اخباری تراشہ

نیوز

12 اپریل 2016
کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق

جنوری 2016ءکے پٹھان کوٹ اور نومبر 2007ءکے ممبئی حملوں میں کوئی مماثلت ہو نہ ہو البتہ بھارت کی طرف سے دونوں واقعات کے آغاز پر ہی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے ممبئی حملوں کا ذمہ دار جماعت الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید کو قرار دیا۔ پٹھان کوٹ حملے کا ملبہ جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر پر ڈالا۔ بھارت دونوں حملوں پر اقوام متحدہ گیا۔ اقوام متحدہ نے بھارتی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر حافظ محمد سعید اور انکے ساتھیوں پر پابندیاں لگا دیں۔ زرداری حکومت نے حافظ محمد سعید اور ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ معاملہ ہائیکورٹ میں گیا،وہاں سے بری ہوئے تو وزیر داخلہ رحمن ملک سپریم کورٹ چلے گئے۔سپریم کورٹ نے بے قصور قراردیکر رہائی کا حکم دیدیا۔یہ رہا ہوئے تو لگابھارت کی روح قبض ہورہی ہے ،اس نے کہرام مچادیا مگر پاکستان میں سپریم کورٹ کے بعد کوئی اتھارٹی نہیں جہاں سے رحمٰن ملک سزا دلوادیتے۔


پٹھان کوٹ حملے کا الزام جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر پر بھارت نے اسی طرح لگایااور مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی اسی طرح پسپائی اختیار کی۔ مولانا مسعود اظہراور ساتھیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ بھارت معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا مگر یہاں پاکستان کی سفارتکاری فعال نظر آئی۔ اللہ بہتر جانتاہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکار حکومت کی سنتے ہیں یا فوج کی مانتے ہیں۔ داخلی معاملات اور خارجہ امور میں فوج کی متوازی پالیسی چل رہی ہے۔بہرحال بہترین لابنگ سے چین نے مولانا مسعود اظہر کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی بھارتی حسرت خلیج بنگال میں ڈبودی۔ سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے بھارتی تجویز یا قرار داد کی حمایت کی،جس پر چین نے ویٹوکا ہتھوڑا دے مارا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے پراپیگنڈے، بے بنیاد اور لغو الزامات پر دفاعی حکمت اختیار کر لی، چین کو خود سے کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی، اس لئے جماعت الدعوة کی قیادت زیر عتاب آئی۔مسعوداظہر کا نام چین نے بھارت کی خواہش کے برعکس دہشتگردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا تو بھارت کو بھی مجبوراً انکا نام مجرموں کی لسٹ سے نکالنا پڑا ہے جبکہ بھارت اب بھی ممبئی حملوں کے حوالے سے حافظ محمد سعید کیخلاف کارروائی کے مطالبات کرتا ہے چونکہ سپریم کورٹ نے ان کو تحفظ دیا ہے اس لئے وہ آزاد شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔اس لئے ان سے ملاقات ممکن ہے۔
آج کل میں ایسے واقعات مرتب کر رہا ہوں جو انسان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے۔ ایسے واقعات بھی موضوع کا حصہ ہیں جن میں انسان موت کے روبرو ہو کر واپس آ گیا۔ حافظ صاحب سے دوستی تو کجا واقفیت کا بھی دعویٰ نہیں، تاہم انکی میڈیا ٹیم سے علیک سلیک ضرور ہے۔سو حبیب اللہ سلفی صاحب کے توسط سے حافظ صاحب سے انکے گھر پر ملاقات ہوئی، یحییٰ مجاہد اور محمد ارشاد بھی موجود تھے۔ صبح میں مقررہ وقت پر حافظ صاحب کے دولت کدہ پر پہنچ گیا۔ حافظ صاحب شایداشراق پڑھ رہے تھے۔ اس کمرے میں شاید متقی و پرہیز گاروں کیلئے فرشی نشستوں کا اہتمام ہے ہم جیسے گنہگاروں کےلئے الگ کمرے میں کرسیاں اور صوفے رکھے ہیں۔ حافظ صاحب نے اپنی زندگی کا وہ واقعہ بیان کیا جس نے انکی زندگی، سوچ اور مقصد حیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔انہوں نے بتایا” یہ وہ دور تھا جب پاکستان پر کڑا وقت تھا۔ میں پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ 70ءکے الیکشن ہو چکے تھے، میں نے ان میں نے بھرپور حصہ لیا، بہت محنت کی۔ 71ءمیں مشرقی پاکستان کے اندر بے پناہ قتل و غارت گری شروع ہو گئی۔ پاک فوج نے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن انڈیا نے مقابلے میں اپنی فوج داخل کر دی۔ اگرتلہ سازش، مکتی باہنی کی تشکیل،اس میں کلکتہ اور بھارتیوں کی شرکت اور بنگالیوں کو پاک فوج کے مقابل لانا یہ نقشہ ہمہ وقت میرے سامنے رہتا ہے۔ بھارت کا مغربی طاقتوں نے بھی ساتھ دیاجس سے پاکستان کو دولخت کردیاگیا۔ بنگلہ دیش بنااور 93 ہزار فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا گیا۔ ڈھاکہ فال میری زندگی کا ایسا واقعہ ہے جس نے میری زندگی پرگہرااثر ڈالا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد میں کئی دن تک کھانا نہ کھا سکا، کئی دن سو نہیں سکا، کسی پل چین اور قرار نہیں آیا۔اسی کیفیت میں مَیں نے سوچا، انڈیا نے جو کچھ پاکستان کیخلاف کیا اور آئندہ جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جب تک انڈیا کے ساتھ معاملے کو ختم نہ کیا جائے، اس کا انتقام لے کر اسکے مقام تک نہ پہنچایا جائے، اسکی قوت کو نہ توڑا جائے؛ نہ پاکستان بچ سکتا ہے نہ پاکستان کے اندر ہم اسلامی اقدار کو بچا سکتے ہیں۔ میں نے جب فیصلہ کر لیا کہ بھارت سے سقوط ڈھاکہ انتقام لینا ہے، وہ عزم جب دل میں پختہ اور سوچ واضح ہو گئی تو میں نے اپنے اندر اطمینان محسوس کیا“۔
حافظ صاحب نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان میں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو پکڑا جا رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اسکی نشاندہی پر پاکستان میں را کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔ اب بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی میں ملوث ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا۔ جب ہماری حکومت دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو پکڑ رہی ہے تو بطور وزیر اعظم انڈیا نریندر مودی تو پاکستان میں دہشتگردی کا منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسے ذمہ دار تو ہماری حکومت قرار دے۔ افسوس! ہمارے سیاستدانوں کو کشمیر کاز سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ مغرب کے ایجنڈے پر کاربند ہیں، آنکھیں بند کر کے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مغرب کے ساتھ ضرور چلیں مگر اپنا نقطہ نظر بھی تو پیش کریں۔ حافظ سعید کی کشمیر کاز کےلئے فوج سے امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر ایک دفاعی معاملہ ہے اور دفاع افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ پاک فوج کشمیر کاز کے ساتھ مخلص اور کمٹڈ ہے۔ قوم اسکے ساتھ ہے سیاسی پارٹیاں بھی اسی اخلاص کمٹمنٹ اور عزم و ارادے کے ساتھ سامنے آئیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کی منزل قریب آ سکتی ہے۔ حافظ صاحب نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔”مجھے میچوں سے زیادہ دلچسپی نہیں مگر جب انڈیا ویسٹ انڈیز سے ہارتا ہے تو پاکستان میں خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے بھی زیادہ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ سرینگر سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی تک پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے گونجنے لگتے ہیں: یہ ہے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ۔
آخر میں انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب سمیت انکی جماعت کو کسی ملک سے بھی فنڈنگ نہیں ہوتی۔ اپنے ملک ہی سے لوگ اتنے وسائل اپنی مرضی سے فراہم کر دیتے ہیں کہ ہمیں فنڈ کیلئے اپیل کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ میں نے کبھی نہیں کہا‘ پنجابی کو قومی زبان قرار دیا جائے‘ البتہ انگریزی کی جگہ عربی کو دی جائے تو بہتر ہے۔



ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں