اخباری تراشہ

نیوز

03 جون 2017
صحافی  |  ڈاکٹر مجید نظامی

3جون 1947ء کو یومِ نوید آزادی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس دن برطانوی حکومت کی طرف سے ہندوستان کو دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کرنے کے طریق کار کا اعلان کیا گیا۔ دوسری جانب ریڈکلف ایوارڈ کی آڑ میں تقسیم ہندوستان کے عمل میں برطانوی حکومت نے مسلمانانِ ہند کے ساتھ جس بددیانتی اور ناانصافی کا ارتکاب کیا‘ اسکی جڑیں بھی 3جون کے منصوبہ میں ہی پائی جاتی ہیں۔
دراصل دوسری جنگ عظیم کے باعث برطانیہ سیاسی‘ معاشی اور عسکری لحاظ سے اس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ اس کیلئے اپنی نو آبادیات پر تسلط برقرار رکھنا ناممکن ہوچکا تھا۔ چنانچہ برطانوی حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ جون 1948ء تک ہندوستان کو آزادی دیدی جائیگی تاہم ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہند کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے تبادلۂ خیال کے بعد یہ تاریخ اگست 1947ء کردی۔ یہاں اُس ہدایت نامہ کے چیدہ چیدہ نکات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا جو برطانوی اقتدار اعلیٰ نے لارڈ مائونٹ کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کرتے وقت دیا تھا۔ اس میں واضح طور پر درج تھا کہ :-’’برطانوی شاہی حکومت کا طے شدہ حتمی مقصد یہ ہے کہ کیبنٹ مشن پلان کی مطابقت میں قائم ہونیوالی اور عمل سرانجام دینے والی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے سے‘ برطانوی دولت مشترکہ کے اندر‘ برطانوی ہندوستان اور اگر ممکن ہوسکے تو ہندوستانی ریاستوں کیلئے ایک وحدانی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے اور تم تمام متعلقہ فریقین کو اس کام پر رضا مند کرنے کیلئے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرو گے تاہم چونکہ یہ منصوبہ برطانوی ہندوستان کے حوالے سے بڑی پارٹیوں کے درمیان اتفاقِ رائے سے ہی روبہ عمل آسکتا ہے‘ اس لئے دونوں پارٹیوں میں سے کسی ایک پارٹی کو مجبور کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر یکم اکتوبر تک تم اس نتیجے پر پہنچو کہ ہندوستانی ریاستوں کے تعاون کے ساتھ یا اسکے بغیر برطانوی ہندوستان کیلئے ایک وحدانی حکومت کی بنیاد پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا کوئی امکان نہیں تو تم شاہی حکومت کو ان اقدامات سے مطلع کرو گے جو تم سمجھتے ہو کہ مقررہ تاریخ پر اقتدار منتقل کرنے کیلئے اٹھائے جانے چاہئیں… تمہیں یکم جون 1948ء کو انتقالِ اقتدار کیلئے حتمی تاریخ سمجھنا چاہئے۔لارڈ مائونٹ بیٹن نے 24مارچ 1947ء کو متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اسی روز آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنما نوابزادہ لیاقت علی خان‘ کانگریس کے رہنما پنڈت جواہر لال نہرو اور ہندوستانی ریاستوں کے چانسلر نواب آف بھوپال سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ کانگریس کی طرف سے لارڈ مائونٹ بیٹن کو باور کرایا گیا کہ محمد علی جناح اور مسلمان قوم منفی سوچ کے حامل ہیں اور ان سے صرف زبردستی ہی کوئی بات منوائی جاسکتی ہے۔
مائونٹ بیٹن چونکہ کانگریس کی منشاء کو ملحوظ خاطر رکھ کر انتقال اقتدار کا کام سرانجام دینے آیا تھا‘ چنانچہ اسے اوّل روز سے ہی کانگریس کا نکتۂ نگاہ درست اور مسلم لیگ کا غلط محسوس ہوتا تھا۔مائونٹ بیٹن نے 5سے 10اپریل تک قائداعظم محمد علی جناحؒ سے چھ ملاقاتیں کیں۔ ملاقات سے قبل اس نے اپنے مشیر ایرک میول سے ان مشکل سوالات اور دلائل کی ایک فہرست تیار کرائی جن کے ذریعے قائداعظمؒ کو مطالبۂ پاکستان پر لاجواب کیا جا سکے۔ ان دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ پاکستان جغرافیائی‘ دفاعی اور معاشی اعتبار سے ناقابل عمل ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستان کو تقسیم کردیا گیا تو لامحالہ پنجاب اور بنگال بھی لازماً تقسیم کرنا پڑیں گے جس کے نتیجے میں ایک کٹا پھٹا پاکستان معرضِ وجود میں آئیگا جو معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ثابت ہو گا۔ مائونٹ بیٹن اور اسکے مشیروں کا خیال تھا کہ وہ ان سوالات و دلائل سے قائداعظمؒ کو زچ کردیں گے اور بالآخر انہیں از سر نو کابینہ مشن پلان قبول کرنا پڑیگا۔
درحقیقت انہوں نے قائداعظمؒ کے عزم و استقامت اور مطالبۂ پاکستان کی حقانیت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ وہ قائداعظمؒ کو قائل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے اور اُنہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اندریں حالات ہندوستان کو ایک مرکزی حکومت کے تحت متحد نہیں رکھا جاسکتا اور اسے مسلم اکثریتی علاقوں اور ہندو اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو آزاد مملکتوں میں تقسیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ 12اپریل کو مائونٹ بیٹن نے اپنے سٹاف کے سامنے دو منصوبے پیش کئے:(1) پلان یونین (2) پلان بلقان۔ پلان یونین متحدہ ہند اور پلان بلقان تقسیم ہند پر مبنی تھا۔ پلان یونین کچھ ردوبدل کے ساتھ کابینہ مشن پلان پر مشتمل تھا جبکہ بلقان میں ہر صوبے کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔ مائونٹ بیٹن نے ان دونوں منصوبوں پر غور و خوض کیلئے تمام صوبوں کے گورنروں کی کانفرنس طلب کی۔ تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد اس امر پر اتفاقِ رائے ہوگیا کہ آئین ساز اسمبلی کو فقط دو حصوں یعنی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کرکے صوبوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک میں شمولیت کا فیصلہ کرلیں۔ مائونٹ بیٹن نے منصوبے کی نوک پلک درست کرکے حتمی منظوری کیلئے 2مئی1947ء کو اپنے چیف آف سٹاف لارڈ اسمے کے ہاتھ لندن روانہ کردیا۔لندن بھیجنے سے قبل 30اپریل کو وائسرائے کے پرسنل سیکرٹری ایرک میول نے اس مسودے کا متن قائداعظمؒ اور جواہر لال نہرو کو دکھا دیا تھا۔
قائداعظمؒ کو سب سے بڑا اعتراض بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر تھا۔ انکے نزدیک اس منصوبے پر عمل درآمد خون خرابے اور انتشار کا پیش خیمہ تھا۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ بنگال اور آسام کے اچھوتوں اور قبائلیوں کی رائے معلوم کرنے کیلئے استصواب رائے منعقد کرایا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ مذکورہ علاقوں کے اچھوت اور قبائل اونچی ذات کے ہندوئوں کی طرف سے ان صوبوں کی تقسیم کے مطالبے کی حمایت کی بجائے انہیں متحد رکھنے کی حمایت کرینگے۔ جواہر لال نہرو نے مسودے میں صوبہ سرحد میں از سر نو انتخابات کی تجویز پر اعتراض کیا۔ اس کا دوسرا اعتراض بلوچستان کی نمائندگی کے متعلق تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہاں کے بارے میں فیصلہ شاہی جرگہ کے سرداروں پر چھوڑنے کی بجائے وہاں کے عوام کی رائے معلوم کی جائے۔ 10مئی کو یہ منصوبہ بعض ترمیمات کے ساتھ منظور ہوکر لندن سے آیا تو نہرو اس پر سخت برہم ہوا اور متعدد اعتراضات اٹھائے۔ چنانچہ مائونٹ بیٹن نے منصوبے کو کانگریس کیلئے قابل قبول بنانے کی خاطر نہرو کی تجاویز کے مطابق نئے سرے سے مسودہ ترتیب دینے کا کام شروع کردیا۔اس نے یہ کام وی پی مینن کے سپرد کردیا جس کے تیار کردہ مسودے کی نہرو نے منظوری دے دی۔ مسلم لیگی لیڈر وائسرائے کی اس کانگرس نوازی سے بے خبر تھے۔
18مئی کو مائونٹ بیٹن لندن گیا اور 23مئی کو برطانوی کابینہ نے اس منصوبے کی منظوری دیدی۔ 31مئی کو منظور شدہ منصوبہ لے کر مائونٹ بیٹن واپس ہندوستان پہنچا اور 2جون کو وائسریگل لاج میں ایک اہم اور تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں قائداعظمؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان‘ سردار عبدالرب نشتر‘ جواہر لال نہرو‘ سردار ولبھ بھائی پٹیل‘ کرپلانی اور سردار بلدیو سنگھ نے شرکت کی۔ مائونٹ بیٹن نے منصوبے کی نقول ان رہنمائوں کے حوالے کرکے رات بارہ بجے تک جواب دے دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 3جون کو وائسرائے اور ان رہنما ئوں کی یہ کانفرنس اختتام کو پہنچی جس کے فوراً بعد لندن سے برصغیر کی تقسیم کا رسمی طور پر اعلان کردیا گیا۔ 3جون کی شام برطانوی وزیراعظم ایٹلی نے بی بی سی لندن سے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ ’’ہندوستانی رہنما متحدہ ہندوستان کے کسی حل پر اتفاق کرنے میں بالآخر ناکام ہوگئے ہیں اور اب تقسیم ہی ایک ناگزیر راستہ رہ گیا ہے۔‘‘اسی روز شام کے وقت آل انڈیا ریڈیو سے لارڈ مائونٹ بیٹن نے خطاب کیا جس کے فوراً بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ، جواہر لال نہرو اور سردار بلدیو سنگھ نے خطاب کیا۔ قائداعظمؒ نے اپنے خطاب کے آخر میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔ 9جون 1947ء کو اس منصوبے کی رسمی منظوری کیلئے دہلی کے امپیریل ہوٹل میں مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہوا جس میں قائداعظمؒ اور دیگر رہنمائوںکے اظہارِ خیال کے بعد تقسیم ہند کا منصوبہ منظور کرلیا گیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس 14جون کو دہلی میں منعقد ہوا جس میں ایک قرارداد کے ذریعے اس منصوبہ کی منظوری دی گئی۔
قرارداد کے الفاظ سے ظاہر ہوتا تھا کہ کانگریسی لیڈروں نے تقسیم ہند کو دل سے نہیں بلکہ بہ امر مجبوری تسلیم کیا تھا۔ قرارداد میں کہا گیا تھا:-’’جغرافیہ‘ پہاڑوں اور سمندروں نے ہندوستان کو ایک بنایا ہے۔ کوئی انسانی طاقت اسکی شکل کو نہیں بدل سکتی اور اسکی تقدیر کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اقتصادی طاقت اور بین الاقوامی معاملات اس سے بھی زیادہ ہندوستان کی وحدت کے متقاضی ہیں۔ ہندوستان کی جس تصویر کیساتھ ہم نے محبت کرنا سیکھا ہے‘ وہ ہمارے دلوں اور دماغوں میں قائم رہے گی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو پورا پورا یقین ہے کہ جب موجودہ جذبات کی شدت میں کمی آجائیگی تو ہندوستان کے مسئلے کا حل صحیح پس منظر میں دریافت کرلیا جائے گا اور ہندوئوں اور مسلمانوں کے دو الگ الگ قومیں ہونے کا باطل نظریہ مردود ہوجائیگا۔کانگریس ہندوستان کی کسی ریاست کی جانب سے آزادی کا اعلان کرنے اور بقیہ ہندوستان سے الگ رہنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔‘‘مائونٹ بیٹن کا ذہن بھی کانگریس سے مختلف نہ تھا۔ وہ ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ گورنر جنرل بننا چاہتا تھا جب قائداعظمؒ نے اس کی خواہش کو رد کردیا تو پاکستان اور بانیٔ پاکستان کے بارے میں اس کا تعصب اور بغض مزید کھل کر سامنے آگیا اور اس نے نہ صرف پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ کروا دینے کی سازش کی بلکہ ریڈکلف ایوارڈ کے تحت متعدد مسلم اکثریتی اضلاع کی بھارت میں شمولیت کو یقینی بنایا۔ 23مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور میں تو یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ برصغیر کے شمال مغرب اور شمال مشرق کے مسلم اکثریتی علاقے مسلمانوں کی نئی آزاد مملکت کا حصہ ہوں گے۔ اسکے تحت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) کے تمام علاقوں کے علاوہ مشرقی پنجاب‘ ہندوستان کے مغرب میں واقع موجودہ اترپردیش کا سہارن پور ڈویژن‘ پورے کا پورا بنگال اور آسام بشمول ہندوستان کی ریاست بہار کا ضلع پرنیا اور کشمیر بھی پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔اسی طرح جونا گڑھ اور مناودار کی ریاستیں جنہوں نے پاکستان سے باقاعدہ الحاق کیا تھا اور جسے قائداعظمؒ نے 5ستمبر 1947ء کو منظور بھی کرلیا تھا‘ ان پر ہندوستان نے فوج کشی کرکے قبضہ کرلیا۔ علاوہ ازیں ریاست حیدر آباد کے نظام نے جب کانگریسی قیادت اور بالخصوص ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن کے زبردست دبائو کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کرنے سے انکار کردیا بلکہ اشارہ دیدیا کہ وہ پاکستان سے الحاق پر بھی غور کرسکتا ہے تو قائداعظمؒ کے انتقال کے ٹھیک دو روز بعد 13ستمبر 1948ء کو ہندوستانی افواج نے ریاست حیدر آباد پر بھرپور حملہ کردیا۔ریاستی فوج نے 17ستمبر کو ہتھیار ڈال دیے اور ہندوستان نے ریاست کے حصے بخرے کرکے اپنے مختلف صوبوں میںضم کردیا۔المختصر مائونٹ بیٹن جب متحدہ ہندوستان کے مشن کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اس کا انتقام اس نے قائداعظمؒ اور مسلمانوں کو ایک کٹا پھٹا پاکستان دے کرلیا۔ اسکی اس تاریخی بددیانتی کا خمیازہ پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھارت کے ساتھ مذاکرات کی راہ ترک کر کے قرارداد لاہور کے مطابق تکمیل پاکستان کیلئے جہاد کا راستہ اپنائے کیونکہ ہندو بنیا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں