شیخوپورہ: محکمہ صحت نے زائد المےعاد قرار دی گئی پولیو ویکسین کو درست قرار دیدیا

لاہور (ندیم بسرا) ڈی سی او شیخوپورہ کی پولیو ویکسین کی زائد المےعاد قرار دینے کے دعوے نے شیخوپورہ میں قومی پولیو مہم کو سپوتاژ کر دیا، ضلع بھر میں مائیں اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے والی ٹیموں سے چھپاتی رہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کی تحقیقاتی ٹیم نے اسی سٹاک کو درست قرار دے کر رپورٹ اعلیٰ حکام کو بجھوا دی۔ ذرائع کے مطابق شیخوپورہ کے ڈی سی او نے 19`18 اور 20 نومبر کو چلائی جانے والی مہم کا سٹاک اپنے قبضے میں لے کر ضلع بھر میں پولیو مہم کو رکوا دیا اور باقاعدہ پریس کانفرنس کر ڈالی جس کے بعد ضلع بھر میں پولیو قطرے پلانے والے ورکرز ڈور ٹو ڈور مہم جاری نہ رکھ سکے۔ ہزاروں بچے قطرے پینے سے محروم رہ گئے جس کی و جہ سے شیخوپورہ میں آئندہ پولیو کیسز سامنے آنے کے امکانات بڑھ گئے۔ دوسری طرف محکمہ صحت پنجاب نے اعلیٰ سطح پر تحقیقاتی ٹیم جس میں ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر حسین جبکہ ان کے ہمراہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) ڈاکٹر وینڈے سمیت ای ڈی شیخوپورہ ڈاکٹر نور محمد اولکھ، ڈسٹرکٹ سرویلنس کوارڈی نیٹر ڈاکٹر احمد، پولیو ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر علی فیروز، سمیت دیگر بھی شامل تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ہی تمام سٹاک کو درست اور ٹھیک قرار دیا۔ رپورٹ میں پولیو ویکسین کی دوسری سٹیج بتائی گئی ہے۔ 2840 قطروں کی خوراک بالکل ٹھیک پائی گئی۔ اس خوف و ہراس کے باعث شیخوپورہ میں پولیو مہم مکمل نہ ہوئی۔ اس بارے میں ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز نے نوائے وقت کو بتایا کہ پولیو مہم دوسرے دنوں میں مکمل کر لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیو ویکسین کو چیک صرف ایکسپرٹ ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیو قطروں کی ویکسین کی4 سٹیجز ہوتی ہیں اگر قطرے زائد المیعاد بھی ہو جائیں تب بھی انسانی صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتے۔
زائد المےعاد ویکسین