ سے فوج کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ جوان سسکیاں لے لے کر روتے۔ آفیسر کڑھتے، لیکن ہائی کمان خاموش رہی۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ جب کبھی فوج کی کسی پارٹی کو ایک سے دوسری جگہ جانا ہوتا تو وہ عوامی لیگ کے لوکل کمانڈر سے پرمٹ لےکر ہی باہر نکل سکتے تھے۔ مغربی پاکستانی خواتین کی ریپ۔بے گناہ لوگوں کا بہیمانہ قتل اور پھانسی کی خبریں مسلسل جوانوں تک پہنچ رہی تھیں لیکن وہ بے بس تھے۔ چٹاگانگ میں کمانڈو بٹالین پر حملہ ہوا۔ کمانڈنگ آفیسر سمیت 50جوان شہید ہوئے۔ دفنانے کی غرض سے شہداءکی یہ 50لاشیں ڈھاکہ ائیر پورٹ پر لائی گئیں۔ جب انہیں اتار کر لائن میں رکھا گیا توافسروں اور جوانوں کا ڈسپلن اور دل کا ضبط ٹوٹ گیا۔ جوان دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ آفیسرز خاموشی سے روئے۔ کچھ نوجوان آفیسرز نے روتے ہوئے کہا ”کن بدمعاشوں اور ڈکٹیٹروں کےلئے ہمارے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے“ ان حالات میں اپنے آپ پر قابو رکھنا میرے خیال میں پاکستانی فوج کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ قوم کے یہ جیالے۔ ماﺅں کے لخت جگر بے بس ہو کر وطن کی سلامتی کےلئے خون میں نہا گئے۔ لیکن جو ”بدمعاش“اس سانحہ کے ذمہ دار تھے آرام سے عیاشی کرکے چلے گئے۔
 فوج نے 9ماہ وطن سے دور انسرجنسی کی جنگ لڑی‘ بھارتی کمانڈوز‘ مکتی باہنی اور پاکستان مخالف مسلح دہشتگروں کا مقابلہ کیا۔ اس دوران نہ مکمل آرام ملا نہ نیند پوری ہوئی اور نہ پیٹ بھر کر کھایا۔ بقول بھارتی جنرل جیکب ”پانی اور دلدلی علاقوں میں چل چل کر پاکستانی فوج کے پاﺅں گل چکے تھے۔ جونکوں سے ٹانگیں زخمی تھیں۔ پھر بھی پاکستان فوج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نہ وہ دوڑی ۔نہ پیچھے ہٹی اور نہ کہیں چھپی۔ اس نے ایک ایک انچ زمین کے لئے بھارتی فوج کا سخت مقابلہ کیا“کتنی بد قسمتی ہے کہ قوم آج بھی اس سانحہ کا ذمہ دار فوج کو ہی ٹھہراتی ہے۔ بقول شاعر:
گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا، تمہارا نہیں