انبیاءکی توہین کرنا ناقابل معافی جرم قرار دینے کیلئے عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے "حرمت انبیاءکانفرنس"

مدینہ منورہ (آن لائن) مدینہ منورہ میں منعقدہ تین روزہ "حرمت انبیاءکانفرنس" کے اختتام پر بزرگ ہستیوں کی توہین کو قابل مواخذہ جرم قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے عالمی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عالمی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انبیا علیہم السلام کی توہین ناقابل معافی جرم قرار دلوانے کے لئے عالمی سطح پر ایک مشترکہ معاہدہ کیا جائے تاکہ آئندہ ایسی مجرمانہ حرکتوں کا سدباب کیا جا سکے۔ اعلامیے میں نبی آخر الزماں کی عزت و ناموس کو یقینی بنانے کے لئے خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے لئے نہ صرف مسلمان بلکہ پوری دنیا کے مذاہب ایک معاہدہ کریں جس میں آخری پیغمبر کی توہین کو ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے۔ کانفرنس میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نگرانی میں ناموس رسول کو یقینی بنانے کے لئے ایک مرکز کے قیام کی بھی تجویز دی گئی جس کی سربراہی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو سونپے جانے کی سفارش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حرمت رسول مرکز میں ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو اسلام سے بیزار طبقات بالخصوص شاتمین کی گستاخیوں کا مدلل جواب بن سکے۔ عالمی اسلامی کانفرنس میں انبیا کی توہین کرنے پر مسلمانوں کے تخریبی ردعمل کی بھی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ گستاخان رسول کے خلاف مجرمانہ اقدامات پر مسلمانوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے مگر احتجاج کی آڑ میں قومی املاک کو نقصان پہنچانا اور توڑ پھوڑ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے اسلام کی ساکھ کو الٹا نقصان پہنچتا ہے۔ کانفرنس میں مسلمان ملکوں کے الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں اور اخلاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنے کی کوشش کریں۔
حرمت انبیا کانفرنس