اخباری تراشہ

نیوز

14 اگست 2017
کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

مسلمانان ہند کی حالت زار قابل رحم تھی۔ کوئی منزل تھی نہ کوئی رہبر جو برصغیر میںبکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک قوم کے قالب میں ڈھال سکے کوئی راہ نجات دکھائے کسی نئی منزل کا تعین کرے۔ ہندوﺅں کے ساتھ آزادی کی تحریکیں چلائیں مگر ہندو کا تعصب آڑے آ جاتا وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے لہٰذا ہر موقع پر دھوکہ فریب ہی ملا۔ بالآخر مسلم لیگ کے اجلاس الہٰ آباد 1930ئ حضرت علامہ اقبال نے اپنے خطبہ صدارت میں ایک منزل کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا
ہندوستان کی تاریخ میں جو نازک وقت آج مسلمانوں پر آچکا ہے اس کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے اندر وحدت افکار و عمل پیدا کرے۔ مکمل طور پر منظم ہوجائیں ان کی یہ تنظیم ملت اسلامیہ اور ہندوستان دونوں کے حق میں مفید ثابت ہو گی۔ ہندوستان کی غلامی ایشیاءبھر کےلئے لامتناہی مصائب کا سرچشمہ بن رہی ہے۔ اس غلامی نے مشرق کی روح کو کچل ڈالا ہے اور اس ملک کو اظہار خودی کی اس مسرت سے محروم کر دیا جس کے فیض سے کبھی ایک عظیم الشان اور درخشاں کلچر کی تخلیق کا موجب بنے گی جس سرزمین کے ساتھ ہماری زندگی اور موت وابستہ ہو چکی ہے اس کی طرف سے ہم پر ایک فرض عائد ہوتا ہے ہم پر ایشیاءبالخصوص مسلم ایشیاءکی طرف سے بھی کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ تنہا ایک مسلم ملک میں سات کروڑ فرزندان توحید کی جماعت کوئی معمولی چیز نہیں۔ مسلم ایشیاءکے ممالک مجموعی طور پر اسلام کے لئے اتنی گراں قدر متاع نہیں جتنے اکیلے ہندوستان کی ملت اسلامیہ۔ اسی لئے ہمیں ہندوستان کے مسئلے کو صرف ایک زاویہ نگاہ سے نہیںدیکھنا چاہئے کہ ہندوستان میں اسلام کا حشر کیا ہو گا؟ بلکہ اپنی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس نقطہ خیال سے بھی کہ ہماری موت و حیات کا عالم اسلام پر کیا اثر پڑے گا؟ میری آرزو ہے کہ پنجاب صوبہ سرحد سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک واحد ریاست قائم کی جائے۔ ہندوستان کی حکومت خودمختاری زیر سایہ برطانیہ ملے یا اس سے باہر کچھ بھی ہو مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کا قیام کم از کم اس خطے کے مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے۔
حضرت علامہ کے تصور نے گمراہ اور بدحال مسلمانوں کو نشان منزل دے کر رسائی کےلئے نہ صرف وحدت افکار و عمل کا نسخہ کیمیاءعطا فرمایا بلکہ حصول منزل کےلئے ایک رہبر اور رہنما بھی قوم کو دیا جو منزل مقصو د تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حضرت علامہ اقبال کی نظر انتخاب اس مرد برحق پر مرکوز ہوئی جو ہندو کی مکاری اور انگریز کی عیاری کو نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ ان سب سے نمٹنے کی بھرپورصلاحیت اور اہلیت کا حامل تھا لہٰذا اقبال نے حضرت قائد کوجو خط ارسال کیا اس میں یہ درج ہے " ہندوستا ن میں آپ ہی کی ذات ایسی ہے جس سے قوم کو یہ امیدیں وابستہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ مستقبل میں جو سیلاب آنے کا خدشہ ہے اس میں صرف آپ ہی قوم کی رہنمائی کر سکیں گے"
حضرت قائداعظم کے دل میں پہلے ہی قوم کےلئے دردپنہاں تھا۔ انہوںنے تو مسلم حقوق کے لئے اپنی وکالت کے آغاز ہی میں گراں قدر کارنامے سرانجام دیے۔مسلم قوم کی قیادت سرانجام دیتے ہوئے اپنی صحت اور زندگی کی پرواہ کئے بغیر رات دن ایک کیا اور قوم کو سبز ہلالی کے پرچم کے سائے میں متفق اور متحدکر دیا۔ آپ نے کمال مہارت سے ایک جانب ہندو اور انگریز کی تمام تر شرانگیزیوں کا مقابلہ کیا دوسری جانب اپنے ہی بھائی بند علماءکی دشنام طرازیوں اور سازشوں کا ناکام بنایا۔ آپ نے بیرونی دنیا مسلمانوں سے رابطہ قائم رکھا۔ 19 دسمبر 1946ءقاہرہ (مصر) میں قائداعظم نے اہل مصر کو تحریک پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا "ہم نے ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی حصوں میں جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مسلم ریاستوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے کو ہم نے پاکستان کا نام دیا اس سلسلے میں ہمارا عزم یہ ہے کہ ہندوستان کے ان دو خطوںمیں مسلمانوں کی آزاد ریاستیں قائم کریں۔ ان پاکستانی ریاستوں میں ہم کسی دوسرے کی مداخلت سے آزاد اپنے اسلامی ورثے کی حفاظت اوراپنی شاندار تہذیب و ثقافت کی شان و شوکت بحال کر سکیں۔ مسلمان اپنے ضابطہ حیات اپنی تہذیب و ثقافت اپنا معاشرتی نظام اپنا قانونی نظام اور دین رکھتے ہیں اگر ہندوستان ایک ہی رہے تو وہاں مسلمانوں اور ہندوﺅں کا تناسب ایک تین ہوگا اور ہندو اکثریت کسی بھی وقت اسلامی تہذیب و ثقافت کو فنا کر دے گی۔ اس لئے پاکستان کا قیام مسلمانوں کےلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے (ڈان 29 دسمبر 1946)
قائداعظم نے مختصر سے عرصے میں تمام اندرونی بیرونی دشمنوں کو چاروں شانیں چت کر کے مسلمانان ہند کو منزل مراد تک پہنچانے کا وہ کارنامہ سرانجام دیا جس کی تاریخ انسانی میںمثال نہیں ملتی۔ 14 اگست 1947ءفتح مبین کا دن حصول منزل کے سنگ میل کا دن بڑی قربانیوں سے گزرنے کے بعد نصیب ہوا اس آزادی کےلئے ہمارے بزرگوں نے بڑی مصیبتیں جھیلیں، جانیں قربان کیں، عزتیں گنوائیں پھر جا کر یہ دن دیکھنے کو نصیب ہوا۔



ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں