بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک بار پھر نظر انداز

عنبرین فاطمہ ۔۔۔
پاکستان یقیناً ایک زرعی ملک ہے لیکن معیشت کی مضبوطی میں انڈسٹری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔زراعت اور صنعت میں مربوط ہم آہنگی پیدا کر دی جائے تو پاکستان کی معیشت اوج ثریاپہنچ سکتی ہے۔پاکستان میں آمریتوں کے ساتھ جاگیرداروں اور صعنت کاروں کی حکومتیں بھی رہیں مگر صنعت کو وہ مقام نہ مل سکا جو اس کے شایان شان تھا۔مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی صنعت کو بجٹ میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جو اس کی نشانی تھی۔توانائی کے شدید بحران سے لا تعداد کارخانے فیکٹریاں اور چھوٹے موٹے کاروبار بند ہوئے جس سے لاکھوں افراد جن میں پندرہ لاکھ تو ڈیلی ویجز تھے بے روزگار ہو گئے۔اس سب کے باوجود بھی صنعت کا پہیہ کسی نہ کسی صورت گھومتا رہا۔گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ ٹیکسٹائل انڈسٹری متاثر ہوئی جس سے برآمدات کا ہدف کسی ایک سال بھی پورا نہ ہو سکا۔ضرورت تو توانائی بحران پر قابو پانے اور انڈسٹری کےلئے ٹیکسوں میں چھوٹ کی تھی۔لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کےلئے تو حکومت اقدامات کر رہی ہے لیکن ٹیکسوںمیں چھوٹ کے بجائے ان میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور وہ بھی بجٹ کی منظوری سے کئی ہفتے قبل۔جس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لے کر کم از کم ایک ماہ کے لئے تو ہر طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے۔حکومت اگر انڈسٹری کو ترقی کی معراج پر پہنچانے اور ملک چھوڑنے والے صنعت کاروں کو پاکستان میں ہی کاروبار جاری رکھنے پر قائل کرنا چاہتی ہے تو اسے اس شعبے کےلئے مراعات کا اعلان کرنا ہوگا۔ اگر حکومت نے اس انڈسٹری کی طرف توجہ نہ دی تو تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ کی منظوری سے قبل ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشکلات کا جائزہ لے ” ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دیئے جانے کے حوالے سے حکومتوں کا کیا کردار ہونا چاہیے“ اس حوالے سے ہم نے اپٹما کے عہدیداراور چند ایک ایسے ڈیزائنرز سے بات کی جواس سیکٹر سے جڑے ہیں اور جنہوں نے اس سیکٹر کے اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں۔اپٹما کے عہدیدار” انیس الحق“ نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کےلئے سنجیدہ اقدامات نہیںا ٹھائے گئے ریلیف اور سبسڈی تو ایک طرف بلکہ مزید ٹیکسزکا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک افسوسناک ہے حالانکہ یہ وہ انڈسٹری ہے جو پاکستان میں نہ صرف روزگار کے مسائل کم کر سکتی ہے بلکہ ایکسپورٹ میں بھی اضافہ کرتی ہے اور قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔اس انڈسٹری کے معمولی معاملات پر حکومت توجہ دے تو خاطر خواہ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔2009-14تک کےلئے ایک ٹیکسٹائل پالیسی بنائی گئی تھی اس کے علاوہ 2013-14ٹریڈ فریم ورک ترتیب دیا گیا تھا لیکن یہ سب کچھ کھٹائی میں پڑ گیا اور کسی نے بھی اس پر توجہ دینا گوارہ نہ کیا۔آمنہ کاردار نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قلت اور طویل لوڈ شیڈنگ نے جب خطرناک صورت اختیار کی تو اس کا سب سے پہلے شکار ٹیکسٹائل انڈسٹری ہوئی۔ملک میں جو بھی بجلی اور گیس موجود ہے اس پر دوسرے ممالک کی طرح پہلا حق صنعتی شعبے کا ہے۔ٹیکسٹائل سے وابستہ افراد مندی کی وجہ سے سال بھر اعتکاف کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں پاکستان کا شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔حکومت کی توجہ ہی اس شعبہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔دیگر ممالک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینے کےلئے مناسب اقدامات کئے جاتے ہیں وہ اس سیکٹر کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں افسوس ہم نے آج تک اس کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں۔آصفہ نبیل نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کی بحرانی کیفیت اور دیگر عوامل کے باعث اس سیکٹر کی برآمدات میں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ ملک کا واحد سیکٹر ہے جو ملکی برآمدات میں فوری اضافہ کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ملک میں جاری توانائی کا بحران تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے اس بحران کی وجہ سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار ختم ہو چکا ہے کئی گھروں میںنوبت فاقہ کشی تک آچکی ہے۔ ذراعت اور صنعت دو ایسے شعبے ہیں جن میں روزگار کے مواقع زیادہ ہیں لیکن اگر یہی دو شعبے بحرانی کیفیت کا شکار رہیں گے تو معاشی مسائل زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر جائیں گے۔حکومت کا اس شعبے کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک قابل افسوس ہے۔نکی نینا نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تباہی سے15لاکھ خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل طور پر بر آمدات پر مبنی ہیں جبکہ پڑوسی ممالک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لئے جامع تحقیقات اور تجربات کی ضرورت ہے۔دیکھا جائے توپاکستان کی ٹوٹل انڈسٹری کا 2/3حصہ ٹیکسٹائل صنعت پر مشتمل ہے اس حساب سے ایکسپورٹ کے ذریعے جو فارن ایکسچینج ہمارے پاس آتا ہے اس میں ہمیشہ سے60سے70فیصد حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہوتا ہے اس میں اب کچھ کمی واقع ہو ئی ہے جس کی وجہ سے موجودہ بحران ہے اور ہماری ایکسپورٹ اس طرح بڑھ نہیں رہی جتنی ہم صلاحیت رکھتے ہیں اگر ہم مکمل کپیسٹی کے مطابق چلیں اور پوری طرح ایکسپورٹ کریں تو یقیناً3سے4بلین ڈالر ز فوری اضافہ ہو سکتا ہے۔سارا شاہد نے کہا کہ وطن عزیز کی معیشت رو بہ زوال ہے تجارتی خسارہ،جاری حسابات کا خسارہ ، غذائی گرانی اور تیزی سے گرتی ہوئی صنعتی پیداوار ہمارے لئے مشکلات کا پیش خیمہ ہے۔بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ قومی معیشت پر نا خوشگوار اثرات مرتب کر رہا ہے اور گیس بجلی کی شدید قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھنے سے کئی صنعتی ادارے بند ہو چکے ہیں یہ صورتحال قومی معیشت کے لئے بے حد تشویشناک ہے ۔صنعتی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کو بچانے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے حالات بہتری کی طرف جاتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔جبکہ پاکستان کی صنعت و تجارت پہلے ہی متعدد اندرونی بیرونی عناصر کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے اور ان پریشان کن حالات میں کاروباری طبقہ حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو ان مشکلات سے باہر نکالنے کے لئے ضروری اصلاحی اقدامات اٹھائےگی۔کسی بھی ملک کی صنعت کی ترقی کےلئے معدنیات بہت ضروری ہوتی ہیں پاکستان میں چونکہ اس ذرائع کی قلت ہے اور ضرورت کے مقابلہ میں قدرتی گیس اور بجلی کی بھی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی صنعتیں آئے روز بند رہتی ہیں ۔صنعتوں کا اس طرح بند ہونا ایک طرف تو پیداوار میں کمی کا باعث بنتا ہے اور دوسری طرف بے روزگاری میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔بی جی نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا فروغ بد قسمتی سے کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں نہیں رہا۔ہاں سیلز ٹیکس کتنا لگانا ہے اس پر خاصی توجہ دی جاتی ہے۔میں کئی برسوں سے ملبوسات تیار کرنے کا کام کر رہی ہوںایک وقت تھا جب ٹیکسٹائل انڈسٹری پھل پھول رہی تھی۔بم دھماکوں اور بجلی کی قلت نے کام کو ٹھپ کرکے رکھ دیا ہے۔دوسرے ملکوں کی کامرس منسٹری اس شعبے کو ترقی دینے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری سے نبھاتی ہے۔ہمارے ہاںکامرس منسٹری کا ”ایکسپورٹ پرمیشن بیورو“ کے نام سے ایک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے شوز کا انعقاد کرے جس میںانٹرنیشنل بائیرز کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائے اور اس میں آنے والے تمام اخراجات برداشت کرنا حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔گوچی۔وساچی،ڈئیور،وائے ایس ایل،زارا اور مینگو جیسے دیگر بڑی کمپنیاں بھارت ،بنگلہ دیش اور ملائیشا جیسے ملکوں کو آڈرز دیتی ہیں اور یوں یہ ملک فائدہ اٹھا رہے ہیں ان ملکوں میں انٹرنیشنل بائیرز کو بلایا جاتا ہے جو کہ وہاں کے ڈیزائنرز کا کام دیکھ کر ان کو آرڈرز دیکر جاتے ہیں۔ہماری کامرس منسٹری تو اس معاملے میں بالکل فیل ہے لیکن سمیڈا تھوڑا بہت کام کررہا ہے لیکن وہ بھی آج تک پاکستان میں انٹرنیشنل بائیرز کو بلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کے لئے اقدامات نہ کئے گئے اور بجلی کے معاملات کو اولین ترجیحات نہ بنایا گیا تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔