سکواش کے کھلاڑی فیدڑیشن کی ناقص پالیسی پرپھٹ پڑے

                                                                        عبدالشکورابی حسن
صحرائے کویت میں سکواش کے کورٹ میں راکٹ کے شاٹس اورجب ’’بال ٹپ ٹپ‘‘ کرتی ہیں تو پاکستان کے وہ کھلاڑی ذہنوں میں گھومتے ہیں جنہوںنے 37سال تک سکواش کے کورٹوں میں حکمرانی کی، رستم خان ،رحمت خان ،قمر زمان، جہانگیر خان اورجان شیرخان کے بعد پاکستان سے سکواش کی بادشاہی جیسے روٹھ ہی گئی اس میں کھلاڑیوں کا قصورہے یا فیڈریشن کا؟ جو کھلاڑیوں کی نشوونما میں کمی کررہی ہے یا کھلاڑیوں کو سیاست اور انا کی نظر کرکے پاکستان میں سکواش کے مستقبل کو سازش کے تحت تباہ کیاجارہاہے۔ جان شیر کے بعد امجد خان، عمران خان، احمد گل، عامراطلس، فرحان محبوب نے اپنے تئیں بہت کوشش کی لیکن فیڈریشن کی سیاست نے سکواش کے کھیل کا ستیا ناس کر دیا ہے اور یہ کھلاڑی اپنا مستقبل تاریک کر بیٹھے اور اب ان میں کوئی دوسرے ممالک میں کوچنگ کر رہا ہے یا پھر اپنے ہی ملک میں گم نامی کی زندگی گذار رہا ہے کسی پر اخباری نمائندئوں کے ساتھ گفتگو کے بعد پابندی عائد کرکے گھر بیٹھا دیا جاتا ہے جو ان کے جذبات کو ہمیشہ کے دفن کرنے کے مترادف ہے کرکٹ میںتو کوئی چھکا مار دے تو ملک ریاض اس کو پلاٹ سے نواز دیتے ہیں اور معروف اینکر یا کالم نگار ان کے قصیدے لکھ دے تو وہ فوراً ان کی مددکے لئے لبیک کہہ دیتے ہیں لیکن جو کھلاڑی اپنی محنت سے پاکستان کا نام بلندکرتا ہے ان کے لئے توحکومت انہیں انعام سے نوازتی اورنہ ہی کوئی دولت مند ان کی خدمت کے لئے آگے آتا ہے پاکستان میں سکواش اگر برباد ہوگئی تو اس کی ذمہ داری حکومت اور فیڈریشن پر تو ہوگئی ہی لیکن وہ سپانسرکمپنیاں اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو کھلاڑیوںکے لئے کسی قسم کی سرپرستی نہیں کرتے۔ گذشتہ دنوں کویت میں منعقد ہونے والی ’’ایشین انفرادی سکواش چیمپئن شپ‘‘ میں چار پاکستانی کھلاڑیوں طیب اسلم، دانش اطلس، فرحان زمان اور ناصر اقبال نے شرکت کی اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ناصر اقبال اور فرحان زمان نے سیمی فانل تک رسائی حاصل کی اور انتہائی سخت مقابلہ کے بعد شکست سے دوچار ہوئے۔ ناصر اقبال کو کویتی کھلاڑی عبداﷲ المزین اور فرحان زمان کو ہانگ کانگ کے لیو ایو نے شکست سے دوچار کیا۔ طیب اسلم جو پاکستان کے نمبر ون کھلاڑی ہیں اور دانش اطلس ابتدائی راؤنڈز میں ہی شکست سے دوچار ہو گئے۔ انجینئر ارشد نعیم چوہدری نے چاروں ان کھلاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کو اپنے گھر عشائیہ پر مدعو کیا حالانکہ کویت میں ایک روایت بن چکی ہے پاکستان سے آنے والوں کے اعزازمیں پارٹی یا انہیں شیلڈ سے نوازدیاجاتاہے یہ چاروں کھلاڑیوں کے معصوم چہروں پر مایوسی عیاں تھی اوریہ کھلاڑی اتنے غصے میں تھے کہ وہ بالاخر’’ پھٹ ہی پڑے ‘‘پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار پاکستان سکواش فیڈریشن کو قرا ر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو سہولتیں حاصل نہیں، وہ اپنی جیب سے ٹکٹ خرید کر ٹورنامنٹ کھیلنے جاتے ہیں۔ سیمی فائنل کھیلنے والے کھلاڑی ناصر اقبال نے کہا کہ پاکستان سکواش میں کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کے مالی مسائل حل کئے جائیںاورکوئی سپانسرشپ ملے تو ہمارا حوصلہ بلندہوجائے گا۔ کھلاڑی اپنی انعامی رقم سے ٹکٹ خرید کر جاتے ہیں۔ وہ کویت سے برٹش اوپن کھیلنے انگلینڈ جا رہے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ کہاں قیام کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اکیڈمی کھولی جائیں۔ سکول کی سطح پربچوں کو تربیت دی جائے۔ مصر میں ایک ایک اکیڈمی میں دو دو سو بچے ہیں۔ ان میں سے اچھے کھلاڑی مل رہے ہیں۔ سکواش کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی فرحان زمان نے جو سابق عالمی چیمپئن قمر زمان کے بھتیجے ہیں، کہا کہ وہ لوگ اپنی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں، کویت میں ان کا اور ناصر اقبال کا سیمی فائنل کھیلنا بہت اچھا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کی عالمی درجہ بندی میں پوزیشن 50 درجہ سے بھی نیچے ہے، اگر وہ پندرہویں سولہویں پوزیشن کے کھلاڑیوں سے سخت مقابلہ کرتے ہیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کا معیار تو بہت بلند ہے، ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن پر کوئی انعام نہیں دیا گیا۔ یہی اعزاز انڈین کھلاڑیوں نے حاصل کی ہوتی تو ان پر انعامات کی بارش ہو جاتی، جب کھلاڑیوں کو ریکٹ میسر نہیں، وہ کہاں سے گیندخریدیں، 200 روپے کی گیند آتی ہے، ایک کھلاڑی دن میں دو گیندیں تو پھاڑ دیتا ہے۔ ریکٹ گیارہ ہزار روپے سے آتا ہے، ایک کھلاڑی کے پاس کم از کم پانچ ریکٹ تو ہونے چاہئیں۔ یہ چیزیں اسکولوں میں بانٹنی چاہئیں تاکہ اچھے کھلاڑی تلاش کئے جا سکیں۔ دانش اطلس جو عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی عامر اطلس کے بھائی ہیں، کہا کہ ورلڈ جونیئر میں پاکستانی کھلاڑی دوسرے جبکہ انڈین کھلاڑی پانچویں نمبر پر تھے، وہ بڑے خوش تھے کہ اب ان پر انعامات کی بارش ہو جائے گی۔ جو کھلاڑی کھیل رہے ہیں وہ اپنی دلچسپی اور شوق سے کھیل رہے ہیں۔ دو سال پہلے تنویر محمود جب سکواش فیڈریشن کے سربراہ بنے تو ان کے بھائی عامر اطلس کو ٹارگٹ دیا کہ وہ انیسویں سے سولہویں نمبر پر آئیں گے۔ ایک سال میں اس نے یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا، پھر ٹارگٹ دیا کہ 13 ویں نمبر پر آؤ، اس نے یہ ہدف بھی حاصل کر لیا۔ وہ پہلی دس پوزیشنوں پر آجاتا مگر فیڈریشن کے سربراہ تبدیل ہو گئے، اور نئے سربراہ نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر عامراطلس پر پابندی عائد کر دی۔ چاروں کھلاڑیوں طیب اسلم، دانش اطلس، فرحان زمان اور ناصر اقبال نے بیک زبان ہو کر ان الزامات کی تردید کی کہ نوجوان کھلاڑی ٹریننگ نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی کھلاڑی آٹھ آٹھ گھنٹے ٹریننگ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ کویتی کھلاڑی عبداﷲ کو صرف ایک کلب سے 400 دینار ماہانہ ملتے ہیں جبکہ ہمیںدس ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں اور وہ بھی نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند کر دیئے گئے۔اس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں حوصلہ شکنی ہوتی ہے اگر کوئی ہمیں سپانسر شپ مل جائے تو ہم قوم سے وعدہ کرتے ہیں ہم انشاء اﷲ تعالی سکواش کے کورٹ میں پاکستان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔