اخباری تراشہ

نیوز

20 مئی 2017
کالم نگار  |  قیوم نظامی

قائداعظم نے ایک قوم کے تناظر میں اُردو کو قومی زبان بنانے کا درست فیصلہ کیا تھا ان کی فراست اور بصیرت کو چیلنج کرنے والے تاریخی حقائق سے نابلد ہیں۔ ڈھاکہ میں اُردو کیخلاف احتجاجی مظاہرے ’’ہندو لابی‘‘ نے کرائے تھے جس کا مقصد نومولود پاکستان کو ابتدا میں ہی انتشار اور مایوسی کا شکار کرنا تھا۔ اُردو رابطے کی واحد زبان تھی جو تمام صوبوں میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ اُردو کے نفاذ سے صوبائی زبانوں کی حیثیت قائم رہنی تھی اگر قائداعظم کے وژن کے مطابق اُردو کو دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کرلیا جاتا تو آج پاکستان سیاسی سماجی اور معاشی حوالے سے بہت بہتر حالت میں ہوتا۔ افسوس ہم نے سامراجی عزائم کے پیش نظر اُردو کے بجائے انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر تسلیم کرلیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 98فیصد عوام اپنے ریاستی اور حکومتی نظام سے باہر ہوگئے۔ ان کو ترقی کرنے کے مساوی مواقع نہ مل سکے۔ آج انگریزی استحصالی طبقے کی زبان بن چکی ہے جو ریاست کے وسائل پر قابض ہے اور انگریزی نہ سمجھنے والے کروڑوں شہری اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کررہ گئے ہیں اور احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے اُردو کو قومی اور دفتری زبان بنانے کیلئے سرگرم اور پرجوش تحریک چلائی تھی۔
استاد محترم ڈاکٹر خواجہ زکریا کا تجزیہ درست ہے کہ اگر اُردو زبان کو ڈاکٹر سید عبداللہ کے بعد ان جیسا ایک اور مضبوط وکیل مل جاتا تو اُردو کو اس کا جائز مقام حاصل ہوچکا ہوتا۔میجر (ر) شبیر احمد نے بتایا کہ وہ 1945-46ء میں نوائے وقت اخبار پڑھتے تھے جس کی پیشانی پر یہ جملہ درج ہوتا تھا ’’اُردو پڑھیں، اُردو لکھیں، اُردو بولیں‘‘۔اُردو کے فروغ میں نوائے وقت کا کردار یادگار ہے۔
ہم سترسال سے اُردو کو نظر انداز کرکے انگریزی کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 98فیصد شہری مایوسی، محرومی، بے حسی، طبقاتی نفرت، انتہاء پسندی، پس ماندگی، غربت، جہالت کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کا ریاست پر اعتماد ہی متزلزل ہوتا جارہا ہے کیونکہ ریاستی نظام میں ان کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے اور وہ اپنے ہی دیس میں ’’رعایا‘‘بن کررہے گئے ہیں جبکہ 2فیصد انگریزی دان طبقہ نہ صرف قومی دولت بلکہ ریاست اور ریاستی اداروں پر قابض ہوچکا جن میں ہزاروں افراد امریکہ اور برطانیہ سے فیض یاب ہوکر سامراج کے آلۂ کار بن چکے ہیں اور پاکستان سے ان کی وفاداری ہی مضمحل ہوچکی ہے۔
فرزند پاکستان سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے پاکستان کے مسائل اور مختلف نوعیت کے بحرانوں کا درست ادراک کرتے ہوئے ایک مقدمے میں اُردو کو عملی طور پر قومی اور دفتری زبان کا درجہ دینے کے حق میں تاریخ ساز فیصلہ دیا جسے پاکستان بھر میں سراہا گیا۔ انکے فیصلے کے بعد حکومت کیلئے آئین پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو سے اُردو کو سرکاری دفتروں میں رائج کرنا لازم ٹھہرا۔ جسٹس جواد خواجہ نے سپریم کورٹ میں فعال شعبہ اُردو ترجمہ بھی قائم کیا وہ اپنے دلیرانہ اور منصفانہ فیصلے کی بناء پر ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کے بعد محترم جج آئین اور عدالتی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمات کے فیصلے انگریزی میں قلمبند کررہے ہیں جو افسوسناک رویہ ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے محب الوطن شہریوں نے آئین کے آرٹیکل 209کی روشنی میں صدر پاکستان محترم ممنون حسین کے نام ایک ریفرنس ارسال کیا ہے جس کی کاپی راقم کے ریکارڈ میں ہے۔ اس آئینی ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
’’یہ کہ آئین کا آرٹیکل 251واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان کی قومی اور دفتری زبان اُردو ہوگی۔ اس حوالے سے تمام حکومتی ادارے اور عدلیہ اس بات کے پابند ہیں کہ تمام سرکاری امور اور عدالتی فیصلے اُردو میں ہوں تاکہ آئین کی پاسداری ہواور عوام کو بھی ابلاغ ہوسکے۔ یہ کہ تمام اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اپنے ’’ضابطۂ اخلاق‘‘ یعنی "Code of Conduct" کے تحت بھی پابند ہیں کہ آئین کی پاسداری اور پابندی کریں۔ یہ کہ آئین کیمطابق عدلیہ کے جج صاحبان کے حلف کے مطابق بھی تمام جج صاحبان پابند ہیں کہ آئین کی پابندی کریں۔
آئین پر عمل کریں اور آئین کی پاسداری کریں۔ یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 2015 SC 210کے مطابق بھی یہ فیصلہ تمام جج صاحبان اور سرکاری اداروں پر قابل پابندی ہے اور اس فیصلے کا احترام کرنا، اس پر عملدرآمد کرنا تمام سرکاری عہدیداران، جج صاحبان پر لازم ہے۔آج کل ابلاغ عامہ پر اور قومی دھارے میں شامل تمام طبقے پانامہ کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مندرجات جاننے کیلئے سرگرداں ہیں لیکن انکی کاوش لا حاصل ہے کیونکہ فیصلہ آئین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے انگریزی زبان میں تحریر کیا گیا ہے جو ہم عوام کی دسترس میں نہیں۔ برائے مہربانی اس درخواست پر ریفرنس زیر آرٹیکل 209کے تحت کاروائی کی جائے‘‘۔
پاکستان کے صدر شہریوں کی اس جائز درخواست پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے عدالتوں اور سرکاری دفتروں کو یہ ہدایات جاری کرسکتے ہیں کہ آئین کے مطابق قومی زبان اُردو کو ہر سطح پر رائج کیاجائے۔پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کا تعلق اشرافیہ سے نہیں بلکہ متوسط طبقے سے ہے انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ انکے خاندان کا کوئی ایسا فرد نہیں جسے انگریزوں نے سر کا خطاب دیا ہو وہ آزاد اور باشعور پاکستان میں پیدا ہوئے لہذا انہیں دھرتی کا بیٹا قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ پاکستان میڈ ہیں اور پاکستان کے زیردست، محروم اور مفلس افراد سے ان کی محبت اور کمٹمنٹ لازوال ہے جس کا ثبوت انہوں نے سوموٹو نوٹس لیکر کیا ہے لہذا قوم ان سے توقعات وابستہ اور اُمیدیں لگا چکی ہے کہ وہ ایک قلیل لیکن قوی اور غالب انگریزی دان طبقہ اور انگریزی سے نا آشنا اکثریتی عوام کے درمیان خلیج ختم کرکے قومی یک جہتی پیدا کرنے اور عوام کو کاروبار مملکت میں شریک کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فردگزاشت نہیں کرینگے۔ چیف جسٹس قابل اعتماد اور قابل اعتبار شخصیت اور آئین پاکستان کے محافظ ہیں۔ ان سے اپیل ہے کہ وہ آئین اور عدلیہ کے وقار کے پیش نظر اعلیٰ اور سول عدالتوں کے ججوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ عدالتی کاروائی اُردو میں کریں اور اُردو میں فیصلے تحریر کریں تاکہ پاکستان کے کروڑوں عوام عدالتی نظام کا حصہ بن سکیں اور شفاف نظر آنے والے اور سمجھ آنے والے انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔
ریاست کے تمام ادارے اور منصب دار آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہیں کہ وہ قومی زبان اُردو کو ہر سطح پر رائج کریں۔ اگر عدلیہ کے فیصلوں پر عمل نہ کیا جائے تو عدالتی نظام ہی بے کار اور بے نتیجہ ہوکررہ جائیگا۔ اگر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار آئین کی منشاء کیمطابق قومی زبان کو مکمل طور پر دفتری زبان بنانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اُردو زبان رائج ہونے سے ظالمانہ اور سنگدلانہ طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوگا اور اشرافیہ زبان کی بنیاد پر عوام کا استحصال نہیں کرسکے گی۔ جسٹس جواد خواجہ کے تاریخی فیصلے کے بعد اُردو زبان کا مقدمہ بہت مضبوط ہوچکا ہے۔ پاکستان کے محب الوطن شہری خصوصاََاُردو زبان پڑھانے والے اساتذہ و پروفیسر، صحافی اور وکلاء اُردو کو لاوارث نہ چھوڑیں اور قومی زبان کو سرکاری اور تعلیمی اداروں میں رائج کرانے کیلئے توانا آواز بلند کریں تاکہ عوام کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بلاتفریق مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوسکیں۔
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی اپنے حلف کیمطابق آئین کی پاسداری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرانا چاہئیے۔ وہ خود بھی مختلف فورموں پر قومی زبان اُردو میں خطاب کریں تاکہ عوام جان اور سمجھ سکیں کہ ان کا منتخب لیڈر ان کی توقعات کے مطابق اُنکی نمائندگی کررہا ہے۔ پاکستانی قوم کو سخت مایوسی ہوتی ہے جب وہ اپنے لیڈروں کو بلاجواز اُردو کو نظر انداز کرتے ہوئے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے سنتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ لیڈر عوام سے ووٹ تو اُردو میں مانگتے ہیں مگر اقتدار میں پہنچ کرعوام نواز کے بجائے انگریز نواز بن جاتے ہیں۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں