اخباری تراشہ

نیوز

18 جون 2017

حکومت پاکستان‘ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل۲۵ اے پر عمل نہیں کر رہی۔ آرٹیکل ۲۵ اے میں تحریر ہے کہ پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دینا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں لاکھوں پرائیویٹ سکول پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں اور بچیوں سے فی طالب علم ماہانہ فیس ایک سو روپے سے لیکر پچیس ہزار روپے تک حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کہانی تو پرائیویٹ سکولوں کی تھی۔ ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز تو پرائیویٹ ادارے نہ ہیں۔ رجسٹریشن فیس پانچ سو روپے اور پھر امتحانی داخلہ فیس ۲۳۹۵ روپے تک وصول کی جاتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۵ اے کے تحت سولہ سال تک کے طالب علم سے امتحانی داخلہ فیس وصول نہیں کی جانی چاہئے۔ جب ماورائے آئین اقدامات کا اطلاق ہو رہا ہو تو پیچھے کچھ نہیں بچے گا۔ یونیورسل پرائمری وسیکنڈری ایجوکیشن کے تحت ۳۰-۲۰۱۵ تک چار سال سے سولہ سال تک کے سو فیصد بچے سکولوں میں زیر تعلیم رکھنے کی پالیسی پر عمل کرنے کے لئے بالخصوص حکومت پنجاب نے بہت زور لگا رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو دیکھ کر ہر کوئی کہے گا کہ بے شک تعلیم کے میدان میں بہت کام ہو رہا ہے۔ لیکن حقائق کچھ برعکس ہیں۔ تین سالوں سے مسلسل ٹارگٹ دیا جا رہا ہے کہ گزشتہ سال کے معاملہ میں ششم اور نہم جماعت میں دس فیصد زائد بچے داخل کرنا ہیں۔ ہر سال بیس سے تیس فیصد نئے پرائیویٹ سکول قائم ہو رہے ہیں۔ اور پہلے سے قائم سکولوں کے مالکان نے شہر شہر اور قصبہ قصبہ میں نئی برانچز کھولنا شروع کر رکھی ہیں اور پرائیویٹ سکولوں پر کسی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہے۔ ایسی صورتحال میں مزید دس فیصد بچے داخل کرنا محال ہو چکا ہے۔ صورتحال اس کے برعکس ہوتی جا رہی ہے۔ کہ ایک سرکاری سکول کے اردگرد دس سے بیس پرائیویٹ سکول قائم ہو چکے ہیں ان میں سے بیشتر نجی سکولوں کی سرپرستی حکومت کر رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کے قیام کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ یہ چلے گا کہ ایک تہائی سکول ایسی جگہوں پر قائم کئے گئے ہیں جہاں پر آبادی کا نام و نشان تک نہ ہے اور ان سکولوں تک پہنچنے کے لئے گھڑ سوار اساتذہ کا ہونا ضروری ہے۔ پیدل چل کر جانے کا راستہ بھی نہ ہے۔ ہر روز ناقابل عمل اقدامات کے ای میل کے ذریعے احکامات ملتے رہتے ہیں جن میں سے بیس فیصد قابل عمل ہوتے ہیں اور اسی فیصد ناقابل عمل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں شعبہ تعلیم سکول میں معکوس ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ جانے والے سیکرٹری سکولز داخلوں کے جھوٹے اعداد و شمار دیکر وزیراعلیٰ پنجاب سے داد تحسین سمیٹ کر چلتے بنے اور اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا پیڈا ایکٹ ۲۰۰۶ءکے تحت بھرکس نکال کے رکھ دیا گیا ہے۔ افسوس کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں کہ تعلیم کی تباہی کے ذمہ دار انعام و اکرام اور ترقیوں کے حقدار ٹھہرے اور علم دوست اساتذہ جنہوں نے ایمانداری سے فرائض منصبی ادا کئے اور حقائق سے کام لیا ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جان کی امان پا¶ں خادم پنجاب صرف مجھے تین دن دے دے تو میں ا س کے سیکرٹریوں کا پول کھول کر رکھ دوں اور اسے کچھ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکول دکھا¶ں کہ ان میں زیر تعلیم بچے کہاں ہیں؟ قصوروار سربراہان سکولز یا اساتذہ نہ ہیں۔ اس خرابی کے ذمہ دار بالا حکام تعلیم پنجاب بالخصوص بیوروکریٹس ہیں کہ جنہوں نے ایسے اہداف دئے کہ سربراہان سکولز نے اپنی جان بخشی کرنے کے لئے فرضی انرولمنٹ اور نقل جیسی برائی کو اپنا کر بہتر نتائج ظاہر کئے جبکہ امتحان پاس کرنے والے طلباءکو بعد میں وہی سوالیہ پرچہ دے دیا جائے تو وہ حل کرنے کی بجائے خالی دے جائیں گے۔
راقم معلم اور ہیڈ معلم ہے۔ اگر اہداف اسی طرح حاصل کرنے ہیں تو پھر طلباءکے فرضی نام لکھ کر انرولمنٹ بڑھا چڑھا کر دیتے رہیں گے بعض سکولوں کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بچے چالیس ہیں اور بچوں کی تعداد چار سو ہے۔ حکومت پنجاب کا دعویٰ ہے کہ ننانوے فیصد انرولمنٹ ٹارگٹ حاصل کر چکے ہیں تو ملتان کے پوش علاقے کی کوٹھیوں میں مستقل کام کرنے والے بچوں اور بچیوں کا سروے کروا لیا جائے تو آنکھیں کھل جائیں گی اور دماغ روشن ہو جائے گا۔ حکومت پنجاب واقعی تعلیم پر بہت خرچ کر رہی ہے۔ لیکن سرکاری سکولوں میں غیر موجود سہولیات میں کمی نہیں ہو پا رہی۔ قیام پاکستان سے لیکر ۱۹۸۰ءتک تقریباً سو فیصد سرکاری سکول ہی تھے چونکہ پرائیویٹ سکول۱۹۷۱ءمیں نیشنلائزڈ کر لئے گئے تھے بعد ازاں ۱۹۸۵ءسے لیکر اب تک پرائیویٹ سکولوں کا جال بچھ گیا ہے اور سرکاری سکولوں کو موجودہ قواعد وضوابط کے تحت چلانا بہت مشکل ہے۔ سرکاری سکولوں کے انتظامی ڈھانچوں میں بار بار تبدیلیاں کرکے سرکاری سکولوں کا اکیڈمک سٹرکچر تباہ کر ڈالا ہے البتہ خوبصورت عمارتوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں پڑھانے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کے بچے تو بیرون ملک میں ہیں۔ تلچھٹ سے بھی تلچھٹ عوام کے بچوں کی سرکاری سکولوں میں زکواة و صدقات اور عطیہ جات کے فنڈز سے تعلیمی آبیاری کی جا رہی ہے جس بیدردی سے تعلیم کے نام پر فنڈز کو اڑایا جا رہا ہے اسکی مثال کسی دوسرے پسماندہ ملک میں نہیں ملے گی۔ اساتذہ کی ٹریننگ کے نام پر اربوں روپیہ ضائع کر دیا گیا ہے جس کا استاد کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کاغذات کاپیٹ بھرنے سے ہی تو ندیں بھریں گی۔ افسوس اس بات پر ہے کہ سرکاری سکولوں اور اساتذہ کی موجودگی میں غریبوں کے بچے تعلیم میں امیروں کے بچوں سے پیچھے کیوں؟ سیاست ہو رہی ہے اگر تعلیم کے میدان میں آج بھی مخلصانہ کوششیں شروع کر دی جائیں تو ہم اپنے پا¶ں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ شعبہ تعلیم سکولز میں ناقابل عمل اقدامات اور اصلاحات کے نفاذ سے سربراہان سکولز کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے سے مطلوبہ تعلیمی مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔ آج بھی مسجد مکتب کے استاد یعنی امام مسجد کو دوسو روپے ماہوار دیا جا رہا ہے۔
٭٭٭٭٭٭


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں