نیوز

12 جولائی 2017

اسلام آباد(نامہ نگار) وفاقی تعلیمی اداروں میں میں طلباء و طالبات کیلئے ہاسٹل کی سہولت موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ہاسٹل کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے شہروں سے آنے والے طلباء و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، جن تعلیمی اداروں میں ہاسٹل کی سہولت موجود تھی وہاں بھعدم توجہ کے باعث عمارتیں ناکارہ ہو چکی ہیں، ذرائع کے مطابق وفاقی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے ملک کے دوردراز علاقوں سے بھی طلباء و طالبات داخلہ لیتے ہیں، فاٹا کا چار فیصد کوٹہ ہے اسی طرح گلگت بلتستان سے بھی طلباء یہاں داخلہ لیتے ہیں لیکن ہاسٹل کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ذرائع کے مطابق بوائز کیلئے ایک بھی ہاسٹل موجود نہیں ہے، صرف ایچ نائن کالج میں ایک برائے نام ہاسٹل موجود ہے جس میں پندرہ بچوں کی گنجائش ہے، ایچ نائن کالج میں 220بچوں کیلئے ہاسٹل کی سہولت موجود تھی لیکن اسکی عمارت ایک دوسرے سرکاری ادارے کو دیدی گئی تھی جبکہ کالج ہاسٹل کیلئے کوئی متبادل بندوبست نہیں کیا گیا، ذرائع کے مطابق ایچ ایٹ کالج میں ہاسٹل کو2008میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، ہاسٹل میں55 بچوں کیلئے یہ سہولت موجود تھی، اب صورتحال یہ ہے کہ ہاسٹل کی عمارت مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے، دیواروں کی سفیدی اتر چکی ہے، جا بجا گھاس اگی ہوئی ہے، عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ذرائع کے مطابق اسی طرح گرلز کالجز کا بھی برا حال ہے، ایف سیون ٹو اور آئی سی جی ایف سکس ٹو میں بچیوں کیلئے یہ سہولت موجود ہے لیکن اوور برڈن ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں