اخباری تراشہ

نیوز

06 جون 2017
ایڈیٹر  |  اداریہ

پاک فوج کا کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا پوری قوت سے جواب دینے اور اس کیلئے جگہ اور وقت کا خود انتخاب کرنے کا ٹھوس پیغام
پاک فوج نے بھارت پر واضح کیا ہے کہ ہم ایل او سی پر امن برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہیں تاہم اسکی کسی بھی مہم جوئی کا پوری قوت سے جواب دیا جائیگا جس کیلئے جگہ اور وقت کا انتخاب ہم کرینگے اور اسکی تمام تر ذمہ داری بھارت کے جارحانہ طرز عمل پر ہوگی۔ اس سلسلہ میں آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں گزشتہ روز بتایا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری اپریشنز کا بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر سیزفائر کی حالیہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں خصوصی ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے جس کے دوران پاکستانی ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بھارتی فوجیوں کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ اور بے گناہ شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا۔ اس سلسلہ میں بھارتی فوجوں کی یکم جون کو بٹل‘ تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹر میں سیزفائر لائن کی خلاف ورزی کا بطور خاص تذکرہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل اور غلطی سے ایل او سی عبور کرنے والوں کو درانداز قرار دینا انتہائی غیرپیشہ ورانہ اور غیرفوجی عمل ہے۔ اس سلسلہ میں پاک آرمی نے مبینہ دراندازی کے حوالے سے بھارت سے قابل کارروائی ثبوت طلب کئے اور بھارتی ڈی جی ایم او کو باور کرایا کہ وہ مسئلہ کی درست نشاندہی کیلئے اپنی صفوں میں جھانکیں۔ اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے باور کرایا کہ کشیدگی میں اضافہ پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ ملک کی مسلح افواج اور قوم وطن کے چپے چپے کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکومت نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے حوالے سے چونکہ بھارت شروع دن سے ہی بدنیتی رکھتا ہے جس کا وہ پاکستان پر مسلط کی گئی تین جنگوں اور سانحۂ سقوط ڈھاکہ کی شکل میں اسے دولخت کرکے عملی مظاہرہ بھی کرچکا ہے اس لئے اسکے مقابل خود کو سیسہ پلائی دیوار بنانا ہی ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری مسلح افواج دشمن کی ہر جارحانہ سوچ پر اسے ناکوں چنے چبوانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جو دنیا کی مانی ہوئی باصلاحیت اور مشاق افواج ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت ہماری امن کی خواہش کو ہمیشہ ہماری کمزوری سے تعبیر کرتا ہے چنانچہ اسکی کسی جارحیت یا جارحانہ سوچ کے جواب میں ہماری جانب سے اسے دوستی اور مذاکرات کا پیغام جاتا ہے تو اسکے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں اور وہ ہماری سلامتی کیخلاف سازشوں میں کھلم کھلا سرگرم عمل ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بی جے پی کی موجودہ مودی سرکار کے دور میں ہمارے حکمرانوں کی جانب سے بھارت کیلئے خیرسگالی کے جذبے کا کچھ زیادہ ہی اظہار ہوا ہے چنانچہ اس بچھو کو ہمیں ڈنک مارنے کیلئے کوئی خاص تردد نہیں کرنا پڑتا۔
نریندر مودی کی ہندو انتہاء پسندی والی جنونیت تو ویسے ہی ضرب المثل بن چکی ہے جنہوں نے لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کی بنیاد ہی پاکستان دشمنی پر رکھی تھی۔ چنانچہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے پارٹی منشور اور پاکستان کے بارے میں اپنی پراگندہ سوچ کے عین مطابق اپنے اقتدار کا آغاز ہی پاکستان بھارت سرحدی کشیدگی بڑھا کر کیا جبکہ انکے اقتدار کے اب تک کے تین سالوں کے دوران کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری نہ کی گئی ہو۔ اس بھارتی بربریت کا اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین بھی کنٹرول لائن کا دورہ کرکے متعدد بار جائزہ لے چکے ہیں جبکہ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کی بھارتی گیدڑ بھبکی اور آئے روز کی بھارتی جارحانہ کارروائیوں کی بنیاد پر آج اقوام متحدہ اور عالمی قیادتوں سمیت پوری اقوام عالم کو بھارتی مذموم عزائم کا ادراک ہوچکا ہے چنانچہ بھارت کی پیدا کردہ سرحدی کشیدگی سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوتے دیکھ کر عالمی اداروں اور قیادتوں کی جانب سے پاکستان بھارت مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے اور اس کیلئے کردار ادا کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا جاتا ہے۔
پاکستان تو بھارت سے کسی بھی سطح کے مذاکرات کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے جس کا ہمارے حکمرانوں کی جانب سے باربار اعادہ کرکے اپنی کمزوریوں کا تاثر بھی دیا جاتا ہے مگر اسکے برعکس بھارت نے اب تک ہر سطح کے دوطرفہ مذاکرات کی بساط خود ہی الٹائی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کا اعادہ کرکے اس نے دوطرفہ مذاکرات کو ویسے ہی بے معنی بنا دیا ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یواین قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو استصواب کے حق سے بھی محروم کر رکھا ہے اور پھر شملہ معاہدے کے ذریعے باہمی تنازعات کسی عالمی اور علاقائی فورم پر لے جانے کا راستہ روک کر بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی غیرمؤثر بنانے کی سازش کی جبکہ وہ خود کشمیر ایشو پر دوطرفہ مذاکرات کی راہ پر ہی نہیں آتا۔ اس بارے میں تاریخ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ وزراء اعظم سے سیکرٹریوں کی سطح تک کے مذاکرات اب تک بھارت نے کوئی نہ کوئی عذر نکال کر اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے خود سبوتاژ کئے ہیں اس لئے اس سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کرنے پر آمادہ ہو جائیگا۔ اگر اس معاملے میں اسکی نیت صاف ہوتی تو وہ کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کا راگ مسلسل الاپتا کیوں نظر آتا اور استصواب کے حق کیلئے سڑکوں پر آنیوالے کشمیری عوام کا جینا دوبھر کرنے کے ظالمانہ ہتھکنڈے کیوں اختیار کئے رکھتا جبکہ گزشتہ ایک سال سے بطور خاص کشمیری نوجوانوں پر پیلٹ گنوں کی فائرنگ کے جاری سلسلے سے اسکے مظالم دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکے ہیں جن سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے وہ پاکستان پر دہشت گردی اور دراندازی کا ملبہ ڈالنے کے موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
اگر بھارت کنٹرول لائن پر بھی روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہا ہے اور پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کررہا ہے اور اسی طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں بھی مظالم کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہے جس کیخلاف بھارت کے اندر سے بھی اضطراب کے اظہار پر مبنی آوازیں اٹھ رہی ہیں تو اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خوشدلی سے اور رضاکارانہ طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیگا۔ ایسے شاطر دشمن سے پرخلوص دوستی تو کجا‘ رسمی خیرسگالی کی توقع رکھنا بھی بے معنی ہے کیونکہ بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے تو گزشتہ روز بھی اپنی پریس کانفرنس میں کشمیر کو بھارتی اٹوٹ انگ قرار دے کر بھارتی ڈھٹائی کا ہی اعادہ کیا ہے۔ انہیں دوطرفہ مذاکرات کیلئے شملہ معاہدہ تو یاد ہے اور واجپائی دور کے اعلان لاہور کو بھی وہ مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق حل کیخلاف ڈھال بنائے ہوئے ہیں مگر دوطرفہ مذاکرات کیلئے عملی پیش رفت کا آج بھی بھارت کی جانب سے کوئی امکان نظر نہیں آرہا کیونکہ جب بھی کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات کی فضا ہموار ہوتی نظر آتی ہے تو بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کے منابع نظر آنے لگتے ہیں جن کو جواز بنا کر وہ مذاکرات کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمہ کے اقدامات کے ساتھ مشروط کردیتا ہے حالانکہ پاکستان میں دہشت گردی کی ساری جڑیں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی پھیلائی ہوئی ہیں جس کا بھانڈہ اسی ’’را‘‘ کے حاضر سروس بھارت کے دہشت گرد جاسوس کلبھوشن نے اپنی گرفتاری کے بعد اعترافی بیان کے ذریعے پھوڑا ہے۔ اسکی دہشت گردی کے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر پاکستان کی کورٹ مارشل نے اسے سزائے موت دی تو بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے اسے بھارت کا بیٹا قرار دے کر اسے سزائے موت سے ہرصورت بچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس طرح درحقیقت انہوں نے پاکستان کی سالمیت کیخلاف کلبھوشن نیٹ ورک کی جانب سے کی گئی کارروائیوں پر بھارت کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے حوالے مہر تصدیق ثبت کی۔
مودی سرکار نے کلبھوشن کی سزائے موت کے بعد پاکستان کیخلاف پہلے سے بھی زیادہ جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہے اور اسکی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ وہ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کی پھر سے بڑ مارتا نظر آتا ہے تو اس صورتحال میں اس کا عسکری برتری کا زعم و غرور توڑنے کیلئے عساکر پاکستان کے مضبوط ہاتھوں‘ فعالیت اور جنگی استعداد کا اسے احساس دلایا جانا ضروری ہے۔ چنانچہ افواج پاکستان کے ترجمان کی جانب سے بھارت کو اسی تناظر میں ٹھوس پیغام دیا گیا ہے کہ اسکی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کیلئے جگہ اور وقت کا ہم خود انتخاب کرینگے۔ بھارت کو عساکر پاکستان کی جنگی صلاحیت و استعداد کا پاک بھارت تین جنگوں کے دوران بخوبی اندازہ ہوچکا ہے جبکہ کنٹرول لائن پر اسکی ہر جارحیت کا اسے فوری اور ٹھوس جواب ملتا ہے تو اس سے بھی اسے بخوبی اندازہ ہوجانا چاہیے کہ عساکر پاکستان سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے اسے لوہے کے چنے چبانا پڑینگے۔ وہ کسی بھول میں نہ رہے اور ہمارے حکمرانوں کی دوستی اور مذاکرات کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری سے ہرگز تعبیر نہ کرے۔ آج پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بھارت نے اپنی جنونیت کے تابع پاکستان پر ماضی جیسی جارحیت مسلط کرنے کی حماقت کی تو پلک جھپکتے میں اس کا سارا نشہ ہرن ہو جائیگا۔ اسے جنگی جنون ترک کرکے سیدھے سبھائو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آجانا چاہیے‘ جو اسکے ہی نہیں‘ اس پورے خطے اور اقوام عالم کے بھی مفاد میں ہے۔



ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں