بھارت کے صدارتی انتخابات .... تقابلی جائزہ

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
بھارت کے صدارتی انتخابات .... تقابلی جائزہ

سرور منیر راﺅ
ہمارے ہاں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات اگلے سال متوقع ہیں ۔جبکہ بھارت میں صدارتی انتخابات گزشتہ ہفتے ہوئے جن میں کانگریسی رہنما پرناب مکر جی بھارت کے تیرھویں صدر منتخب ہو ئے ، انہوں نے اپنے حریف بی اے سانگما کو واضح شکست دی۔ پرناب مکر جی کانگریس کی سربراہی میں قائم یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کے مشترکہ امیدوار تھے۔
بھارتی صدر کو ریاست کا سربراہ اور پہلے شہری کا مقام حاصل ہوتا ہے۔صدر بھارتی مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہے تا ہم پارلیمانی طرز حکومت کی وجہ سے اس کی زیادہ حیثیت نمائشی ہے۔ بھارتی صدر کو ہندی میں اراشٹر پتی کہتے ہیں۔صدر کا انتخاب ایک ایکٹورل کالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کے ممبران جن میں لوک سبھا، راجیا سبھا اور Vidhanسبھا شامل ہیں ۔ان انتخابات میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نے حق رائے دہی میں حصہ لیا۔ صدر کے عہدے کی معیاد پانچ سال ہے۔
پرناب مکرجی بھارت کے تیرھیوں صدر ہیں ان سے پہلے سات ایسے افراد صدر رہ چکے ہیں جو سیاسی جماعتوں کے ممبر تھے ان میں سے چھ کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے تھا۔ بھارت میں اب تک جو شخصیات صدر رہ چکی ہیں ان میں راجندر پرشاد، رادھا کرشنا، ذاکر حسین، وین کٹاگری، محمد ہدایت اللہ، وین کٹاگری(دوبارہ)،فخرا لدین علی احمد، دناپا جیدی،نیلم سنجیوریڈی ، گیانی ذیل سنگھ، رماش ورمے وینکٹارام، شنکر دیال شرما، رام نارائن، عبد الکلام، پتی بھا پاٹیل اور برناپ مکر جی صدر بنے ۔
76سالہ پرناب مکر جی پرانے کانگریسی ہیں وہ موجودہ حکومت میں خزانہ کے وزیر بھی رہے بطور وزیر خزانہ ان کی کارکردگی کو بار ہا تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بھارتی سرمایہ کاروں اور تاجروں نے ان کی پالیسیوں کو کبھی نہ سراہا۔ پرناب مکر جی کے صدر بننے کے بعد وزارت خزانہ کا قلمدان اب وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پاس ہے پرناب مکر جی کا سیاسی کیرئیر کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔وہ وزیر خزانہ بننے سے پہلے کابینہ میں امور خارجہ اور دفاع کے وزیر بھی رہے ہیں۔ اندرا گاندھی کے وزارت عظمیٰ کے دور میں اختلافات کی وجہ سے انہیں کانگریس پارٹی سے نکال بھی دیا گیا۔انہوں نے ان ایام میں ایک نئی سیاسی جماعت راشٹریہ سماج وادی پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ کانگریس میں انہیں Trouble Shooter کا نام بھی دیا گیا۔
پرناب مکر جی کے دور صدارت میں بھارت کو کس صورت حال کا سامنا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا فوری طور پر ان کوجن اہم امور کا سامنا ہے ان میںایک اہم مسئلہ ایسے گیارہ افراد کی سزائے موت کی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ کرنا ہے جن کو سبکدوش ہونے والی صدر نے التواءمیں رکھا تھا۔ ان میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں سزا پانے والے محمد افضل گروہ بھی شامل ہیں۔
پرناب مکرجی کے سامنے اس سے بھی اہم مسئلہ کشمیر ایشو ہے‘ جو پچھلے64 سال سے لٹکا ہوا ہے۔ جس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے۔ نئے صدر نے پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعلقات کی بات کی ہے‘ یہ دوستی اور تعلقات مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک پائیدار نہیں ہو سکتے۔ پرناب مکرجی یہ مسئلہ حل کرکے خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
بھارت کے سیاسی نظام میں صدر کا عہدہ بلا شبہ نمائشی حیثیت کا حامل ہے لیکن ایک رہنما اور سربراہ ریاست کے طور پر صدارتی منصب پر فائز شخص پالیسی سازی کے عمل پر کسی حد تک اثرانداز ہو سکتاہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے صدور کی حیثیت کا جائزہ لیں تو ہمارے سیاسی نظام میں پارلیمانی طرز حکومت ہونے کے باوجود بھی صدر کی حیثیت خصوصی ہے۔اس کی اہم وجہ صدارتی منصب پر ایسے افراد کی موجودگی ہے جو بیک وقت سربراہ ریاست بھی ہیں اور سیاسی جماعت کے کو چیئر مین بھی۔ اگرچہ آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات کم کر دئیے گئے ہیں لیکن پارٹی چیئرمین کا عہدہ رکھنے کی وجہ سے وزیر اعظم کو صدر کے تابع ہی تصور کیا جاتا ہے۔