اخباری تراشہ

نیوز

13 جولائی 2017
کالم نگار  |  شاہد رشید

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں اسرائیل کا تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورہ کے دوران بھارت اور اسرائیل نے خلائی میدان میں تعاون بڑھانے ، باہمی تجارت میں اضافے اور دفاع سمیت سات معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے انتہاپسند ہندو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ایک یہودی مملکت میں شاندار استقبال کیا گیا ۔ نریندر مودی جب تل ابیب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تمام پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود ایئرپورٹ جا کران کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا ۔عمومی طور پر اسرائیل میں ایسا استقبال امریکی صدور کیلئے مختص ہے۔ بھارت اور اسرائیل میں اس دورہ کو غیر معمولی کوریج دی گئی اور تمام اخبارات و ٹی وی چینلز نے خصوصی اشاعت اور پروگرام نشر کیے جبکہ عالمی سطح پر بھی اس دورہ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے قیام سے لیکر حالیہ چند برسوں تک اسرائیل سے اپنے تعلقات کوئی زیادہ پر جوش نہیں رکھے ہیں ۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ بھارت ایران اور عالم عرب سے تیل کا بہت بڑا خریدار ہے اور وہ اسرائیل کی طرف اپنا جھکاﺅ رکھ کر عرب ممالک سے اپنے تعلقات کو بگاڑنا نہیں چاہتا۔ دوسری وجہ یہ کہ لاکھوں بھارتی روزگار کے سلسلے میں عرب و خلیجی ممالک میں قیام پذیر ہیں اور بھارت اسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کر کے ان لاکھوں شہریوں کیلئے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا جبکہ تیسری وجہ بھارت میں 30کروڑ سے زائد مسلمان ہے جو کسی صورت اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کے حق میں نہیں ہیں۔ اب بھارت کا اسرائیل کی طرف واضح جھکاﺅ اور دورہ کے دوران فلسطینی علاقے کا دورہ نہ کرنا اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ عالمی سطح پر غیر مسلم طاقتیں مسلم مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے متحد ہو چکی ہیں۔
بھارت اسرائیل تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو 15اگست 1947ءکو بھارت کی آزادی کے تقریباً ایک سال بعد 14 مئی 1948ءکو فلسطین کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کرکے ایک اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔بھارت نے شروع میں حکومتی سطح پر اس قبضہ کی مخالفت کی تاہم دوسری طرف ہندومہاسبھا نے اسرائیل کی کھلے عام حمایت کی ،سیاسی اور اخلاقی طور پر مکمل سپورٹ کیا ،آر ایس ایس کے سربراہ مادھو سدھاشوی گوالکر نے بھی قیام اسرائیل کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ 1950 میں بھارتی حکومت کا موقف بھی بدل گیا، سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں بھارت نے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا اور یہ بیان جاری کیا کہ اسرائیل ایک حقیقت ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ 1953 میں اسرائیل کو ممبئی میں ایک قونصل خانہ بھی قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی تاہم نہرو حکومت نے سفارتخانہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ 1990 میں باضابطہ طور پر سفارتی تعلق قائم ہوگیا اور دونوں ملکوں میں دونوں جگہ کے سفارت خانے بن گئے۔ کانگریس نے ظاہری طور پر اسرائیل سے کچھ دوری اختیار کیے رکھی ۔ تاہم بی جے پی کی انتہا پسند حکومت میں اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش پیدا ہوئی۔ اس سے قبل عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بگڑنے کے اندیشہ کے پیش نظر بھارت کے کسی بھی وزیر اعظم، صدر جمہوریہ یاکسی اور اہم لیڈر نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا حالانکہ تجارتی اور سفارتی رشتہ دونوں ملکوں کے درمیان عروج پر رہا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ دورہ¿ اسرائیل کے دوران اپنے اسرائیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو اور صدر ریون ریولن سے ملاقات کی اور اقتصادی و دفاعی تعاون بڑھانے اور انسدادِ دہشت گردی سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے بعد دونوں وزرائے اعظم کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ”ہماری بات چیت صرف باہمی امور پر ہی مرکوز نہیں رہی بلکہ ہم نے انسداد دہشت گردی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس سے عالمی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ ہم نے اس بارے میں باہمی تعاون پر رضامندی بھی ظاہر کی ہے۔“اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے صنعتی شعبے میں ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لیے 40 ملین ڈالر کے ایک مشترکہ فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اسرائیلی صدر سے ملاقات کے موقع پر نریندر مودی نے دونوں ملکوں میں باہمی قربت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک جملہ ”آئی فار آئی“ ادا کیا یعنی ”اسرائیل فار انڈیا، انڈیا فار اسرائیل۔“ نریندرمودی کے دورہ سے اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ بھارت کی سرزمین کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اپنے قدم جما سکے۔ اسرائیل کے دورہ کے دوران غزہ کے لوگوں کو نظرانداز کرنا بھارت کی مسلم مخالف خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے۔ بہت سے بھارتی تجزیہ کاروں نے بھی وزیراعظم مودی کی جانب سے دورہ کے دوران فلسطینی قیادت کو نظر انداز کرنے کو فلسطین سے متعلق بھارت کے موقف میں ڈرامائی تبدیلی قرار دیا ہے اور اس پر احتجاج کیا ہے۔ فلسطین کے شہر راملہ میں بھارتی قونصل خانے کے باہر اسرائیل کی حمایت کرنے پر بھارت کے خلاف مظاہرہ بھی ہوا ہے۔
انڈیا اور اسرائیل کے گذشتہ 25 برسوں سے سفارتی تعلقات ہیں اور حالیہ برسوں میں ان دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، دفاع، ذراعت، پانی اور توانائی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ بھرپور انداز میں بھارتی موقف دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں، اس حوالے سے انہیں بھارت کی بڑی حزب اختلاف کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو ہم اندرونی انتشار اور سازشوں کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔تنقید برائے تنقید کی سیاست نے قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا اوریہی وجہ ہے کہ پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکا ۔ اس میں ہمارے تمام سیاستدان قصور وار ہیں ۔ گزشتہ ایک سال سے پاکستان کی سیاست میں پانامہ کیس پوری طرح حاوی ہے اور ہر ایک اسی پر بات کر رہا ہے جیسے اس سے بڑا کوئی اور مسئلہ یہاں موجود نہیں ہے۔ میاں نواز شریف نے جب سے عنان اقتدار سنبھالا ہے اپوزیشن مسلسل احتجاج ،دھرنوں اور ہڑتالوں میں مصرودف ہے جس کی وجہ سے انہیں حکومت کے دوران وہ یکسوئی حاصل نہیں ہو سکی جس کا یہ عہدہ تقاضا کرتا تھا ۔ میں ایک مثال کے ذریعے بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں، میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ بھرپور انداز میں اجاگر کیا ۔ ایک طویل عرصہ بعد ایسا ہوا تھا کہ کسی پاکستانی وزیراعظم نے عالمی فورم پر یہ مسئلہ اس انداز میں اٹھایا ہو۔ لیکن اس معاملے پر میاں نواز شریف کی تحسین کے بجائے اپوزیشن نے اسے بھی سیاسی ایشو بنا لیا اور اس میں بھی کیڑے نکالنے لگے۔ پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی محاذوں پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ´ان چیلنجز سے نبٹنے کیلئے سیاسی یکجہتی و اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔محض حکومت کو برا کہنا کافی نہیں بلکہ قومی مفادات کی نگہداشت بھی بہت ضروری ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن مخالفت برائے مخالفت میں قومی مفادات کو نظر انداز نہ کریں۔



ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں