پاکستان میں سی آئی اے سٹیشن چیف کی سفارتی حیثیت پر ابہام

اسلام آباد (قدسیہ اخلاق/ دی نیشن رپورٹ) پاکستان میں سی آئی اے سٹیشن چیف اور امریکی سفارتخانے کے اہلکار کی سفارتی حیثیت کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ان پر خیبر پی کے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف لڑائی شروع کرنے اور قتل کی متعدد کوششوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے ہنگو میں ہونے والے ڈرون حملے کی ایف آئی آر نمبر 555 میں ان کا نام بھی شامل کرایا۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ سی آئی اے سٹیشن چیف ایک سفارتی سیٹ نہیں اس لئے ان پر مقدمہ چلانے کے حوالے سے انہیں کوئی سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں، اگرچہ سی آئی اے سٹیشن چیف پاکستانی شہری نہیں، ان پر تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے تاہم سی آئی اے سٹیشن چیف کے اہلکار کی سرکاری حیثیت کی اسلام آباد میں سفارتخانے اور دفتر خارجہ سے تصدیق نہ ہو سکی۔ دونوں جانب سے سرکاری ترجمان سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد نے کہا کہ وہ اس بارے میں معلومات حاصل کر کے بتائیں گے۔
سفارتی حیثیت