اخباری تراشہ

نیوز

03 مئی 2017
کالم نگار  |  ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی

کیا کہا کشمیر دہشت گردی کا مسئلہ ہے؟ صد حیف میکاولی اور چانکیہ کے ماننے والوں نے دنیا میں جھوٹ کا ’’بول بالا‘‘ کردیا۔ اتنا جھوٹ بولو‘ اتنا کہ لوگ اس پر سچ کا گمان کریں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اپنے دورہ بھارت میں جب مودی سمیت بھارتی حکمرانوں کے روبرو مسئلہ کشمیر بارے نصیحتوں کے ڈھیر لگا رہے تھے تو بھارتی ترجمان دفتر خارجہ گوپال بگلے کے بقول جواب دیاگیاکشمیر تو دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ پاپوش پہ لگائی کرن آفتاب کی‘ جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔ کیا ترک صدر اردوان کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی ان متعدد قراردادوں کا علم نہیں؟ جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے۔ سلامتی کونسل سات دہائی پیشتر کشمیری عوام کے حق خوداردیت کے حق میں جو فیصلہ دے چکی‘ اس سے بھی انہیں واقفیت ہو گی‘ یقیناً وہ مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورت حالات سے بھی آگاہ ہوں گے اور اس ضمن میں انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ بھارتی فوج اور نام نہاد سکیورٹی فورسز مظلوم کشمیری عوام پر کس طرح ستم ڈھا رہے ہیں۔ انہیں یہ حقیقت بھی کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ گزشتہ ستر سال میں لاکھوں کشمیری مسلمان بھارتی مظالم کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرچکے ہیں‘ ان میں عورتوں‘ بوڑھوں اور بچوں کی بھی تخصیص نہیں‘ ہر عمر‘ ہر رنگ و نسل اور ہر طبقہ فکر کے کشمیری عوام کی زندگیوں میں بھارتی سورماؤں نے زہر گھول رکھا ہے۔ پھر اس پر انہیں یہ جواب کہ جی کشمیر تو دہشت گردی کا مسئلہ ہے‘ یہ تو گھر آئے مہمان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور پھر ترک صدر رجب طیب اردگان کا بھارتی حکمرانوں کے سامنے بیٹھ کر یہ کہنا کہ کشمیر میں مزید لاشیں نہیں گرنی چاہئیں اور آپ یہ مسئلہ پاکستانی ذمہ داران سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کریں‘ کیا اس بات کی غمازی نہیں کہ مسئلہ کشمیر کی اصل روح اقوام عالم کے سامنے اجاگر ہو چکی ہے۔ اس پر یہ بونگا جواب کہ کشمیر تو دہشت گردی کا مسئلہ ہے‘ بجائے خود دنیا کی مہذب اقوام کے سامنے بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب ہے۔ طیب اردگان نے بجاطورپر بھارتی حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے اسے طول دینا آئندہ نسلوں کے ساتھ سنگین زیادتی ہو گی‘ لیکن بھارت کی موجودہ متعصب ہندو لیڈر شپ کی مسلم دشمنی اور اس ضمن میں حقائق سے چشم پوشی ان کے اپنے بزرگوں کی دین ہے‘ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ نریندر مودی اور ان کے ہم نوا ورثے میں ملے ہوئے تنازعات آئندہ نسلوں کو منتقل نہ کریں؟ 1928ء میں نہرو رپورٹ مرتب کرنے والے پنڈت موتی لعل نہرو نے مسلم دشمنی کی اس کلیدی اور سنگین دستاویز کو ہندو رویے کے طورپر اپنے بیٹے پنڈت جواہر لعل نہرو کو منتقل کیا‘ پھر اسے جواہر لعل نہرو نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو تفویض کیا‘ اس طرح چل سو چل اور یہ مسلم دشمنی کا متعصبانہ رویہ آج تک خون میں شامل ہو کر نریندر مودی اور ان کے ہم نواؤں تک پہنچا ہے۔ کسی دانا نے کہا منفی رویے ذہنی و فکری ہوں تو ختم کئے جا سکتے ہیں‘ خون میں شامل ہو جائیں تو انہیں ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آج پورا ہندوستان پاکستان دشمنی کے اسی رویے پر کاربند ہے‘ جس کی اختراع پنڈت موتی لعل‘ پنڈت جواہر لعل‘ سردار پٹیل اور اس قبیل کے دیگر متعصب ہندو لیڈروں نے کی تھی۔ ان میں اندرا گاندھی نے تو حد ہی کردی اور آج نریندر مودی کشمیر کے حوالے سے اس حد کو بھی عبور کرنا چاہتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے جوبات کہی وہ بھارت کیلئے پوری جمہوری اور انصاف پسند دنیا کی طرف سے نصیحت ہے‘ یہی کہ کشمیر میں آگ و خون کے اس کھیل کو آئندہ نسلوں تک مت لے جاؤ‘ ایسا کرو گے تو یہ تاریخی بددیانتی اور سنگین زیادتی ہو گی‘ لیکن شیخ سعدی نے اس ضمن میں برملا کہا تھا …؎
زمین شور سنبل برنیارد
درو تخم عمل ضائع مگر داں
اس حوالے سے ایک فارسی محاورہ بھی ہے‘ جبل گردد‘ جبلت نگردد‘ چشم فلک نے دیکھا مسلم دشمنی اور تعصب کی آگ میں جلنے والی بھارتی ہندو لیڈر شپ کی خصلت کبھی تبدیل نہ ہوئی۔ آج بھی یہ جوں کی توں برقرار ہے۔ کس کو علم نہیں کہ پاکستان کے جغرافیہ کو دولخت کرنے والی پنڈت جواہر لعل نہرو کی ’’ہونہار لکشمی‘‘ اندرا گاندھی تھی۔ پھر اس پر نریندر مودی کا سینہ ٹھونک ٹھونک کر یہ کہنا کہ بنگلہ دیش ہم نے بنوایا‘ کس ذہنیت کی عکاسی ہے؟ مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی متعصب ہندو لیڈر شپ کی گھٹی میں پڑی ہے اور وہ اعلانیہ طورپر اس متعصبانہ رویے کو آئندہ نسلوں کے سینے میں اتارنا چاہتے ہیں۔ ان کے قول و فعل کا تضاد اور دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ’’ہنر‘‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ (خاکم بدہن) پورے پاکستان کو کشمیر ایسا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ان سارے منفی عزائم کے ساتھ اگر پوری دنیا بحیثیت مجموعی بھی چاہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو نتائج وہی ڈھاک کے تین پات ہی برآمد ہوگ گے‘ کیونکہ نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے منفی عزائم کو ترک کر کے بیٹھنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود اگر بھارتی ہٹ دھرمی جوں کی توں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نریندر مودی اوران کے ہم نوا صرف جنگ کا آپشن ہی لئے ہوئے ہیں‘ جو خود بھارت کے لئے تباہی و بربادی کا ’’سندیسہ‘‘ لیکر آسکتا ہے۔ ترک صدر اردگان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے تو یہ اُسی تسلسل میں ہے جس کے تحت ساری دنیا کشمیریوں کی حق خودارادیت کو حمایت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ غیرجانبدار مؤرخین کی نظر میں مسئلہ کشمیر پر بھارتی ڈھٹائی ایک عجیب تماشے کی بات ہے‘ جس میں قلابازیاں اور ایسی اچھل کود ہے‘ جو تندرست ذہن کے آدمی کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔ کیا ساری دنیا کو معلوم نہیں بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو خود مسئلہ کشمیر لے کر اقوام متحدہ میں گئے تھے؟ کیا دنیا بھر کے مہذب انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہی نہیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں مظلوم کشمیری عوام کو خودارادیت کا حق دینے کے لئے رائے شماری کا وعدہ بھی کیا تھا؟ پھر کشمیر دہشت گردی کا مسئلہ کیسے ہو گیا؟ اور اگر بالفرض یہی بات ہے تو پھر دہشت گردی کون کرا رہا ہے؟ کون کشمیری نوجوانوں‘ بچوں اور عورتوں کو چن چن کر قتل کر رہا ہے۔ کشمیری عورتیں‘ بچے اور جوان بصارت سے محروم ہو رہے ہیں تو ان کے چہروں پر زیر آلود چھرے کون ماررہا ہے؟ بھارت کا دورہ کرنے والے ترک صدر طیب اردگان کو یہ سارے حقائق ازبر ہوں گے‘ البتہ ایک تاریخی حقیقت سے انہیں آگاہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں‘ اور وہ یہ کہ مولانا محمدعلی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریک خلافت زور و شور سے جاری تھی۔ گاندھی جی کو خلافت کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ دونوں کو اس پر اعتراض تھا‘ جس کی وجہ محض یہی تھی کہ وہ ہندو لیڈو شپ کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے تھے۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ان کی یہ بات سچ ثابت ہوئی‘ گاندھی جی نے یوپی کے قصبہ چورا چوری کے ایک پرتشدد واقعہ کی آڑ لے کر تحریک خلافت جو ترکوں کے حق میں تھی کا خاتمہ کردیا‘ برصغیر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں یہ دوسرا چھرا گھونپا گیا تھا‘ ہندوستان کے مسلمان نہرو رپورٹ میں پہلے ہی یہ تجربہ کر چکے تھے۔ ترک صدر اردگان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ چاہیں تو بھارت کے متعصب اور مسلم دشمن لیڈروں کی یہ سرگزشت تاریخ کے اوراق میں بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں‘ انہیں ترک لیڈر شپ کی مسلم دوستی اوربھارتی لیڈروں کی پاکستان دشمنی کے کاز روٹ کا بھی بغور مشاہدہ کرنا ہوگا‘ کیونکہ شیخ سعدی یہ بھی کہہ گئے ہیں …؎
نکوئی بابداں کردن چنان است
کہ بدکردن بجائے نیک مرداں




ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں