بزنس کمیونٹی کیلئے پیکج کا اعلان‘ ٹیکس بنیاد وسیع کرنے کی کوششوں کیلئے دھچکا

اسلام آباد (عترت جعفری) وزیراعظم محمد نوازشریف نے گزشتہ روز بزنس کمیونٹی کے لئے اہم پیکج کا اعلان کیا ہے تاہم اس سے حکومت کے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے بجٹ میں اٹھائے گئے متعدد اقدامات رول بیک ہوگئے ہیں۔ حکومت کے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔ حکومت یکم جنوری 2014ءکے بعد لگنے والی کسی بھی نئی صنعت کے سرمایہ کاری کے ذرائع کی تحقیقات نہیں کرے گی۔ اس طرح نئی سرمایہ کاری کے لئے امیونٹی فراہم کردی گئی ہے۔ سرمایہ کار کیپٹو پاور پلانٹس‘ کم لاگت کے گھروں کی تعمیر‘ لائیو سٹاک‘ کان کنی‘ تھرکول‘ بلوچستان‘ خیبر پی کے میں کارخانے لگائیں گے تو ان سے ٹیکس حکام سرمایہ کاری کے بارے میں کوئی سوال دریافت نہیں کر سکیں گے۔ یہ سہولت جاری منصوبوں میں مزید وسعت لانے پر بھی ملے گی۔ تاہم حکومت یہ سہولت آرمر اینڈ امیونیشن‘ دھماکہ خیز مواد‘ کھاد‘ چینی‘ سگریٹ‘ بیوریجز‘ سیمنٹ‘ ٹیکسٹائل‘ سپیننگ یونٹ‘ فلور ملز‘ ویجی ٹیبل گھی‘ کوکنگ آئل کی صنعتوں میں نہیں دے گی۔ حکومت کی طرف سے یہ امیونٹی منشیات کی تجارت‘ دہشت گردی کے قانون میں مذکورہ چیزوں کے حوالے نہیں ملے گی۔حکومت نے بجٹ میں بینک کے کھاتوں تک رسائی کی سہولت حاصل کی تھی جسے اب رول بیک کردیا گیا ہے۔ اب ایسے افراد جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان کے بینک کھاتوں تک رسائی حاصل نہیں کی جائے گی۔ ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے کے لئے آڈٹ بنیادی شرط ہے تاہم اس سلسلے میں متعدد اسثنیات فراہم کر دی گئی ہیں جس کے تحت اگر کسی نے گزشتہ 5سال سے 25فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے تو تفصیلی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ جن افراد نے ٹیکس گوشوارے داخل کرادئیے ہیں ان کو نظرثانی گوشوارے داخل کرانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ این ٹی این نمبر ہولڈرز کو کافی استثنیٰ دئیے گئے ہیں۔ اگر این ٹی این ہولڈر کم از کم 20ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے اور گزشتہ 5سال کے ریٹرن داخل کردے تو آڈٹ سے استثنیٰ مل جائے گا۔ٹیکس گوشوارے داخل کرانے کی تاریخ 15دسمبر کی توسیع کردی گئی ہے۔ زیادہ ٹیکس دینے والوں کو متعدد سہولتیں دی گئی ہیں جن میں وی آئی پی لا¶نج کا استعمال‘ گریٹس پاسپورٹ کا اجراءشامل ہے۔ وزیراعظم نے بزنس ایڈوائزری کونسل اور زرعی ایڈوائزری کونسل بنانے کے بھی اعلانات کئے۔
دھچکا