07 اپریل 2014
ایڈیٹر  |  اداریہ

افغانستان کے 20 صوبوں سے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج موصول ہو گئے جس کیمطابق کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہوئی۔ افغان الیکشن کمیشن کیمطابق ٹرن آﺅٹ 60 فیصد رہا اور 35 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے، 70 لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ کاسٹ کئے، 65 فیصد مردوں نے الیکشن کے عمل میں حصہ لیا۔ جنگ زدہ اور خطروں میں گِھرے افغانستان میں افغان عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کا راستہ چُن کر سب کو حیران کر دیاہے۔ 60 فیصد ٹرن آﺅٹ کا مطلب ہے کہ افغان عوام کی اکثریت نے جمہوریت کے حق میں فیصلہ دیکر طالبان کے ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے‘ جنہوں نے افغان قوم کو ان انتخابات کے بائیکاٹ کا حکم دیا تھا۔اس رزلٹ سے معلوم ہوا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف بسنے والے عوام جنگ سے تنگ آ چکے ہیں اب طالبان کو بھی جمہوری راستے کا انتخاب کر کے عوام کی منشا کے مطابق حکومت کرنے کے راستے پر آ جانا چاہئے۔ پختہ ذرائع کیمطابق افغان طالبان نے عوام کو فی ووٹ کارڈ کے بدلے 5 امریکی ڈالر دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ غربت کی چکی میں پسے سینکڑوں ووٹروں نے اس پیشکش سے فائدہ اُٹھایا لیکن اسکے باوجود 65 فیصد مردوں اور 35 فیصد خواتین نے ووٹ ڈال کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ کوئی بھی امیدوار 51 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے گا اور نتیجہ بالآخررن آف الیکشن کی صورت میں دوسرے مرحلے میں ہی نکلے گا لیکن طالبان کی دھمکیوں، بم دھماکوں، راکٹ لانچروں اور خودکش حملوں کے خوف کے باوجود 70 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر کے جمہوریت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ افغانستان کے زمینی حقائق سے اگر انتخابات کا موازنہ کیا جائے تو مجموعی طور پر کوئی بڑا خون خرابہ نہیں ہوا۔ افغان طالبان مزاحمتی تحریک ختم کر کے عوامی مدد سے اقتدار کا انتخاب کریں یہی وہاں کے عوام کی منشا ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں