نیوز

12 جولائی 2017

ان دنوں بھی پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے لگا ئے جا رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی صورتِ حال کے دعوے کیے جار رہے ہیں لیکن اس صورتِ حال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ سرکاری سکول جن کی تعداد پنجاب میں تقریباً6700 تھی اب تقریباً4700 رہ گئی ہے مزید سکولوں کی نجکاری کی جا رہی ہے حکومت اپنے عیب چھپانے کے لیے سارا ملبہ اساتذہ اور محکمہ تعلیم پر ڈال رہی ہے کہ اساتذہ پڑھاتے نہیں اور وہاں تعلیم کا فقدان ہے حالانکہ صورت کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو مانیٹرنگ سسٹم ”LND ٹیسٹ“ بورٹ کے امتحاناتDTE، AC, DYDE, DE, EDO, وغیرہ سکولوں کو ماہانہ چیک کرتے ہیں اور رپورٹ لکھتے ہیں حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ہر کام کی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ بچے کے سکول کے کام کو خود چیک کریں اور کام نہ کرنے والے استاد کی نشاندہی کریں اور اس کے خلاف کارروائی کی درخواست حکام بالا کو دیں لیکن حقائق کے بر عکس ہیں اور تمام تر ملبہ اساتذہ پر ڈالا جا رہا ہے اس وقت پرائمری سکولوں میں M.PHIL, M.S.C, MA, M.ED اور پی ایچ ڈی اساتذہ موجود ہیں اس کے علاوہ اساتذہ کے رزلٹ پر سزاءڈراپ آﺅٹ پر سزا، بچوں کی ڈنٹ ڈپٹ پر تھانہ کچہری ، تنخواﺅں کی کمی، سروس کے مسائل، 20,20 سال ایک ہی گریڈ میں سروس، چھٹیوں میں Conveyence Allowance کاٹ لینا ، انکریمنٹ کی سزا ، سروس ضبطگی کی سزا، ضلع بدری کی سزا، Peeda Act کے تحت کارروائیاں یہاں تک کہ سروس سے برخواست کر دینے کی سزا ، بچے کے سکول نہ آنے پر اُستا د کو سزا،شامل ہیں ، حالانکہ اُستاد کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ وہ اصلاح کیلئے بچے کی سرزنش کرتا ہے سوال یہ ہے کہ بچے سرکاری سکولوں میں لوگ داخل کیوں نہیں کرواتے تو اس کی بڑی وجہ نصاب ہے ۔ پرائیویٹ سکولوں کے نصاب اور گورنمنٹ سکولوں کے نصاب میں فرق ہے۔ پرائیویٹ سکولوں میں پلے گروپ، نرسری، پریپ اور پھر پہلی جماعت آتی ہے جبکہ گورنمنٹ سکول میںکچی کے بعد فوراً پہلی جماعت آ جاتی ہے اس کے بعد حکام بالا UPE کا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے اساتذاہ کو 3 ساڑے تین سال کا بچہ سکول میں داخل کرنے کیلئے کہہ دیتے ہیں خواہ وہ سالانہ امتحان میں 2 ماہ قبل کیوں نہ سکول داخل ہوا ہو۔ اس کے علاوہ کچی سے آٹھویں تک بچے کو فیل کرنے کا حکم نہیں اور پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ کے امتحان میںبچے کو رعایتی پاس کر دیا جاتا ہے جبکہ اُستادکو فیل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ حالیہ CSS کے امتحان میں98% لوگ فیل ہو گئے اور 2% لوگ پاس ہوئے۔ ان میں سے اکثر اعلیٰ پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ کر آتے ہوں گے۔بعض پرائیویٹ سکول رجسٹرڈ نہیں اور ایک ایک کمرے میں کھلے ہوئے ہیں اور تعلیمی کھلواڑ مچا رہے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اساتذہ اپنے بچے گورنمنٹ سکول میں نہیں پڑھاتے حالانکہ میں بہت سے اساتذہ کو جانتی ہوں جن کے بچے گورنمنٹ سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے اساتذہ کے ساتھ رویہ درست کیا جائے ان کے گریڈ اپ کیے جائیں ان کے مسائل حل کیے جائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ تعلیمی صورت حال بہتر ہو۔
(مدیحہ مسعود، اسلام آباد)


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں