کراچی بدامنی کیس : دہشت گردوں کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتے تو ملک دشمن قوتوں کے حوالے کر دیں : چیف جسٹس

کراچی (ثناءنیوز + آن لائن + نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے غیر قانونی مواصلاتی ایکسچینجز کے خلاف فوری کاررروائی کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ جاری کی گئی غیر قانونی سموں کو فوری بند کرنے کا مکینزم بنائیں، آئندہ غیر قانونی سمز کے اجراءپر پابندی کیلئے سیلولر کمپنیوں کی مشاورت سے سفارشات تیار کر کے جمعہ کو رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس نے غیرقانونی سمز کی فروخت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ یہ نازک اور ملک بچانے کا وقت ہے۔ عدالت نے ریمارکیس دیئے کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے تو ملک دشمن قوتوں کے حوالے کر دیں، ملک بچانا پہلی ترجیح ہے، کراچی کا بڑا مسئلہ غیر قانونی اسلحہ اور سمگلنگ ہے ، اگر ادارے کام نہیں کریں گے تو کون حالات ٹھیک کرے گا؟ عدالت نے اسلحہ سمگلنگ کے بارے میں رمضان بھٹی کمشن سے کنٹینرز کی آمدورفت سے متعلق سفارشات کو حذف کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ غیر قانونی سمز بازار میں بآسانی دستیاب ہیں، اگر ملک کو بچانا ہے تو سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک شناختی کارڈ پر دس دس سمیں ایشو نہ کی جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سروسز پروائیڈر بغیر تصدیق کے سمز جاری کر کے کاروبار کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں کاروبار کرتے ہو تو ملک بھی بچا¶۔ چیف جسٹس نے سیلولر کمپنیوں سے آج عارضی حل طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے عام دکانوں اور پتھاروں سے خریدی گئی اور ایکٹو کی گئی سمز کو بند کر دیا جائے۔ غیر قانونی طریقے سے ایکٹو سمز ملزموں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے اے این ایف کے کرنل اشتیاق سے کہا کہ اے این ایف نے منشیات کے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ جوائنٹ ڈائریکٹر اے این ایف نے عدالت کو بتایا کہ کراچی ائر پورٹ سے 58 کلو گرام ہیروئن پکڑی گئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اے این ایف کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ مسئلہ ہے بڑے منشیات فروشوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل منشیات سے متعلق مقدمات پر تجزیاتی رپورٹ پیش کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ تجزیاتی رپورٹ پیش کریں۔ کیس کی سماعت آج پھر ہو گی۔ چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ موبائل فونزکی سمزاورنگی ٹاﺅن میں نہیں بنتیں، فون کمپنیاں آنکھیں بند کر کے سمیں جاری کر رہی ہیں جو فٹ پاتھوں پر تھڑے لگانے والے فروخت کر رہے ہیں، کمپنیاں کاروبار ضرور کریں مگر ملک کی قیمت پر نہیں، نظام میں ایسی خامیاں اور ایسے لوگ بیٹھیں ہیں کہ 100 فیصد ریکوری ممکن نہیں، کسٹمز حکام کے بچے بیرون ملک میں پڑھتے اور پوش علاقوں میں رہتے ہیں، قومی خزانے کو کسی صورت نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، بڑے مگر مچھوں کو حکومت پکڑتی ہے نہ ہی بریگیڈئیر پکڑ رہے ہیں۔ عدالت نے احکامات دیئے کہ موبائل فون کمپنیاں 15 دن میںاپنے خرچے پر تمام سموں کی تصدیق کر کے رپورٹ پیش کریں جبکہ پی ٹی اے اور کمپنیاں ایک شناختی کارڈ پر 5 سے زیادہ ایکٹو ہونے والی سموں کو فوری طور پر بند کریں، عدالت نے سمز کے اجرا، فروخت اور غیرقانونی سمیں بند کرنے کے حوالے سے تجاویز پی ٹی اے اور کمپنیوں کے نمائندوں سے آج طلب کر لیں۔ عدالت میں کسٹمز، کوسٹ گارڈز، اے این ایف اور ایف بی آر کی جانب سے رپورٹس بھی پیش کی گئی ہیں، عدالت نے اے این ایف کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے منشیات سے متعلق مقدمات پر تجزیاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ پی ٹی اے کے چیئرمین اسماعیل شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد سمیں جاری کی گئی ہیں ،تمام سمیں قانون کے مطابق جاری کی گئیں، انہیں ایکٹو کرنے کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے جس پر عدالت میں موجود ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات اور سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر نے عدالت کو بتایا کہ اگر غیر قانونی طریقے سے جاری کی گئیں سمیں بند کردی جائیں تو 50 فیصد جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے عدالت کو بتا یا کہ تین روز قبل ایک کارروائی کی گئی ہے جس میں تین ہزار سمیں، ووٹر لسٹیں اور ایک ایسی مشین پکڑی گئی جو سموں کو ایکٹو کرتی ہے ملزم ووٹرلسٹوں سے شہریوں کی انفارمیشن حاصل کرنے کے بعد ان کے نام سے سم ایکٹو کراتے ہیں اور پھر ان سموں کو جرائم میں وارداتوں میں استعمال کرتے ہیں، جب ہم کارروائی کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جس شہری کے نام پر وہ سم رجسٹرڈ ہے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر ایکٹو کرائی جانے والی سم جرائم میں استعمال کی جارہی ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ لاہور کی ایک سڑک سے روزانہ گذرتا ہوں وہاں بڑا بینر لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ 50 روپے میں کسی بھی کمپنی کی ایکٹو سم حاصل کریں۔ چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی اے اور موبائل کمپنیوں کے نمائندوں سے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ تمام سموں کو نئے سرے سے جاری کیا جائے۔ عدالت نے احکامات دیئے کہ یوفون، ٹیلی نار، زونگ، وارد اور موبی لنک کی کمپنیاں ماضی میں جاری کی گئیں تمام سموںکی 15 دن میںاپنے خرچے پر تمام سموں کی تصدیق کرکے رپورٹ پیش کریں پی ٹی اے اور کمپنیاں ایک شناختی کارڈ پر 5 سے زیادہ ایکٹو ہونے والی سموں کو فوری طور پر بند کریں، عدالت نے سمز کے اجراء، فروخت اور غیرقانونی سمیں بند کرنے کے حوالے سے تجاویز پی ٹی اے اور کمپنیوں کے نمائندوں سے آج طلب کرلی ہیں۔ بعد ازاں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی پورٹ سے ایک ہزار 798 کنٹینزز کلیئر ہوئے،جس کی مد میں 2 ارب 75 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سال نومبر کے 27 دنوں میں 39 ہزار 992 کنٹینرز کلیئر کیے تھے جبکہ اس سال نومبر کے 27 دنوں میں 28 ہزار سے زائد کنٹینرز کلیئر کیے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود ڈیوٹی کی مد میں ہم نے 24 فیصد زیادہ ریونیو حاصل کیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سال کے دوران ڈالر کی قیمت بھی بڑ گئی ہے اسی لیے آپ کو ریونیوزیادہ لگ رہا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ رواں ماہ کے دوران کراچی کے 20 افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر انکوائری شروع کردی گئی، عدالت نے کہا کہ انکوائریوں سے کچھ نہیں ہو گا۔ چیئر مین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ہم سہراب گوٹھ پر بھی کارروائی کررہے ہیں وہاں اینٹی سٹیٹ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ملک کو اینٹی سٹیٹ لوگوں کے سپرد کر دیں، کراچی میں منشیات، اسلحہ اور سمگلنگ کو کنٹرول کر لیں تو پورے پاکستان پر آپ کو کنٹرول حاصل ہو جائیگا۔ چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ جدید نظام اور سکریننگ پر توجہ دی جا رہی ہے جلد نافذ کریں گے۔ کوسٹ گارڈ نے غیرقانونی اسلحے سے متعلق 5 سال کی رپورٹ پیش کی۔ اے این ایف کے بریگیڈئیر ابو زر کی جانب سے بھی رپورٹ پیش کی۔ اے این ایف کے بریگیڈئیر کا کہنا تھاکہ سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف 4 آپریشن کئے گئے ہیں، آج بھی ایک آپریشن جاری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی پورٹ سے 58 کلو گرام ہیروئن پکڑی گئی، اے این ایف نے سہراب گوٹھ میں منشیات کے خلاف 4 آپریشن کئے، 20 مقامات کی نشاندہی کر کے 66 آپریشن کراچی میں کیے گئے،عالمی منشیات کے 2 گروہوں کے کارندے گرفتار کئے گئے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اے این ایف کی کارگردگی تسلی بخش نہیں، آپ نے چھوٹے چھوٹے لوگوں کو پکڑا ہے، بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بڑے منشیات فروشوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے منشیات سے متعلق مقدمات پر تجزیاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت تک ملتوی کر دی۔ بدامنی کیس میں پولیس چیف نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کے ڈیٹا سے سمیں نکلوا کر جرائم میں استعمال کی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں موبائل سمز کی نادرا سے تصدیق لازمی قرار دے دی ہے۔
کراچی / کیس