رات دس بج کے بعد گھروں میں شادی تقریبات پر پابندی ہائیکورٹ میں چیلنج

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ میںرات دس بجے کے بعد گھروں میں بھی شادی کی تقریبات پر پابندی کو چیلنج کر دیا گیا۔مقامی وکیل اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی کی تقریب میں دور دراز سے آئے رشتہ داروں کی تواضح کرنا اور رسومات ادا کرنا مشرقی روایات کا حصہ ہے جس پر پابندی عائد کیا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ گھٹن زدہ ماحول میں شادی کی تقریبات ہی رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا بہانہ ہیں جنہیں وقت کا پابند نہیں بنایا جا سکتا ۔یہ سب کچھ شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں جن پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی ۔