اخباری تراشہ

نیوز

22 جون 2017
کالم نگار  |  اسلم خان…چوپال

میچ کب کا ختم ہوچکالیکن جشن فتح جاری ہے کرکٹ میچ صرف اوول گراﺅنڈ میں نہیں ہوا تھا اس کا اصل میدان تو سری نگر کا لال چوک اور ڈھاکہ کی مساجد تھیں جہاں ہزاروں بنگالی پاکستان کی فتح کےلئے سربسجود تھے۔ کرکٹ کی فتح نے تین باتیں واضح کر دی ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ تمام تعصبات پر مبنی تقسیم مصنوعی اور عارضی ہے۔ اچھی قیادت اسے پل بھر میں ختم کر سکتی ہے، ہم ہجوم نہیں، ایک قوم ہیں۔ دو قومی نظریہ دیوانے کی بڑ نہیں،ایک حقیقت تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستانی ریاست کی اسلامی شناخت کسی جبر کا نتیجہ نہیں، عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاک بھارت ٹیموں کا میچ ختم ہوا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے سبزہ زاروں' جنت نظر کوہساروں میںیہ میچ اب بھی جاری ہے جس کے کھلاڑی سنگ بدست نہتے نوجوان کشمیری اور مقابل 10 لاکھ بھارتی فوجی ہیں۔ وہ دو قومی نظریہ، جسے پاکستان میں، پاکستانی سر زمین پراجنبی بنایا جا رہا ہے جسے ہمارے کچھ نام نہاد روشن خیال دانشور دیس نکالا دینا چاہتے ہیں موقع پاتے ہی نئے رنگ و روپ میں پاکستان کے دشمنوں کو للکارتا ہوا منظر عام پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اتوار کی شب یہ دو قومی نظریہ پوری آب و تاب سے اوول کی تاریخی کرکٹ گراﺅنڈ میں کچھ ایسے نمودار ہوا کہ ساری دنیا کی نگاہیں چکا چوند ہو گئیں۔ کھیل میں ہار جیت منطقی انجام ہوتا ہے لیکن جس طرح کا رد عمل بھارت میں دکھائی دیا اس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم فطری تقاضا تھا اور فطرت کے مقابل کوئی جیت نہیں سکا۔ سری نگر اور مقبوضہ وادی کے چپے چپے میں جس طرح کرکٹ کی فتح کا جشن منایا گیا ہے۔ جس طرح جواں سال میر واعظ نے عید سے پہلے عید کا نعرہ مستانہ بلند کیا، جس طرح سری نگر کا آسمان آتش بازی سے گل رنگ ہوا اور جو چراغاں مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر میں ہوا وہ تو پاکستان کے کسی شہر میں بھی نہیں ہو سکا۔ سب سے حیران کن رد عمل بھارتی مسلم نوجوانوں کا سامنے آیا ہے جنہوں نے مودی کے رام راج کے سامنے سینہ تان کر پاکستان کی فتح کا جشن منایا اب تک درجنوں نوجوان بغاوت کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید جو حکمران اتحاد کا حصہ ہیں سب پر بازی لے گئے۔ جب ایک ٹاک شو میں لائیو ان سے متعصب اینکر پرسن نے بار بار پاکستان کی فتح پر ان کے جذبات، اندرونی جذبات کے بارے میں ایک ہی سوال بار بار دہرایا تو بھارت نواز اتحاد کا حصہ انجینئر رشید نے برملا کہہ دیا کہ انہیں پاکستان کی فتح پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ جب اینکر نے بھارتی ٹیکسوں پر، اسمبلی رکنیت اور دیگر مفروضوں پر گفتگو جاری رکھی تو انجینئر رشید نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ وہ سرے سے بھارتی آئین کو تسلیم نہیں کرتے وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت مقبوضہ کشمیر اسمبلی کا حصہ ہیں۔ وہ بھارت کے دستور کو تسلیم نہیں کرتے جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں بروئے کار نہیں آتیں وہ پاکستانی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک رہیں گے جس پر وہ بھارتی اینکر جھنجھلاتا رہا اپنا سر پیٹتا رہا۔
کہتے ہیں کہ منہ سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا اس لئے وہ اینکر دہائیاں دیتا رہا۔ لکیر پیٹتا رہا۔ سری نگر کے بعد جشن فتح کا دوسرا مرکز ڈھاکہ تھا جس کا ذکر ہمارے ذرائع ابلاغ نے دیدہ دانستہ، جان بوجھ کر نہیں کہا کہ ہمارے باطل ”روشن خیالوں“ کو ڈھاکہ سے بار بار دو قومی نظریے کا ظہور بالکل پسند نہیں، وہ اسے بنگلہ قوم پرستی کے جوار بھاٹے ہیں ڈبو دینا چاہتے ہیں ہمیشہ کے لئے غرق کر دینا چاہئے ہیں لیکن بھارت کے سرپرستانہ رویئے کے ردعمل اور اسلام سے عام بنگلالی کی بے پایاں محبت کا اعجاز ہے کہ پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں کے باوجود پاکستان سے محبت کا جذبہ دعاﺅں کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا رہتا ہے۔ پاکستان کی فتح کی خبر سنتے ہی ہزاورں نہیں لاکھوں بنگالیوں نے سجدئہ شکر ادا کیا اور نوافل ادا کئے۔ ”صاحب البدر“ پروفیسر سلیم منصور خالد نے میچ کے بعد ڈھاکہ شہر میں عوامی رد عمل اور جوش و خروش پر مبنی وڈیو کلب بھجوائے جنہیں دیکھ کر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ فتح پاکستان کی نہیں بنگلہ دیش کی ہے۔ کرکٹ اور دو قومی نظرئیے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا کرکٹ اور دو قومی نظریے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا یہ باب ہمارے نام نہاد چڑی ماروں اور چڑی بازوں کو قطعاً پسند نہیں ہے۔ ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کی نظریاتی اساس بدلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں لیکن برا ہو کرکٹ کا، انگلستان کی اشرافیہ کے پسندیدہ سیکولر کھیل کا جس میں فتح و شکست کے نظریاتی پہلو انہیں بدمزہ کر رہے ہیں شاید اسی لئے نجم سیٹھی کی مئےناب کے پس منظر والی تصاویر کا رنگ، بد رنگ ہو کر رہ گیا ہے اور خود انہیں اپنے ممدوح کی مخالفانہ نعرہ بازی کو سر جھکا کر سننا پڑا، اس بار پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے قوم کی خوشیوں میں افسروں اور جوانوں کی شرکت کی بروقت تصاویر جاری کر کے کمال کر دیا۔ کرکٹ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کا والہانہ لگاﺅ ہی تھا کہ انہوں نے ساری ٹیم کو عمرہ کرانے کا اعلان کر دیا جس پر بعض بے بصیرت، تیرہ بختوں کو جمہوریت اور جمہوری نظام میں ”مداخلت“ دکھائی دی لیکن یہ سب کچھ عوامی جوش و خروش میں بہہ گیا اور جناب وزیراعظم نواز شریف نے کھلاڑیوں کے لئے فوری طورپر ایک ایک کروڑ نقد انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ شاہی خاندان کے بعض مقربین دعوے کررہے ہیں کہ یہ انعام قومی خزانے سے نہیں وزیراعظم نواز شریف جیب خاص سے دیں گے۔
معاملہ اگر کھیل تک محدود ہوتا تو بھارت میں اتنا المناک رد عمل سامنے نہ آتا تین دن گزرنے کے باوجود سارے بھارت پر سکتہ طاری ہے اب ماتم کی جگہ سوگ نے لے لی ہے۔ جس کی کہانی ہماراخالدی سنا رہا ہے۔ خالد محمود مدتوں سے دفتر خارجہ اور سفارتی سرگرمیاں رپورٹ کررہے ہیں، ہمارے پیارے خالدی اپنے آپ کو خالصتاً پیشہ وارانہ امور تک محدود رہتے ہیں نظریاتی اور سیاسی دھڑے بندیوں سے کوسوں میل دور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اس لئے استفسار پر ہمیشہ بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کرکے آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ شبِ گذشتہ بتا رہے تھے کہ بھارت میں جاری سوگ ختم ہونے میں نہیں آرہا ہے، انہوں نے کسی جاننے والے کا کاروباری ویزا جلد پراسیس کرانے کی درخواست کی تو انہیں بتایا گیاکہ بھارت میں ہر چیز بند ہے اس لئے اس وقت جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کاروباری معاہدے اور دیگر تفصیلات پر جواب ملا کہ سارے کاروبار بھی بند پڑے ہیں معاہدے کون کرے گااس لئے انتظار کریں۔ سرشام ٹاک شوز میں پاکستان اور پاکستانی ٹیم کا مذاق اڑانے والے ماتم کرنے کے بعد تھک ہار کب کے سو چکے ہیں سوشل میڈیا پر ”فاردر ڈے“ کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنانے والوں کو ہمارے نوجوانوں نے بڑے کرارے جواب دیئے ہیں۔ بھارت کے حجم کی بنا پر اسے والد اور پاکستان کو بیٹا قرار دینے والوں کو بتا دیا گیا کہ پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا تھا جبکہ بھارت ایک دن بعد 15 اگست کو آزاد ہوا تھا، اس لئے تاریخی اعتبار سے پاکستان کو بھارت کا والد گرامی ہونے کا شرف حاصل ہے جس پر علم الکلام کے مظاہرے کرنے والے متعصب ہندو اپنا سا منہ لے کر خاموش ہو گئے۔ اب کی بار خالصتانی سکھوں نے اپنے انوکھے انداز میں جشن فتح منایا اور اسے ہندو بنئے پر متحدہ پنجاب کی فتح قرار دیا۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر ہمارے پاکستانی بدباطن جعلی دانشوروں کو سانپ سونگھ گیا کہ جس دو قومی نظرئیے کو وہ بھولا بسرا خواب بنانا چاہتے تھے۔ وہ اوول گراﺅنڈ کے سبزہ زار سے نئی طاقت اور قوت کے ساتھ نمودار ہو چکا ہے۔ سری نگر اور ڈھاکہ میں جلوہ گر ہے۔حرفِ آخر یہ کہ ضلع میانوالی کے ریٹائرڈ سکول اساتذہ کو گذشتہ 3 ماہ سے پنشن نہیں ملی، خادم اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی درخواست ہے کہ ان بے نوا، بے صدا بزرگوں کی داد رسی فرمائیں اور ان کے لئے عید کی خوشیاں دوبالا کر دیں۔



ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں