نیوز

15 اکتوبر 2017

لاہور(لیڈی رپورٹر) پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین نے سینٹ میں چائلڈمیرج ایکٹ1929؁ میں موجوزہ ترمیم ،جو کہ شادی کیلئے عمر کی حد 18سال مقرر کرنے کے حوالے سے تھی ،کو مسترد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے اس بل کو رد کر دیا گیا ہے جس کی بدولت نہ صرف کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کیلیے مدد حاصل ہو سکتی تھی بلکہ تعلیم اور صحت کو بھی فروغ ملتا۔ اس سے حکومت کا عورتوں کو حقوق دلوانے کا وژن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔چیئرپرسن پی سی ایس ڈبلیو فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستانی خواتین اور لڑکیاں معاشرے میں موجود فرسودہ رواج اور حق تلفی کے خلاف بر سرپیکار ہیں۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں