اعزاز احمد آذر… بٹالہ سے عدم آباد براستہ لاہور

اعزاز احمد آذر… بٹالہ سے عدم آباد براستہ لاہور

شب معراج کو ڈیفنس لاہور میں اختتام پذیر ہونے والا سفر… بٹالہ سے آغاز ہوا تھا۔ اسی لئے اعزاز احمد آذر اپنے تخلیقی دور کے آغاز میں خود کو اعزاز بٹالوی لکھا کرتے تھے۔ اس ضمن میں یقیناً ان کے سامنے ریاض بٹالوی اور اعجاز بٹالوی صاحبان کی مثالیں ہوںگی۔
اعزاز احمد آذر نے بھرپور تخلیقی زندگی گزاری۔ وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اردو اور پنجابی شاعری کو یکساں مہارت کے ساتھ ثروت مند کیا ورنہ ہمارے حلقہ احباب میں پنجابی میں شعر کہنے والے کتنے ہی لوگ ایسے تھے اور ہیں جنہیں اردو لکھنا آتی ہے نہ ان کا تلفظ ٹھیک ہے۔ ’’دھیان کی سیٹرھیاں‘‘ اور ’’موسم برساتاں دا‘‘ وہ شعری مجموعے ہیں جن میں اعزاز احمد آذر نے کہیں مشترک تو کہیں بالکل مختلف تخلیقی کلچر رکھنے والی ان زبانوں میں ڈوب کر شعر کہے۔ ’’دھوپ کا رنگ گلابی ہو‘‘ آذر صاحب کی نظموں کا مجموعہ تھا۔ اس میں ایک نظم ایسی تھی جو عوامی مشاعروں میں فرمائش کرکے سنی جاتی تھی۔ نظم کا عنوان تھا ’’فرض کرو‘‘۔
’’فرض کرو
تم چھت پر بیٹھی دھوپ میں بال سکھاتی ہو‘‘
سے یہ نظم آغاز ہوتی ہے اور
’’لیکن کیوں تم آخر فرض کرو‘‘
پر ختم ہوتی، یوں آذر صاحب مشاعرے میں جان ڈال دیتے۔ اعزاز احمد آذر نے بچوں کیلئے بھی لکھا اور خوب لکھا۔ ’’تتلی، پھول اور چاند‘‘ بچوں کیلئے کہی گئی وہ نظمیں ہیں جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وقتاً فوقتاً نشر ہوتی رہیں۔ مرحوم نے ایک کتاب ’’تمہی سو گئے داستاں کہتے کہتے‘‘ بھی مرتب کی۔ ’’ولی دکنی سے اعزاز احمد آذر تک‘‘ غزلوں کا وقیع انتخاب اس سب کچھ کے علاوہ ہے۔ پنجابی نشر کی کتاب ’’سورہ یوسف کا جمالیاتی تجزیہ‘‘ اعزاز احمد آذر کی فکری زندگی کے ایک بالکل مختلف پہلو کو سامنے لاتی ہے۔ آذر صاحب کے خوبرو صاحبزادے حسن اعزاز کے دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جبکہ صاحبزادی آمنہ آذر اردو میں بہت عمدہ شعر کہتی ہیں۔ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں جب نیشنل سنٹرز کو بند کیا گیا تو اعزاز احمد آذر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ اس موقع پر سٹاف کو ’’سرپلس‘‘ قرار دیکر مختلف محکموں میں رپورٹ کرنے کا کہا گیا مگر آذر صاحب نے ریٹائرمنٹ لینے میں ہی عافیت جانی۔ یوں عمر عزیز کے آخری سترہ اٹھارہ برس انہوں نے بھرپور توجہ کے ساتھ براڈ کاسٹنگ کی۔ اس حوالے سے بھی موصوف باکمال آدمی تھے۔ میڈیم ویوز کے مائیک پر بٹھا دیں یا ایف ایم کے پچ، پیس اور لہجے کی ورائٹی آپ کو مل جائیگی۔ پروگرام اردو میں ہو یا پنجابی میں، ہر دو مزاجوں اور ثقافتی میں کھب کر پرفارم کرتے تھے۔ اعزاز احمد آذر شاہدرہ میں تھے تو ان تک پہنچنے میں 20 منٹ لگتے تھے۔ اقبال ٹاؤن میں منتقل ہوئے یہ فاصلہ بڑھ گیا۔ اب عدم آباد چلے گئے تو یہ فاصلہ سمٹ کر رہ گیا ہے… کم بہت ہی کم… محض ایک سانس کا فاصلہ!