ناپید ہوتی اشیائ

سعدیہ عثمان ۔۔۔۔
وقت اپنے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں بھی لاتا ہے۔ بہت سی اشیاءوقت کے ساتھ جہاں ہماری زندگیوں میں شامل ہوتی رہتی ہیں وہیں بہت سی اشیائ، عادتیں، اقدار، ہماری زندگیوں سے نکلتی بھی جاتی ہیں۔یہ ارتقائی عمل صدیوں سے چلتا آرہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ اگر اپنی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو ہمارے اردگرد ہمارے استعمال کی بہت سی اشیاءہیں جو درجہ بدرجہ ہماری زندگیوں میں شامل ہوتی رہتی ہیں اور بہت سی اشیاءدرجہ بدرجہ ہماری زندگیوں سے نکلتی بھی رہی ہیں آج ہم چند ایسی ہی اشیاءکا ذکر کرےں گے جو شہری زندگی میں ناپید ہوتی نظر آتی ہیں۔ مٹی کا گھڑا:پہلے زمانوں میں جب بجلی کی سہولت نہیں تھی تو مٹی کے گھڑوں میں پانی بھرا جاتا تھا جس میں پانی ٹھنڈا رہتا تھا۔ پہلے تو شہروں میں بھی اس کا استعمال نظر آتا تھا لیکن اب گھر گھر فریج آنے کے بعد نہ صرف شہروں بلکہ دیہات میں بھی اس کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے۔گھڑوں کے ساتھ مٹی کی صراحیاں بھی پانی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں جن میں سے ہلکا ہلکا پانی رہتا تھا اور گھڑے کا پانی ٹھنڈا ہوجاتا تھا۔ بقول پہلے بزرگوں کے مٹی کی ٹھنڈی تاثیر کے سبب یہ پانی صحت کے لیے بھی اچھا ہوتاتھا۔مٹی کی ہنڈیا:یہ بھی ہماری وہ روایت ہے جو ناپید ہوتی نظر آتی ہے ہماری چند بزرگ خواتین تو ایسی بھی تھیں جو مٹی کی ہنڈیا کے علاوہ کسی اور برتن میں کھانا نہیں بنا سکتی تھیں۔ مٹی کی نئی ہنڈیا کو استعمال سے پہلے ساری رات پانی بھر کے رکھا جاتا تھا۔ شہروں میں تو اب یہ صرف ہوٹلوں میں نظر آتی ہےں جہاں چھوٹی چھوٹی ہنڈیاﺅں میں چکن ہانڈی اور مٹن ہانڈی ڈال کر لوگوں کو پیش کی جاتی ہےں۔ دیہات میں اب بھی اس کا کافی استعمال نظر آتا ہے ۔ گاﺅں کی خواتین گھر کا کھانا مٹی کی ہنڈیا میں ہی پکاتی ہیں۔چھابیاں:یہ وہ لفظ ہے جس سے آج کل کے شہروں کے بچے شاہد واقف بھی ناہوں۔ لیکن دیہات میں اب بھی روٹیاں رکھنے کے لیے ”چھابیاں یا چھابے“ استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلے پہل چھابیاں کانوں کی چھال سے بنائی جاتی تھیں پھر ان کی جگہ پلاسٹک کی چھابیوں اور چھابوں نے لے لیں۔شہروں میں تو اب روٹیاں وغیرہ رکھنے کے لیے ”ہاٹ پاٹ“ یا پلیٹیں استعمال کی جاتی ہیں لیکن شہر کے کئی ہوٹلوں میں کلچر کو نمایاں کرنے کے لیے اب بھی اس کا استعمال نظر آتا ہے۔مٹی کے مرتبان:مٹی کے مرتبان مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان میں اکثر اچار اور مربے وغیرہ رکھے جاتے تھے۔ دیہات کی خواتین تو اب بھی اس کو استعمال کرتی ہیں لیکن شہروں میں مٹی کے مرتبانوں کی جگہ پلاسٹک کے ڈبوں نے لے لی ہیں۔ مٹی کے مرتبان عموماً باہر سے سفید رنگ کے اور چمکدار ہوتے تھے اور ان کے اوپر مٹی کا ڈھکن بھی ہوتا تھا تاکہ مرتبان میں رکھی چیز کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہ سکے۔پراندہ:پراندہ ہمارے گاﺅں اور دیہات کی خواتین اور بچیوں کے بناﺅ سنگھار کا ایک اہم جزو تصور ہوتا ےہ۔ بچیاں اور عورتیں اپنے بالوں کی چٹیا بناتے ہوئے پراندے کو بھی ساتھ پروتی ہیں۔دیہات میں بہت خوب صورت کڑھائی اور شیشوں والے رنگ برنگے پراندے پہنے جاتے ہیں۔ گھنگھرو ان پراندوں کا ایک اہم جزو شمار ہوتے ہیں۔ لیکن شہروں میں اب بچیوں اور خواتین کے لمبے بال دیکھنے کو کم ہی ملتے ہیں تو پراندے کہاں سے نظر آئےں گے۔ شہروں میں بچیاں ”مہندی“ کے فنکشن وغیرہ میں لہنگے اور غراروں کے ساتھ یا پھر چوڑی پاجاموں کے ساتھ پراندے پہننا پسند کرتی ہیں لیکن رفتہ رفتہ اس کا استعمال کم ہوتا نظر آتا ہے۔تانگہ:یہ وہ سواری ہے جو پہلے پہل شہروں اور دیہات میں یکساں نظر آتی تھی۔ لیکن اب ہر گاﺅں تک محدود ہوتی نظر آتی ہے۔ شہروں میں تو تانگے کی جگہ ”چاند گاڑیوں“ یعنی موٹرسائیکل رکشوں نے لے لی ہیں۔ گاﺅں اور قصبوں میں اب بھی لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے تانگے ہی استعمال کرتے ہیں۔ شہروں میں تانگہ اب ”بگھیوں“ کی صورت ہی میں نظر آتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر دولہا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بگھی پر آئے ۔ ان بگھیوں کو بہت خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے اور ان کے منہ مانگے کرائے وصول کیے جاتے ہیں۔شہروں کی تو معروف سڑکوں پر تانگوں کا داخلہ ہی بند کردیا گیا ہے۔ممکن ہے ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ان اشیاءکو صرف عجائب گھروں میں ہی دیکھا کریں۔ دیہات اور قصبوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ جہاں لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے وہیں ان کی زندگیوں میں بھی نمایاں تبدیلی شروع ہوجاتی ہےں اور وہ بہتر سے بہتر سہولتوں کے استعمال کے عادی ہوجاتے ہیں لیکن دیہات میں ہمیں ابھی یہ اشیاءنظر آتی ہیں لیکن جیسے ہی ترقی کا رُخ دیہات کی طرف ہوا وہاں بھی یہ چیزیں ناپید ہوتی چلی جانے لگیں۔