اخباری تراشہ

نیوز

04 مئی 2017
ایڈیٹر  |  اداریہ

دوطرفہ مذاکرات پر مشیر خارجہ کا دوٹوک موقف‘ چین اور ترکی کی بے لاگ حمایت



مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دوطرفہ مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تجویز اب قابل اعتبار نہیں رہی کیونکہ بھارت نے اس مسئلہ کے حل کیلئے تمام دوطرفہ کوششوں کو مسلسل ناکام بنایا۔ واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے دورہ بھارت سے قبل انٹرویوز میں زور دیا تھا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ کثیر فریقی مذاکرات کرے جسے مسترد کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال بگلے نے کہا کہ بھارت دوطرفہ بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم مسئلہ کشمیر سرحد پار دہشت گردی سے جڑا ہے، مسئلہ کشمیر کے دوطرفہ حل سے قبل ان لوگوں کو اس طرف سے روکا جائے جو سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ منگل کی شام دفتر خارجہ نے مشیر خارجہ کا بیان جاری کیا جس میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کیلئے تیار رہنے کا بھارتی دعویٰ اب قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ گزشتہ دو عشروں سے بھارت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق بامقصد مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے تمام مواقع ضائع کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کو عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی بھارت کے اس دعوے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ مسئلہ کشمیر سرحد پار کی دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ سال 100 سے زائد نہتے کشمیری نوجوانوں کو بے دردی سے قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھانے کا اپنا ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ بھارتی فورسز نے سینکڑوں نوجوانوں کو بصارت سے محروم کر دیا ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسی لئے نیو یارک ٹائمز نے کشمیر میں 2016ء کو ’’ ائر آف ڈیڈ آئیز‘‘ قرار دیا ہے۔ کوئی بھی اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ جولائی 2016ء سے مسلسل احتجاج کرنیوالے ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دہشت گرد ہیں۔ کشمیری بھارتی جارحیت اور جبر کو کس طرح دیکھتے اور سمجھتے ہیں‘ اس کا اندازہ بھارت میں ہونیوالے ضمنی انتخابات سے بھی ہو جاتا ہے۔
بھارت اس حقیقت کو بھی جھٹلا نہیں سکتا کہ دنیا کا حالیہ 9اپریل کو شرمناک ضمنی انتخابات کے بعد بھارتی جمہوریت سے بھی اعتبار اٹھ رہا ہے۔ ووٹرز ٹرن آئوٹ صرف 7فیصد رہا اور جب دوبارہ انتخاب ہوا تو ٹرن آئوٹ مزید کم ہو کر دو فیصد تک آگیا اور اننت ناگ میں ہونیوالے ضمنی انتخاب ہی ملتوی کردیئے گئے۔ بھارت جیسے ستمگر کو ستم رسیدہ کشمیری کسی طور قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وہ اپنی آزادی کیلئے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کررہے ہیں‘ انہیں اپنی آزادی کی جدوجہد کا حق اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیا گیا۔ بھارت اس حق کو کچل رہا ہے‘ انکی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی اور پاکستان کی طرف سے کی جانیوالی اخلاقی حمایت کو دہشت گردوں کی پشت پناہی قرار دیتا ہے۔ بھارت کی عیاری‘ مکاری اور منافقت ملاحظہ کیجئے ایک طرف مذاکرات کی بات کرتا ہے‘ دوسری طرف نہ صرف مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے بلکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنا حق جتانے لگا ہے جبکہ بھارت خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لیکر گیا جس نے اپنی قراردادوں میں حق خودارادیت کی تجویز پیش کی جسے بھارت نے قبول کرتے ہوئے اپنے مقبوضات کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا اور پھر مکرتے مکرتے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان پر اپنا حق جتلانے لگا۔ استصواب کی بات کی جائے تو بڑی ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات ہوتے ہیں جو استصواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسا شرمناک بیان منافقت کی انتہاء تک پہنچا ہوا بنیا ہی دے سکتا ہے۔ کیا استصواب جس میں کشمیریوں نے پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ جانے کا چنائو کرنا ہے اور کہاں الیکشن جس پر کشمیری عدم اعتماد کا اظہار ہر بار کرتے ہیں۔ یہ الیکشن بھلا استصواب کا متبادل ہیں جن میں سات فیصد کشمیری بھی حصہ نہیں لیتے۔
بیرونی دبائو پر بھارت نے مذاکرات کی میز کئی بار سجائی اور موقع پا کر الٹا دی۔ کبھی ممبئی حملوں کی ڈرامہ بازی کی اور کبھی پٹھانکوٹ حملے کو بہانہ بنایا۔ ہماری حکومتیں بڑی معصومیت سے جب بھی بھارت نے مذاکرات کی دعوت دی‘ اسے قبول کیا۔ بھارت نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا تو اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے۔ اس سے کم از کم دنیا پر بھارت کی منافقت تو واضح ہو گئی۔ دنیا پر اپنا موقف باور کرانے کے محاذ پر بھی ہم بہت پیچھے رہے ہیں۔ بھارت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے بھی پاکستان ہی کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں‘ ریاست اپنی جگہ موجود اور ریاستی امور چلانے والے ادارے موجود رہتے ہیں‘ وزارت خارجہ اہم ترین ہے‘ بھارت کے لغو پراپیگنڈے کا توڑ کرنا‘ اسکی ذمہ داری ہے جس میں عموماً کوتاہی نظر آتی ہے۔ اسے مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔
دوطرفہ مذاکرات کیلئے ایک بار پھر بھارت نے جو شرط عائد کی ہے وہ قیامت تک پوری نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا دراندازوں اور دراندازی سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر تعلق ہی نہیںتو بھارت کا دراندازی کے خاتمے کا مطالبہ کیسے پورا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ پاکستان انکی حریت پسندی کو جائز سمجھتا ہے جبکہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی اور اس میں حصہ لینے والوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ کیا اس پوائنٹ پر کبھی اتفاق ہو سکتا ہے؟ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیری حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے تو مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مشیر خارجہ کی طرف سے دوطرفہ مذاکرات سے جرأت مندانہ انکار قوم کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ بھارت اول تو مذاکرات پر تیار ہی نہیں‘ اگر عالمی برادری کے زور دینے پر دونوں ملک مذاکرات کی میز پر ایک بار بیٹھ جاتے ہیں تو بھی مذاکرات سبوتاژ کرنے کے بھارتی ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں اب بھی کسی پیشرفت کا امکان نہیں۔ اب جبکہ مشیر خارجہ نے بھی دوطرفہ مذاکرات کی تجویز کو رد کردیا ہے تو کیا پاکستان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے؟
مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں ہی میں موجود ہے۔ عالمی برادری دبائو ڈال کر بھارت کو ان قراردادوں پر عمل کیلئے قائل کر سکتی ہے۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر منحصر ہے کہ عالمی برادری کو کس طرح اپنے نکتہ نظر پر قائل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دوستوں کی تعداد بڑھانے اور پہلے سے موجود دوستوں کے ساتھ تعلقات میں مزید گرم جوشی لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دوستوں کے حوالے سے بانجھ نہیں رہا‘ اسے کچھ ممالک کی دوستی پر فخر ہے جو کشمیر سمیت ہر مسئلے اور مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ترک صدر طیب اردوان بھارت کے دورے کے دوران پاکستان کی دوٹوک حمایت کے حوالے سے پاکستان کے بہترین سفیر دکھائی دیئے۔ بھارت نے نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بننے کیلئے عزت مآب ترک صدر کی حمایت حاصل کرنے کیلئے قبرص کی ترکی سے وحدت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا‘ اس پر طیب اردوان نے بھارت کی این ایس جی میں رکنیت کی حمایت کی اور ساتھ ہی بھارتی قیادت کے یہ کہہ کر ہوش اڑا دیئے کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دی جائے۔ مسئلہ کشمیر پر چین کبھی تو پاکستان سے بھی دو قدم آگے نظر آتا ہے۔ وہ کشمیریوں کیلئے بھارتی پاسپورٹ قبول نہیں کرتا‘ کشمیریوں کو سادہ کاغذ پر ویزا جاری کردیتا ہے۔ آج چینی اخبار گلوبل ٹائمزنے لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر جیسے تنازعات کا حل چین کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اگر چین کے مفاد میں ہے تو وہ یقیناً یہ مسئلہ حل کرانے کیلئے اپنی سی سعی کریگا۔ ایک طرف چین اور ترکی جیسے ہمارے ہمدرد دوست ہیں تو دوسری طرف ایران جیسے ’’خیرخواہ‘‘ بھی ہیں جس کی دوستی پر پاکستانیوں کو ناز ہے۔ اسکی طرف سے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی گئی۔ ہمارا مسلم برادر اور پڑوسی ملک ہمارے بدترین دشمن کو ایک دوسرا بارڈر فراہم کررہا ہے‘ بھارت کی فطرت کو دیکھتے ہوئے اسے پاکستان کیخلاف دوسرا امحاذ کہا جاسکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان کے دورے پر ہیں‘ انکے سامنے حکومت چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے حوالے کرنے کا معاملہ اٹھائے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ایران پاکستان کا ساتھ دیگا۔معروضی حالات میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے پاکستان کوبھارت پر عالمی دبائو ڈلوانے کی خاطر او آئی سی کے ممبر ممالک کے ساتھ ترجیحاً رابطے تیز کرنا ہونگے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں