فٹ بال تنظیم ’’فیفا‘‘ کے عہدیداران سکینڈل کی زد میں

(خالد یزدانی)
دنیا میں سب سے زیادہ مقبول کھیل فٹ بال ہے آج اس کی تنظیم ’’فیفا‘‘ کے عہدیداران سکینڈل کی زد میں ہیں جبکہ  ’’فیفا‘‘ کے صدارتی عہدے کے لئے   باڈی کے موجودہ صدر سیپ بلاٹر مسلسل پانچویں بار اس عہدے کا انتخاب لڑ رہے ہیں  اگرچہ موجودہ صدر فیفا کو سکینڈل کے باوجود فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے لیکن سوئٹرز لینڈ میں فیفا کے عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد ان کو ہٹانے کی صدائیں بھی بلند ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق سوئزر لینڈ کے شہر زیورخ میں پولیس نے فیفا کے 7 عہدیداروں کو مقابلوں کی میزبانی کے حصول، مقابلوں کی  تشہیر اور نشریات کے معاہدوں میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کر کے  ان کے بینک اکائونٹس  بھی منجمد کر دیئے ، جبکہ فیفا نے فوری طور پر  11 عہدیداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کام سے روک دیا ہے۔ اسی دوران  فیفا کے ترجمان نے صدر سیپ بلاٹر اور جنرل سیکرٹری جیروم والکے کے کرپشن میں ملوث نہ ہونے کی وضاحت جاری کرنے کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ  7 سرکردہ عہدیداروں کے کرپشن  الزام میں گرفتار کئے جانے کے باوجود فیفا کے صدارتی الیکشن اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جمعہ  کو  ہونگے۔ صدارتی انتخابات میں سیپ بلاٹر کا مقابلہ پرنس علی ابن الحسین سے ہو گا
دریں اثنا 2018ء اور 2022ء میں ہونیوالے ورلڈ کپ کی میزبانی دیئے جانے کے بارے میں بھی ایک علیحدہ  تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم فیفا نے عالمی مقابلوں کے لئے دوبارہ ووٹنگ کرانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فیفا کا اصرار ہے کہ عالمی مقابلوں کی میزبانی روس اور قطر ہی کریں گے۔ دریں اثنا فیفا کی صف اول کی پانچ سپانسر کمپنیوں نے عالمی تنظیم کو کرپشن سے پاک کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیفا مضبوط تر اخلاقی معیار ترتیب دے۔ سپانسر کمپنیوں کے حکام نے کہا ہے کہ اگر فیفا نے اپنے اخلاقی مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہ دی تو وہ سپانسر ختم کر دینگے۔   حالیہ کرپشن سکینڈل پر ہمیں انتہائی مایوسی کیساتھ ساتھ شدید تحفظات بھی ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ فیفا مضبوط اخلاقی روایات کی ازسر نو تعمیر کرے گا اور تمام مسائل کو مکمل طور پر حل کریگا۔  جبکہ سپانسرز نے قطر کی میزبانی پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
فٹبال کے عالمی ادارے، فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشنز ( فیفا) کے سینیئر افسران پر کرپشن کے الزامات اور ان کی گرفتاری کے باوجود فیفا نے کہا ہے کہ وہ اپنی سالانہ 65ویں کانگریس کا آغاز معمول کے مطابق جمعہ ہی  کو کرے گی۔ بڑے سپانسرز نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیفا کو خبردار کیا ہے کہ وہ فیفا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر زیوریح میں ہونے والے اس اجلاس میں فیفا کی پچھلے سال کی کارکردگی کے علاوہ فیفا کے نئے صدر کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔فیفا کے سب سے بڑے سپانسرمشروب ساز کمپنی  کا کہنا  ہے کہ ’موجودہ صورتحال نے فیفا کا نام بدنام کردیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ فیفا اپنے مسائل کو حل کرے‘۔ جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فاسٹ فوڈ کمپنی اور سپانسر نے کہا ہے کہ ’صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے اور ہم اس کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ادھر فٹبال کی یورپی تنظیم یوئیفا نے فیفا کے سینیئر افسران پر کرپشن کے الزامات اور ان کی گرفتاری کے بعد پولینڈ کے شہر وارسا میں ہونے والے اپنے ہنگامی اجلاس میں کئی اہم نکات پر بات کی۔  آج ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یورپی تنظیم کل ہونے والے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ الزامات اور گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کرپشن کی جڑیں فیفا کہ اندر کتنی گہری ہیں۔یہ تنظیم پہلے ہی صدارتی الیکشن کی سخت الفاظ میں مخالفت کرچکی ہے۔۔ سوئس حکام کے مطابق حالیہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں بلاٹر کا نام شامل نہیں ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سات سرکردہ عہدیداروں کو بطور رشوت 15 کروڑ ڈالر لینے کے جرم میں حراست میں لیا کے    حوالے سے امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ کا کہنا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے عہدیداران نے جنوبی افریقہ میں 2010 کا ورلڈ کپ کرانے کے لیے رشوت لی تھی۔لوریٹا لِنچ نے یہ بات فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کے بارے میں ایک  پریس کانفرنس میں  کہی۔انھوں نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا پر الزام عائد کیا کہ 2011 میں فیفا کے صدر کے انتخاب پر بھی رشوت دی گئی تھی اور اس کے علاوہ 2016 میں کوپا لبرتادوریس ٹورنامنٹ میں بھی رشوت دی گئی تھی۔ ’فیفا کے سرکردہ عہدیداران نے رشوت لینے کے لیے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے ایسا بار بار کیا، ایک سال کے بعد دوسرے سال، ایک ٹورنامنٹ کے بعد دوسرے ٹورنامنٹ میں۔
جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں سیپ بلیٹر کا مقابلہ پرنس علی ابن الحسین   سے ہے۔ سیپ اس الیکشن میں کامیاب ہو کر پانچویں بار فیفا کے صدر کے طور پر منتخب ہونے کے خواہش مند ہیں۔جبکہ پرنس علی نے بدھ کو ہونے والے اس واقعے کو  ’فٹبال کا سوگوار ترین دن‘ قرار دیا ، تاہم انھوں نے اس کے بارے میں مزید بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔فیفا کی جانب سے    ایک بیان میں اس قسم کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور کہا ہے کہ ان اقدامات سے فٹبال میں ہونے والے کسی بھی قسم کے غلط کاموں کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ کے صدر سیپ بلاٹر نے بدعنوانی کے معاملات میں تنظیم کے اعلیٰ عہدیداران کی  گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ان کی اس کھیل میں کوئی جگہ نہیں۔سیپ بلاٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’فٹبال میں اس قسم کے غیر مناسب رویے کی کوئی جگہ نہیں اور ہم یقینی بنائیں گے کہ جو ان سرگرمیوں میں ملوث رہا اسے اس کھیل سے باہر کر دیا جائے۔
ان کا یہ بیان امر  یکی محکمہ انصاف کی جانب سے فیفا میں دو دہائیوں سے جاری منظم بدعنوانیوں کی تحقیقات جاری رکھنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
زیورخ سے حراست میں لیے جانے والوں میں فیفا کے موجودہ نائب صدور جیفری ویب اور یوجینو فیگوئریدو کے علاوہ ایڈوارڈو لی، جولیو روکا، کوسٹاس ٹکاس، رافیئل ایسکوئول اور ہوزے ماریا مارین شامل ہیں۔فیفا نے ان سات افراد کے علاوہ سابق نائب صدر جیک وارنر، نکولس لیؤز، چک بلیزر اور ڈیرل وارنر پر بھی پابندی لگائی ہے۔
جن افراد پر امریکہ میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان پر 1991 سے 24 برس کے عرصے کے دوران اندازاً 15 کروڑ ڈالر رشوت لینے کا الزام ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ کا کہنا ہے ا کہ ’انھوں نے دنیا میں فٹبال کے کھیل کو اپنے مفادات کے حصول اور امیر بننے کے لیے استعمال کیا۔
 سوئس این جی او ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی اینٹی کرپشن برانچ کے سربراہ ایرک مارٹن کا کہنا ہے کہ بلاٹر کے پاس فیفا کی انتظامیہ کو بہتر بنانے کے لیے 17 سال کا عرصہ تھا۔بلاٹر کے بہت سے دوست جہاں انھیں بہت سادہ لوح کہتے ہیں وہیں ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق ساتھیوں کا کہنا کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور ان سے سوال کرنے والے زیادہ عرصہ فیفا میں نہیں رہ پائے۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کرپشن کے الزامات اور دیگر بحرانوں کی زد میں اتنا عرصہ بلاٹر کیسے فیفا کے صدر رہے ہیں۔ لیکن اب تک ہونے والی تمام تحقیقات میں بلاٹر کسی بھی قسم کے رشوت کیس میں ملوث نہیں پائے گئے۔
تاہم تین شادیاں اور 17 سال کے عرصے کے بعد بچیل اور مارٹن کے مطابق بلاٹر کا فیفا کے صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہنا فٹبال کی تنظیم کو اب نقصان پہنچا رہا ہے۔
فیفا، سیپ بلاٹر کا کھیل کا میدان ہے۔ اور وہ اس میدان کے بادشاہ ہیں۔ لیکن پھر، بادشاہ کب اتنی آرام سے اپنا تخت چھوڑتے ہیں۔جبکہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے بلاٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گرفتاریوں کا مقصد ان افراد کو امریکہ کے حوالے کرنا ہے جہاں ان پر مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔امریکی حکام نے اب تک اس سلسلے میں 14 افراد پر منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور کمیشن لینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔