06 اگست 2014
ایڈیٹر  |  اداریہ

برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ وہ حکومت کی غزہ پر پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں۔پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی ان دنوں وزیر برائے مذہب اور سماجی امور کے عہدے پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں اور اس سے قبل 12 مئی 2010ءسے چار ستمبر 2012 تک برطانوی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کے عہدے پر کام کر چکی ہیں۔وہ برطانوی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون مسلمان رکن ہیں۔
اسرائیلی فوج کی بمباری اور گولہ باری سے بچوں اور خواتین سمیت دو ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع پر عالمی برادری کے ضمیر میں جنبش تک پیدا نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ان اموات پر وہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا کہ جس سے اسرائیلی فوج کا مظلوم فلسطینیوں پر جبر و ظلم رک جاتا۔ فلسطین میں مسلمان اسرائیلی دہشتگردی کا شکار ہو رہے ہیں مگر یہ مسلمانوں کے مسئلے سے زیادہ انسانی مسئلہ ہے اس پر بلا تفریق مذہب آواز اٹھنی چاہئیے تھی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم امہ تو اس معاملے میں مرحوم ہو چکی ہے۔ با اثر ممالک کی خاموشی سے انکے مسلمانوں سے تعصب کا اظہار ہوتا ہے اسرائیل نے متعدد بار جنگ بندی سے اتفاق کیا اور ہر بار چند گھنٹوں بعد جنگ بندی کے فیصلے کیخلاف ورزی کی گئی برطانیہ کی طرف سے بھی غزہ مظلوموں کو اسرائیلی وحشت سے محفوظ رکھنے کیلئے نمایاں کوششیں نہیں کی گئیں جس پر سعیدہ وارثی نے اصولی فیصلہ کرتے ہوئے استعفیٰ دےدیا۔ انسانیت کا یہی تقاضا ہے۔ اس سے یقیناً عالمی ضمیر میں خلش پیدا ہو گی جو اسرائیل کی بربریت میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں