31 مئی 2013

لاہور (آئی این پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے نوازشریف فوری طور پر فوج سے پوچھیں وہ طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں یا مخالف، نوازشریف کو امریکی دباﺅ میں آئے بغیر طالبان سے مذاکرات کے موقف پر قائم رہنا چاہئے اور ڈرون حملوں کو رکوانے کیلئے جرا¿ت اور بہادری کا مظاہرہ کریں، امریکہ ایک سازش کے تحت طالبان اور پاکستان کے درمیان ہونیوالے مذاکرات سبوتاژ کر رہا ہے اور ولی الرحمن پر ڈرون حملہ بھی اسی کا حصہ ہے، گولی اور بندوق سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والا ولی الرحمن خودکش حملوں اور دہشتگردی کا بھی مخالف رہا اور وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا بھی حامی تھا لیکن جب طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے تو اب امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے اس مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا فوج طالبان سے مذاکرات کی حامی ہے یا مخالف اب وقت آ گیا ہے نوازشریف فوری طور پر افواج سے بات کریں اور ان سے پوچھیں کیا فوج طالبان سے مذاکرات کی حامی ہے یا اُن کے کچھ تحفظات ہیں لیکن اب مذاکرات اور آئندہ کی حکمت عملی کیلئے تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا امریکہ خود تو طالبان سے مذاکرات کرتا ہے لیکن پاکستانی مذاکرات کریں تو امریکہ کو تکلیف کیوں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا مسائل کا حل مذاکرات ہیں گولی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ مزید براں مولانا سمیع الحق نے ڈرون حملوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایسے حالات میں کہ نئی منتخب قیادت حکومتوں کی باگ ڈور سنبھال کر ان مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا چاہتی ہے اور مذاکرات کی امید سسے قوم کو ایک نیا حوصلہ ملنے والا تھا امریکہ اور نیٹو افواج نے ان تازہ حملوں کے ذریعہ پاکستانی حکمرانوں کو ایک وارننگ دی ہے اور پاکستانی قوم اور حکمرانوں کو ایک بدترین آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا ان حملوں میں بعض ایسے اہم افراد کو نشانہ بنایا گیا جن سے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی اور سیاسی بصیرت کی امیدیں تھیں امریکہ نے عملا مذاکراتی راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی جبکہ دو دن قبل خود امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بندوقوں کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو بہترین حل قرار دیا تھا۔ انہوں نے وفاق صوبائی اور عسکری قوتوں سے کہا انہیں اب مزید تاخیر کئے بغیر اس چیلنج کا سامنا کرنے اور پرائی جنگ میں مزید شرکت سے فوری نکل کر ملک کیلئے امن کا راستہ ڈھونڈنا چاہئے ورنہ ملک میں بدامنی اور تباہی و بربادی کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر کے نئی حکومتوں کو ملک کو توانائی اقتصادی اور دیگر بحرانوں سسے نکالنے کے اقدامات اور وعدوں کو پورا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پوری قوم حالیہ ڈرون حملوں سے سکتہ میں ہے جبکہ نئی حکومتوں کی طرف سے اس پر شدید احتجاج کرنا چاہئے اور حلف وفاداری کے بعد سب سے پہلا کام اس مسئلہ پر توجہ دینی چاہئے۔ 


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں