پاکستان زمبابوے سیریز اختتامی مراحل میں داخل مہمان ٹیم نے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے

چودھری اشرف
پاکستان اور زمبابوے کے درمیان تاریخی سیریز اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی ہے جس کا آخری میچ کل بروز اتوار کو کھیلا جائیگا۔ میزبان پاکستان ٹیم نے سیریز میں کھیلے جانے والے دو ٹونٹی میچز کے علاوہ تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کر کے پانچ میچوں کی سیریز میں مجموعی طور پر برتری اپنے نام کر لی ہے تاہم سیریز کے اگلے دو میچز کے لیے بھی پاکستان ٹیم ہی فیورٹ جانی جا رہی ہے۔ دوسرے ایک روزہ میچ کا نتیجہ آج کے نیوز کے صفحات پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں تک ابھی تک کی کارکردگی کا تعلق ہے اس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے بیٹنگ کے شعبہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل میچز کو ترسے پاکستانی شائقین کرکٹ کو خوب تفریح کا موقع فراہم کیا۔ دو ٹی ٹونٹی اور پہلے ون ڈے میں شائقین کرکٹ نے دونوں ٹیموں کو بھرپور سپورٹ کیا۔ چھکے چوکے لگنے کے ساتھ ساتھ وکٹیں بھی گرتی رہیں جس پر شائقین خوب لطف اندوز ہوئے۔ پاکستان میں چھ سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ضرور ہو گئی ہے تاہم اس سیریز میں پائی جانے والی خامیاں اس قدر زیادہ ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سیریز کے انعقاد پر شادیانے بجا رہا ہے اصل میں یہ پنجاب حکومت کی کامیابی ہے جس نے سیریز کے لیے فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں سیکورٹی اور دہشت گردی کے واقعات کی بنا پر جو حالات جا رہے تھے ایسے میں کسی بھی ٹیم کا یہاں آ کر کھیلنا انتہائی مشکل تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو سیریز کے انعقاد کا تمام کریڈٹ نہیں دیا جا سکتا تاہم اتنا ضرور ہے کہ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کے سفارتی تجربہ کی بنا پر زمبابوے ٹیم پاکستان کے دورہ پر آئی ہے ایسی باتیں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں کہ سابق چیئرمین نجم سیٹھی بھی اس سیریز کے انعقاد کا کریڈٹ اپنے ذمہ لینا چاہتے ہیں۔ چھ سال بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ تو بحال ہو گئی ہے۔ پاکستانی عوام کی ہمیشہ سے کمزوری رہی ہے کہ وہ اہم مواقعوں پر فائدہ اٹھانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں کام کرنے والے افراد نے بھی اس سیریز کا خوب فائدہ اٹھایا ہے اس بارے میں سب کو پتہ ہے کہ کس نے کیا کیا ہے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان سیریز کے دوران شائقین کی بڑی تعداد ٹکٹوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے رہے ہیں۔ اکثر شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے جس میں سیریز کی ٹکٹوں کی فروخت کے لیے نجی بیکری کو ٹھیکہ دیدیا گیا تھا۔ افسوس کے نجی بیکری کے عملہ نے من پسند افراد کو نوازتے ہوئے بڑی تعداد میں ٹکٹیں جاری کر دیں جبکہ سستی ٹکٹوں کا حصول عام شائقین کرکٹ کے لیے مشکل رہا۔ بڑی تعداد میں سستی ٹکٹیں خریدنے والوں نے من مرضی کے دام وصول کیے۔ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب بھی کسی سیریز کے ٹکٹ فروخت کرنے ہوتے تھے تو اس کے لیے کسی بنک کو ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔ لازمی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نجی بیکری کو ٹکٹوں کی فروخت کے لیے دیئے جانے والے ٹھیکے کا دفاع کرئے گا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے نجی بیکری کے مالک کو خوش ہی کرنا تھا تہ کم از کم قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں موجود بیکری کو ٹکٹوں کی فروخت کی ذمہ داری سونپ دی جاتی۔ اس سے کم از کم کرکٹ شائقین ٹکٹوں کے حصول کے لیے پورے لاہور کی خاک نہ چھانتے۔
زمبابوے کرکٹ بورڈ اور ٹیم نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیکر شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے ہیں، کیونکہ مہمان ٹیم نے ایک ایسے  وقت میں پاکستان آنے کے لیے حامی بھری تھی جب کوئی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں تھی امید ہے کہ زمبابوے کی ٹیم پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی۔ حکومت پنجاب اور سپورٹس بورڈ پنجاب نے اس سیریز کے کامیاب انعقاد کے لیے بڑی محنت کی ہے جس پر وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دوسری جانب لاہور پولیس کے کردار کو بھی سراہا جانا ضروری ہے جنہوںنے دن رات سیریز کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے اس سیریز کا کامیاب انعقاد ضروری ہے جس کے مستقبل میں مثبت نتائج ملیں گے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک لمبے عرصے کے بعد اپنے شائقین کے سامنے جوہر دکھانے کا موقع ملا ہے۔ قذافی سٹیڈیم کی وکٹیں تیار کرنے والے حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی بیٹنگ لائن کو اعتماد دینے کے لیے بیٹنگ وکٹیں تیار کی ہیں تاکہ شائقین کرکٹ کو بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے۔  بلے بازوں نے ان وکٹوں پر اچھے رنز بنائے ہیں جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہوگا۔ حاجی بشیر نے جو وکٹیں تیار کی ہیں اس پر پاکستانی کھلاڑیوں نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے جہاں تک زمبابوے کے خلاف پہلے ایک روزہ میچ کی کارکردگی کا ذکر ہے اس میں ہیڈ کوچ اور معاون کوچ مشتاق احمد نے سابق کپتان شعیب ملک کا اعتماد بحال کرنے کے لیے جس طرح ان کا ساتھ دیا ہے اس پر شعیب ملک بھی ان کے مشکور ہیں۔ قذافی سٹیڈیم میں زمبابوے کے خلاف منعقد ہونے والی سیریز ابھی تک ریکارڈ ساز رہی ہے جس میں اس میدان میں کھیلے جانے والے پہلے دو انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی میچز بھی پاکستان کے نام رہے ہیں۔ دونوں میچوں میں مہمان زمبابوے ٹیم نے بڑے ٹوٹل بورڈ پر سجائے تھے اچھی بات تھی کہ دونوں میچوں میں ہماری بیٹنگ لائن نے ان اہداف کو حاصل کر لیا۔ بہر کیف نیا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے جس نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بھی ریکارڈ ساز رہا ہے جس میں پاکستان ٹیم نے قذافی سٹیڈیم کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل بنایا۔ اس سے قبل اس میدان میں قومی ٹیم کا زیادہ سے زیادہ سکور 322 رنز تھا جو اب 375 رنز ہو گیا ہے۔ شعیب ملک نے چھ سال بعد ملنے والے موقع پر شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کیرئر کی آٹھویں سنچری سکور کی۔ جبکہ اس کے علاوہ ایم حفیظ، کپتان اظہر علی اور حارث سہیل تمام نے بڑا سکور بنایا اور اپنا اعتماد بحال کیا۔ احمد شہزاد کو اس میچ میں موقع نہیں دیا گیا کپتان اظہر اور حفیظ نے اننگز کا آغاز کیا۔ اچھی بات ہے کہ نئے کپتان نے ٹیم کو فرنٹ فٹ پر لیڈ کرنا شروع کیا ہے تاکہ کوئی ان پر الزام نہ لگائے کہ وہ ڈرتے ہیں۔ اظہر علی میں ایک اچھے بیٹسمین والی تمام خوبیاں موجود ہیں انہیں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ساتھی کھلاڑیوں کے تعاون کی اشد ضرورت ہوگی۔ اگر حفیظ، شعیب ملک اور احمد شہزاد جیسے کھلاڑیوں میں کپتانی کی آرزو نہ جاگی تو اظہر علی قومی ٹیم کو ایک وننگ یونٹ میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ شعیب ملک کی جس طرح واپسی ہوئی ہے امید ہے کہ وہ ٹیم میں ایک سینئر کھلاڑی کے رول کو بخوبی نبھائیں گے۔ شعیب ملک نے پہلے میچ میں سنچری سکور کی ہے امید ہے کہ ان کا اعتماد بحال ہوا ہوگا۔ ٹیم مینجمنٹ نے شاید مستقبل میں یونس خان کے خلا کو پر کرنے کے لیے شعیب ملک کو نمبر ون کی پوزیشن پر موقع دیا ہے۔ ابھی سیریز کے دو میچ باقی ہیں اگر ان میں بھی شعیب ملک اسی پوزیشن پر کھیل کر بڑا سکور بنانے میں کامیاب رہتے ہیں تو لازمی بات ہے اس کا پاکستان ٹیم کو اگلے ماہ سری لنکا کے دورہ پر ہونے والی سیریز میں فائدہ ہوگا۔ زمبابوے کے خلاف اس سیریز میں دورہ بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کا باولنگ اٹیک بری طرح ناکام رہا ہے۔ ایم سمیع جن کی تین سال بعد واپسی ہوئی ہے پتہ نہیں ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو نظر انداز کر کے انہیں مسلسل مواقعے دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستانی ٹیم میں کراچی کے کھلاڑیوں کو شامل کیے بغیر ٹیم پوری نہیں ہو سکتی ہے اسی وجہ سے شاید چند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے منظور نظر کھلاڑیوں کو بار بار مواقع دیئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کی سلیکشن کمیٹی نے اگر میرٹ کو بلاطاق رکھ کر فیصلے کیے تو اس کے مستقبل میں بھیانک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ دورہ بنگلہ دیش اس کی ایک مثال موجود ہے جس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔