11 جون 2014
ایڈیٹر  |  اداریہ

کراچی ایئرپورٹ کے بعد دہشت گردوں کے شمالی وزیرستان چوکی اور کراچی اے ایس ایف کیمپ پر حملے

شہر قائد کراچی منگل کے روز بھی دہشت گردوں کی جنونیت سے نہیں بچ سکا اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعد گزشتہ روز موٹر سائیکل سوار دو دہشت گردوں نے ایئرپورٹ سے ملحقہ اے ایس ایف اکیڈمی اور کیمپ پر حملہ کر دیا جبکہ سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی پر یہ دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے اور جاتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں موجود دستی بم بھی پھینک گئے۔ اگرچہ کوئی بھی شخص دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں نہیں آیا تاہم ایئرپورٹ کی دہشت گردی کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے جانے کے باوجود ان دہشت گردوں کا دن دہاڑے اسلحہ لے کر موٹر سائیکل کے ذریعے اے ایس ایف کے کیمپ تک پہنچ جانا اس امر کی غمازی کر رہا ہے کہ متعلقہ سکیورٹی ادارے اپنی صفوں میں موجود سکیورٹی لیپس پر ابھی تک قابو نہیں پاسکے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ اے ایس ایف کیمپ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کو کیمپ پر حملے سے تعبیر نہیں کیا جا رہا اور دہشت گردوں کی اس واردات کے بعد سکیورٹی اداروں کے ترجمان اپنا سارا زور اے ایس ایف کیمپ پر حملے سے متعلق میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید پر لگاتے رہے جبکہ ٹی وی چینلز پر اس وقت متذکرہ حملے کے حوالے سے اے ایس ایف کے اہلکاروں اور دہشت گردوں کے مابین جاری فائرنگ کی فوٹیج دکھائی جا رہی تھی۔ اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کرنل طاہرعلی کے بقول دہشت گرد ہوائی فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہو گئے ہیں جسے کیمپ پر حملے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل کے اندر بدترین دہشت گردی کے بعد بھی‘ جس میں سکیورٹی ایجنسیوں کی اپنی رپورٹوں کے مطابق 25 اہلکار شہید ہوئے ہیں‘ سکیورٹی لیپس سے فائدہ اٹھا کر دہشت گردوں کو اسی ایئرپورٹ سے ملحقہ اے ایس ایف کے کیمپ تک مسلح ہو کر دن دہاڑے پہنچ جانے کا موقع ملا ہے تو عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہو گا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں کب تک سکیورٹی فورسز کے جوانوں‘ افسران اور دوسرے بے گناہ شہریوں کو مروایا جاتا رہے گا اور دہشت گردی کے مستقل خاتمہ کیلئے حکومتی سمت کب درست کی جائیگی۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں بھی ارکان پارلیمنٹ اسی تناظر میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے رہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کرنیوالے دہشت گردوں سے برآمدہونیوالے اسلحہ اور گولہ بارود کے بھارتی ساختہ ہونے کی تصدیق کے باوجود اپنی تقریر میں براہ راست بھارت کا نام لینے سے گریز کیا اور کہا کہ دہشت گردوں سے جو اسلحہ ملا ہے‘ اسکے اشارے ایک ملک کی طرف جاتے ہیں۔
دہشت گردوں کے حوصلے تو اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ کراچی ایئرپورٹ کے بعد انہوں نے گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں ایک چیک پوسٹ پر بارودی ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا جس میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق اور دس فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے اور پھر منگل کے روز دہشت گرد کراچی میں اے ایس ایف کیمپ پر حملہ آور ہو گئے جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی نے ان وارداتوں کی ذمہ داری بھی قبول کرلی مگر حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ ضرور کیا کہ دہشت گردوں کو ایسا جواب دیا جائیگا کہ وہ آئندہ کراچی ایئرپورٹ جیسی دہشت گردی کی جرا¿ت نہیں کرینگے مگر انکے بیان کے اگلے ہی روز دو دہشت گرد دن دہاڑے جدید اسلحہ کے ساتھ اے ایس ایف کے کیمپ تک جا پہنچے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی دہشت گردی کے شہداءکی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی اور دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملانے کا تقاضا کیا گیا مگر حکومت کی جانب سے ایسی کسی حکمت عملی سے قوم کے اس منتخب فورم کو آگاہ نہیں کیا گیا جو دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملانے کا باعث بن سکتی ہو۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی ایئرپورٹ میں دہشت گردی کے بعد ظاہر ہونیوالے سکیورٹی لیپس پر مو¿ثر انداز میں قابو پانے اور سکیورٹی ایجنسیوں کے کراچی میں جاری اپریشن کو نتیجہ خیز بنانے کے اقدامات اٹھانے کے بجائے وفاقی اور سندھ حکومت کے ذمہ داران ایک دوسرے سے برسرپیکار نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سکیورٹی معاملات میں سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کے عدم تعاون کا شکوہ کر رہے تھے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یہی شکوہ سندھ حکومت سے کرتے نظر آئے۔ اس وقت جبکہ ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور حکومتی کمزوریوں کے باعث دہشت گردوں کے حوصلے بتدریج بڑھتے جا رہے ہیں‘ وفاقی اور سندھ حکومت کو اب بھی ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی فکرلاحق ہے۔ اگر وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کی اس بات کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ جناح ایئرپورٹ پر حملہ آور ہونیوالے دہشت گرد مسلح ہو کر آئے مگر کراچی میں انہیں کسی نے پوچھا نہ روکا تو کیا یہ کراچی میں ٹارگٹڈ اپریشن میں مصروف وفاقی سکیورٹی ایجنسیوں کی ناکامی نہیں؟ چاہیے تو یہ کہ کراچی پولیس اور وہاں اپریشن کی غرض سے تعینات رینجرز کی صفوں میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر انہیں دور کیا جائے تاکہ امن کی بحالی کی صورت میں کراچی اپریشن کے مثبت اثرات سے وہاں کے عوام مستفید ہو سکیں اور کراچی میں جن کالعدم تنظیموں نے حکومتی کمزوریوں کے باعث محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں‘ اس کا سدباب کرکے ملک کے عوام کو انکی دہشت گردی اور شرپسندی سے محفوظ کیا جائے مگر اس نازک مرحلہ میں بھی ایک دوسرے کے سیاسی مخالف وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کو ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی سوجھ رہی ہے۔
اس وقت جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے اور دہشت گرد حملے جاری رکھنے کے بھی اعلانات کر رہی ہے‘ ملکی اور قومی سلامتی اور شہریوں بشمول سکیورٹی فورسز کے ارکان کے تحفظ کی خاطر بھرپور‘ ٹھوس اور فیصلہ کن اپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے قلع قمع کی قومی پالیسی طے کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر اب بھی حکومت نے ملک اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا تو پھر اس ملک میں امن‘ انصاف اور قانون کی نہیں‘ من مانا ایجنڈہ مسلط کرنے کے متمنی دہشت گردوں کی ہی حکمرانی ہو گی جس میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہی نہیں‘ ملک کی سلامتی بھی خواب بن جائیگی۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں