ڈرون گرانا، نیٹو سپلائی روکنا حکومت کا شرعی و آئینی فریضہ ہے: 30 علماءاہلسنت کا اعلامیہ

لاہور(خصوصی نامہ نگار)سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر 30مفتیانِ اہلسنّت اور جیّد علماءکی طرف سے جاری کیے گئے مشترکہ شرعی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ریاست پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور آزادی کے تحفظ کے لیے ڈرونز گرانا اور نیٹو سپلائی روکنا حکومت کا شرعی و آئینی فریضہ ہے۔ عوامی و نجی طور پر نیٹو سپلائی جبراً روکنے سے پیدا ہونے والی انارکی، لاقانونیت اور بد نظمی و بدامنی سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت خود سرکاری سطح پر ڈرون حملے بند ہونے تک امریکہ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون اور معاونت ختم کرے۔ پاکستان کے ہر شہری اور پاک سرزمین کے چپے چپے کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی تو عوامی بے چینی، اضطراب اور غم و غصہ کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔ شرعی اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود غیرملکی اور ملکی شدت پسندوں کے خلاف خود کارروائی کرے۔ پاک افغان سرحد کو سیل کر کے افغانستان سے غیرقانونی آمد و رفت کو روکنا یقینی بنایا جائے۔ حکومت عوام کو ہر طرح کی اندرونی و بیرونی دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے اپنا شرعی و آئینی فریضہ پورا کرے۔ نجی سطح پر لشکر سازی اور مسلح جدوجہد کی کوششوں کو ریاستی طاقت سے کچلا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو ہر مکتبہ¿ فکر اور ہر طبقہ اپنی حفاظت آپ کے تحت مسلح ہونے پر مجبور ہو جائے گا۔ ملک میں قرآن و سنّت کی روشنی میں جزا و سزا کا نظام مضبوط، مو¿ثر اور متحرک کیا جائے۔ حکومت سرکاری خرچے کم کر کے قومی خزانے کو عوامی مسائل کے حل کے لئے استعمال کرے۔ کمر توڑ مہنگائی کو روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ جن مفتیوں اور علماءکی طرف سے شرعی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ان میں شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی، مفتی محمد اکبر رضوی، علامہ حامد سرفراز، مفتی محمد سعید رضوی، علامہ عمار سعید سلیمانی، علامہ پیر اطہرالقادری، مفتی یونس رضوی، علامہ شرافت علی، مفتی محمد رمضان جامی، مفتی محمد فاروق القادری، صاحبزادہ مفتی حبیب الرحمن اور دیگر شامل ہیں۔
علماءاہلسنت اعلامیہ