اخباری تراشہ

نیوز

22 جون 2017
کالم نگار  |  ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی

قومی کرکٹ ٹیم کی جیت پر پاکستان کا انگ انگ جگمگا اٹھا‘ کوچہ بہ کوچہ‘ کُو بہ کُو‘ خانہ بہ خانہ‘ یم بہ یم خوشیوں سے لبریز ہو گیا اور بھارت کا کونہ کونہ افسردگی اور مایوسی کی آماجگاہ بن گیا۔ یہ سب کیا ہے؟ کون سے رنگ میں امید کا منظر کھینچوں …؟ جی ہاں! یہ اس خطے میں دو قومی نظریئے کی جیت ہے اور اسی ٹونیشن تھیوری کے دوسرے نام ہیں مسلم تشخص کا نظریہ اور نظریہ پاکستان آپ ذرا سوچئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دیگر ممالک کی ٹیموں سے آشفتہ سر میچ ہوتے رہتے ہیں اور پاکستان کو فتح بھی نصیب ہوتی ہے۔ کیا اس وقت باطنی اور جذباتی سطح پر ایسی صورتحالات پیدا ہوتی ہے؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا جبکہ پاکستان ورلڈ کپ بھی جیتے تو اسکے اندرون خانہ یہ بات موجود ہوتی ہے کہ یہ اعزاز بھارت کو نہیں گیا‘ پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔ اس جداگانہ جذبے اور باطنی قرینے کو آپ کیا کہیں گے؟ یقیناً یہ دو قومی نظریئے سے پھوٹنے والا ایک خوش تر شگوفہ ہے‘ جو خود بتاتا ہے میرے اندر مسلم تشخص کے نظریئے کا رس ہے یہ میٹھاس ہر کلمہ گو مسلمان کے حلق میں مصری کی ڈلی کی طرح محسوس ہوتی ہے اسی لئے اقبالؒ نے برملا کہا تھا …ع
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
اس حقیقت کے زیر نظر آپ دیکھ لیجئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی عظیم الشان فتح پر آج بھی خیبر سے راس کماری تک مسلمان مسرور اور شاداں ہیں۔ جیت کا اعلان ہوتے ہی پاکستان کے ہر گھر میں معصوم بچے اور بڑے ٹیلی ویژن کے سامنے ناچنے لگے‘ بھنگڑے ڈالنے لگے‘ نوجوان سڑکوں پر نکل آئے‘ میٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں‘ اسی طرح مقبوضہ وادی کشمیر میں آتش بازی سے آسمان پر قوس قزح کا سماں بندھ گیا‘ پاکستانی پرچموں کی بہار لگ گئی‘ فضائیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ اور تو اور بنگلہ دیش اور خود بھارتی مسلمانوں کے چہرے دمک رہے تھے‘ جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر میں تعینات ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوجی شکست خوردگی کی علامت بنے ہوئے تھے یہ سب اس خطے میں اسلامیوں کے جداگانہ تشخص کا ہی اعجاز ہے کہ ان کی خوشیاں‘ مسرتیں اور شادمانیاں بھی جداگانہ ہیں۔ مسلمان قوم ایک جسد واحدہ کی صورت میں ہے‘ جس طرح انسانی جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورے جسم میں یہ لہر دوڑ جاتی ہے‘ اسی طرح خوشی و مسرت کا جذبہ بھی پورے وجود میں سرشاری بھر دیتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے 29 دسمبر 1930ء کو خطبہ الہٰ آباد میں کہا تھا ’’دین اسلام محض چند عقائد و رسوم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یورپ میں مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے‘ جو انسانی وحدت کو دو متصادم حصوں روح اور مادہ میں تقسیم کرتا ہے اسکے برعکس اسلام میں خدا‘ کائنات‘ روح و مادہ اور ریاست و کلیسا ایک دوسرے سے منسلک ہیں‘ یعنی تمام کلمہ گو مسلمان ایک قوم ہیں‘‘۔ دراصل مسلمانوں کے دلی جذبات و احساسات اور خوشیوں و غموں کی یکجائی سے ہی انکے قوم واحدہ ہونے کا تصور اجاگر ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا المیہ رہا ہے کہ انہوں نے تاریخ کے بہت سے دوراہوں پر اپنے انفرادی اور اجتماعی وجود کی جانچ نہیں کی‘ انہوں نے سوچا ہی نہیں کہ اسلام ہماری جھولی میں جو اجتماعی تشخص ڈالتا ہے وہ ابتلا کے ادوار میں کس حد تک کارگر ہے؟ اقبالؒ نے اس فکری نقطے کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا‘ چنانچہ اسی خطبہ الہٰ آباد میں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ’’وہ ایک سبق جو میں نے تاریخ سے حاصل کیا ہے وہ یہ ہے کہ مشکل اوقات میں ہمیشہ اسلام نے مسلمانوں کو بچایا مگر مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیںکی۔ آج بھی نظریہ اسلام آپ کی منتشر قوتیں ازسرنو یکجا کر کے آپکے وجود کو ہلاکت و بربادی سے بچا سکتا ہے‘‘۔ اقبال ؒ کا پیغام صدیوں پر محیط اس لئے ہے کہ خطبہ الہٰ آباد کا لفظ لفظ آج بھی 20 کروڑ پاکستانیوں کیلئے حرف امرت ہے جسے ان کو پلے باندھ لینا چاہئے۔ نظریہ اسلام کو فراموش کر کے ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ جس طرح ہمارے اجتماعی وجود کی اسلام حفاظت کرتا ہے‘ اسی طرح ہمیں بھی اس کا محافظ بن کر اپنا قد اونچا کرنا چاہئے۔
میرا تعلق پاکستان بنانے والوں کی تیسری نسل سے ہے اور میرا یہ کہنا برملا ہے کہ ہمیں آج دو قومی نظریہ یعنی نظریہ پاکستان کو مضبوطی سے تھام کر چلنے کی ضرورت ہے اس لئے میں یہ بھی تفاخر کے ساتھ تن کر کہتا ہوں پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی فتح یا شکست دونوں صورتوں میں ہمیں اپنا مسلم تشخص یاد دلا دیتی ہے۔ جیت کی صورت میں جشن اور ہار کی صورت میں غم دونوں ہمارے ازلی اور دائمی باطن کی آوازیں ہیں‘ جو ہمارے داخلی وجود کی گھن گرج ہیں اور خارجی وجود کا تشخص بھی۔ ہم گائے کو ماتا کہنے والوں سے بالکل الگ اور جداگانہ قوم ہیں‘ ہمارا رہنا سہنا‘ کھانا پینا اور چال چلن سمیت زندگی کے تمام طورو اطوار ان سے مختلف ہیں‘ اس کا اندازہ جذباتی طورپر ہمیں اور ساری دنیا کو ہمارے مشترکہ خوش کن اور غم زدہ لمحات دونوں میں زیادہ ہوتا ہے‘ لہذا سلیوٹ کرنا چاہئے ہر دو کی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو جس نے ہمیشہ لاشعوری طورپر دو قومی نظریہ سے آشنا ہونے کیلئے ہماری رہنمائی اور پاسداری کی۔ براعظم پاک و ہند کی مٹی اور اسکی بوباس گواہ ہے مجدد الف ثانیؒ سے لیکر علامہ اقبالؒ تک دو قومی نظریئے کا نظریاتی سفر اسلامیوں نے پل صراط پر کیا‘ انکے قدم ڈگمگائے‘ وہ جھکے اور نہ ہی بکے۔ 1823ء میں بنارس کے ہندوؤں نے اردو زبان کیخلاف تحریک شروع کی تو یہی سبق سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو پڑھایا۔ پھر نہرو رپورٹ نے تو مسلمانوں سے ہندو دشمنی کا سارا چٹا بٹا ہی کھول کر رکھ دیا۔ ہر ابتلا کے وقت مسلمانوں کو بقول اقبالؒ ہمیشہ اسلام نے یعنی اسکی کوکھ سے نکلے ہوئے دو قومی نظریئے نے ہی بچایا۔ قرآن کریم نے لکم دینکم ولی دین کہہ کر اسلامیوں کو دوقومی نظریئے کی روشنی عطا کی اس لئے قائداعظمؒ کا یہ کہنا درست تھا کہ پاکستان اسی روز وجود میں آگیا جب ساحل مالا بار کا پہلا ہندو راجہ سامری مسلمان ہو گیا تھا۔ انہی نظریات کے تحت علامہ اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں یہ بھی کہا ’’ہندوستان ایسے انسانی گروہوں کا براعظم ہے‘ جو مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں‘ مختلف زبانیں بولتے ہیں‘ مختلف مذاہب کے پیروکار ہیں۔ ان میں دو بڑے گروہ ہندو اور مسلمان ہیں‘ ان میں کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ حقیقتاً ان گروہوں کی حیثیت دو قوموں کے مترادف ہے اور متحدہ قومیت کی نفی کرتی ہے‘‘ اب ذرا غور فرمائیے 1928ء کی بدنام زمانہ نہرو رپورٹ کے خالق پنڈت موتی لال نہرو کی متعصب پوتی آنجہانی اندرا گاندھی جب یہ کہتی ہیں ہم نے پاکستان کو دولخت کر کے دو قومی نظریہ بحیرہ عرب میں پھینک دیا تو وہ ذرا یہ بھی بتائیں کہ جب بھارتی کرکٹ ٹیم عبرتناک شکست سے دوچار ہوتی ہے تو بھارتی کھلاڑی کیوں دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں؟ متعصب ہندو ہر شہر میں کیوں آگ بگولا ہو کر ٹی وی تک توڑ دیتے ہیں؟ پورے بھارت میں صف ماتم کیوں بچھ جاتی ہے؟ اگر سیکولر ازم کے تحت کوئی متحدہ قومیت ہوتی تو ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ سب سے بڑی حقیقت یہ کہ خود بھارتی مسلمان پاکستان کی جیت پر خوشی مناتے اور شاد ہو کر اپنے طورپر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
دو قومی نظریہ جو دراصل نظریہ پاکستان ہے اپنی چمک دمک سے اب بھی نظروں کو خیرہ کر رہا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں