داغ ِ سجود

داغ ِ سجود

 ایک دہائی دنیا بھر میں’ دہشت گردی ‘ کی دہائیاں دیتی گزر گئی۔ ہر جگہ مسلمانوں پر یہ لیبل چسپاں کرکے انکے خون سے ہولی کھیلی گئی۔آج برما میں عدم تشدد،امن، سلامتی اور اعلیٰ اخلاقیات کے پرچارک بدھ مسلم آبادیوں پر وحشی درندے بن کر پل پڑے۔ وہ جو چیونٹی، مچھر پر بھی ہاتھ اٹھانا حرام جانیں، مسلمانوں کی بستیاں جلا ڈالیں؟ عورتیں بچے بوڑھے انکی بربریت کا لقمہ¿ تر بن جائیں اور ’دہشت گردی‘ کی کوئی پکار نہ اٹھے....:
”خونِ ما خوردند ایں کافر دلاں ای مسلماناں! چہ درماں، الغیاث“
(یہ کافر دل تو ہمارا خون بھی پی چکے۔ اے مسلمانو! اس کا کیا علاج ہے؟)
 انسانیت کے تحفظ کیلئے اقوامِ متحدہ سے قراردادیں جاری کروا کر، یا اسکے بغیر بھی امریکہ بلبلا کر عراق افغانستان پر حملہ آور ہو۔سوڈان توڑ ڈالے۔یہاں برما کے مسلمانوںکی پکارپر 59 مسلم ممالک، عالمی ویٹو بردار طاقتیں جو دن کو رات اور رات کو دن کردکھانے پر قادر ہیں۔ سب طرف ہُو کا عالم طاری ہو۔اب دبی دبی آوازیں،نیم دلانہ، پھُسپھسا احتجاج لئے، صرف ریکارڈ پر لانے کیلئے منصہ شہود پر نمودار ہوئی ہیں۔بہتے خون، کھنڈر بنی بستیاں، لٹی عصمتیں جس قوت، سُرعت کی متقاضی تھیں وہ دور دور کہیںنظر نہیں آتا۔
برما کے مسلمان سب سے بڑھ کر بنگلہ دیش اور پاکستان کی ذمہ داری تھے۔اصلاً اراکان مسلم بنگال کا حصہ بنتا تھا۔مشرقی پاکستان اور اراکان کے درمیان صرف ایک دریا حائل تھا جبکہ برما اور اراکان کے درمیان صرف دین مذہب تہذیب ہی کے نہیں، بلند و بالا جغرافیائی پہاڑبھی حائل تھے لیکن انگریز نے تقسیم میں ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپا۔ برما کےساتھ غیر فطری طورپر اراکان مسلمانوں کو منڈھ کر انہیں ظالم بدھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ 10لاکھ مسلمانوں کو برما اپنا شہری تسلیم کرنے پر کبھی رضا مند نہ ہوا۔تیل اور معدنیات سے مالامال یہ علاقہ مسلمانوں کی لاشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ حالات کے جبر اور شدت میں یہ عین فلسطین اور کشمیر کے پابہ جولاں مسلمانوں کی مانند ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسطین اور کشمیر پر دنیا بھر میں آواز اٹھائی جاتی اور کسی نہ کسی شکل میں انکی مدد کی جاتی ہے لیکن اراکان کا کیس دنیا میں کسی سطح پر اٹھایا نہ گیا اور برسہا برس سے گھٹ گھٹ کر مرمر کر جی رہے ہیںاور جی جی کر مر رہے ہیں۔ شاید اب پانی سر سے گزر گیا ہے تو کوئی سبب اللہ تعالیٰ فرما دے۔برما کے یہ ریڈ انڈین نما وہ ہیں کہ جمہوریت فیم،نوبل پرائز آن سوچی نے بھی ’انسانی حقوق‘ کی وحشیانہ پامالی سے منہ پھیرلیا۔
ثابت یہی ہوتا ہے کہ آمریت ہویا جمہوریت، مسلمان کے حقوق کی پاسداری،اسکے خون کی حرمت کہیں نہیں۔ یہیں سے پھر خلافت کی یاد مسلم عوام میں بیدار ہورہی ہے تو امریکہ اور اسکے حواری غم و غصے سے بپھر جاتے ہیں۔مسلمانوں کے حصے ہر جگہ چڑیل جمہوریت ہی آتی ہے۔ اپنے ہاں دیکھ لیجئے۔ لوڈشیڈنگ کے گھپ اندھیروں میں بھتہ خوری کرتی، ٹارگٹ کلنگ میں لاشیں گراتی، مہنگائی سے لال بھبھو کا عوام کا خو ن چوسنے کو ان کے سینے میںپنجے گاڑے ہوئے،جلتے ٹائروں کے دھویں میں یہ ویمپائر جمہوریت!
پاکستانی حکمرانوں سے شکوہ کرنےوالے کتنے سادہ لوح ہیں۔ان سے یہ توقع رکھنی کہ یہ برما کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے؟ اپنے عوام اور اپنے ملک کو سنگدلانہ بربادیوں کی بھینٹ چڑھانے والوںکو برما کے مسلمانوں کا درد ستائے گا؟ یہ دردِ دل سے عاری دردِ شکم کے مریض ہیں صرف ....جس میں افاقہ ڈالر کی خوراک سے ہوتا ہے۔ انہیں جسد واحد والی حدیث سنا کر،امتِ مسلمہ کی غم خواری کی توقع رکھنا‘ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے! انکی امت۔
باقی رہا بنگلہ دیش برمی مسلمان جس کی ذمہ داری بنتے تھے‘ وہاں مجیب کی بیٹی تخت پر براجمان ہے۔ امریکہ،نیٹو ہے۔ حسنی مبارک، غزہ کے مسلمانوں پر(اسرائیل کی وفاداری میں،امریکہ کی یار ی میں) ہر ستم روا رکھتا رہا۔کہاں ہے اب وہ حسنی مبارک؟ یہی بات ہر کرسی نشین بھول جاتا ہے۔ ہر آنےوالے دن کےساتھ عوام اور استعماری طاقتوں کے کارندے مسلم حکمرانوں کے درمیان خلیج بڑھتی اور واضح تر ہوتی جارہی ہے۔پاکستان کے عوام جو آج بے حس،بے درد عاقبت نااندیش حکمرانوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔تربیتی دور سے گزر رہے ہیں۔
یہ قوم صبر کی زبردست تربیت پار ہی ہے۔ گیس کی طویل لائنوں میں صبر، روزہ یوں بھی صبر اور تربیتِ جہاد فراہم کرتا ہے اس پر مستزاد لوڈشیڈنگ اور قیامت خیز گرمی ہے۔بجلی نہ ملنے پر بھی بڑے بڑے بلوںکی ادائیگی،غلط بلوں کی درستگی کیلئے دفتردر دفتر مارے مارے پھرنا۔پوری فدویت سے بغیر بجلی، بل کی ادائیگی کا تحمل،قوم صبر کی بھٹی میں تپ تپ کر کندن ہونے کو ہے۔بس تیونس والا ٹھیلہ کوئی الٹنے کو ہے کہ یہاں بھی۔ فارالنشور۔ تنور ابل پڑےگا اور پھر....
اسی خلقِ خدا کے ملبے سے اک گونج کہیں سے اٹھتی ہے
یہ دھرتی کروٹ لیتی ہے اور منظر بدلے جاتے ہیں
یہ طبل و علم یہ تخت شہی سب خلقِ خدا کے ملبے کا
اک حصہ بنتے جاتے ہیں
 ہر راج محل کے پہلو میں اک رستہ ایسا ہوتا ہے
مقتل کی طرف جو کھلتا ہے اور بن بتلائے آتا ہے
تختوں کو خالی کرتا ہے اور قبریں بھرتاجاتا ہے
 شامی قصاب بشارالاسدکے ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں،آگ برساتے ہوائی جہازوں کے مقابل آہنی عزم لئے جبرو استداد کا مقابلہ کرتے جی داروں کو دیکھئے۔لیبیا کا دیوانہ اور مصر کا درندہ ٹھکانے لگ چکے اب شام کی باری ہے۔ امتِ مسلمہ کو یکے بعد دیگرے دنیائے کفر کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی آزادی واپس لینی ہے ۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں امریکہ ہر جگہ اپنے عزائم میں ناکام،اپنا اثرورسوخ کھو رہا ہے۔پاکستان اب بھی اسی کے در کا غلامِ بے دام بنا ہوا ہے۔ نیٹو سپلائی کی بحالی(مفتا مفت) ڈرون حملوں کا تسلسل(جس پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ بھی چیخ اٹھے۔ ہماری زبانوں پر تالے ہیں) ان کی ہماری آنیاں جانیاں اس ذلت بھری دوستی کا ثبوت ہے۔
رمضان میں اللہ کے آگے جھولی پھیلانے کی بجائے امریکہ کے در پر حاضری دی جارہی ہے۔ دیہات سے خیرات اکٹھی کرنے فقیر بڑے شہروں میں امڈ آتے ہیں اور ہمارے بڑے وصولی خیرات کیلئے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہیں!
 امریکی جذبات پاکستان بارے دیکھنے کو گزشتہ کالم میں مذکورہ فلم(Last Resort) کے ٹریلر کی تفصیل چونکا دینے کو کافی ہے۔اگرچہ یہ فلم ہے لیکن امریکی میڈیا اور پالیسیاں باہم دگر معاونت کرتی ہیں۔ فیلرز چھوڑے جاتے ہیں۔ردّعمل جانچا جاتا ہے اور عمل کی بنیاد بھی فراہم ہوجایا کرتی ہے۔اس فلم میں دنیا کی سب سے طاقتور امریکی ایٹمی آبدوز کو وائٹ ہاﺅس سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ پاکستان پر ایٹمی حملہ کردیاجائے۔آبدوز کا کپتان پوری آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹادینے والے اس حکم پر رضامند نہیں ہوتا۔ حکم عدولی پر اسے معطل کرکے نائب کپتان کو یہی حکم دیاجاتا ہے جب وہ بھی پوری آبادی مٹا دینے والے اس حکم پر گریز کا رویہ اپناتا ہے تو آبدوز کو بھگوڑا قرار دیدیا جاتا ہے....یہ صرف ٹریلر ہے۔
 تاہم امریکی مزاج، پاکستان بارے اس کے عزائم کا ایک واضح پرتوضرور ہے۔امریکی تھنک ٹینک کانگریس، اخبارات سب پاکستان کی تضحیک، تحقیر، تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے۔ ہم پھر بھی اس بھیانک، خونخوار، خودکش جنگ سے نکلنے کا کوئی اراہ نہیں رکھتے۔ یہی فلم بھارت پر بنائی گئی ہوتی تو سیاسی سفارتی طوفان اٹھ جاتا۔ہم نجانے کس انجام کے منتظر ہیں۔اسکے نوٹس کے بعد اب بھی وقت ہے۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ایمان کے اسباق رمضان میں (27 رمضان۔یوم آزادی!) تازہ کرکے کمرِ ہمت کس کے،اس دیوانے اتحاد سے باہر نکلئے۔ فاصلہ صرف ایک سجدے کا ہے اس عفریت سے آزادی حاصل کیجئے۔کیا ستم ہے کہ....
مثالِ ماہ چمکتا تھا جس کا داغِ سجود
 خریدلی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
 مغفرت کے عشرے میں داغِ سجود تازہ کیجئے چمکائیے۔ اسی میں پاکستان کی بقا مضمر ہے۔