پاکستان گلوکار دنیا بھر میں مقبول ہیں

پاکستان گلوکار دنیا بھر میں مقبول ہیں

سیف اللہ سپرا 
گلوکارہ سارہ رضا خان کا شمار پاکستان کی چند ان خوش قسمت فنکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں ترقی کی منازل طے کیں۔وہ آئے روز اپنے دامن میں کامیابیاں  سمیٹ رہی ہیں۔  ان کا تعلق کسی گلوکار گھرانے کے ساتھ نہیں، بس محنت، شوق اور لگن سے انتہائی کم عرصے میں گلوکاری میں اعلی مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس وقت شاید ہی کوئی ٹی وی ڈرامہ ایسا ہو جس کا ٹائیٹل سانگ  ان کا نہ گایا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ فلموں میں پلے بیک گلوکاری بھی کر رہی ہیں۔ بطور پلے بیک سنگر ان کی متعدد فلمیں  ریلیز ہو چکی ہیں جن میں ہدایت کار جرار رضوی کی فلم ’’سن آف پاکستان‘‘ بھی شامل ہے اس کے گانے بہت پسند کئے گئے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے پہلے میوزک البم پر بھی کام کر رہی ہیں۔ ان کا فن صرف اپنے ملک تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ وہ حال ہی میں جرمنی کے دو شہروں برلن اور فرینکفرٹ  میں شوز کرکے وطن واپس لوٹی ہیں۔ گزشتہ دنوں ملک کی اس مقبول گلوکارہ سے ان کی گلوکاری اور ان کی فنی مصروفیات  کے حوالے سے گفتگو ہوئی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔  
س:۔ آپ شوبز کی دنیا میں کیسے آئیں؟ 
ج:۔ میری آواز بچپن میں بہت اچھی تھی سکول کی تقریبات میں جب نعتیں پڑھتی اور گیت گاتی تو سکول کی ٹیچرز بہت حوصلہ افزائی کرتیں میں ابھی چھٹی کلاس کی طالبہ تھی کہ کسی نے میری ماما کو مشورہ دیا کہ بچی کی آواز اچھی ہے الحمرا میں میوزک کی کلاسیں ہوتی ہیں  وہاں پر اس بچی کو باقاعدہ گلوکاری سکھائیں۔ ماما مجھے الحمرا آرٹس کونسل لے گئیں اور وہاں پر استاد عبدالرئوف سے میں نے گانا سیکھنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی موسیقی کے مقابلوں میں حصہ بھی لینا شروع کر دیا جن میں سے زیادہ تر مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں گورنر ہائوس  لاہور میں اکثر فنکشن  ہوتے جن میں میں نے پرفارم کیا۔ صدر پرویز مشرف نے اپنی سالگرہ کا ایک فنکشن ایوان صدر میں بھی کیا جس میں  میں نے  پرفارم کیا اور لوگوں نے میری پرفارمنس  بہت پسند کی۔ آہستہ آہستہ میں مقبول ہوتی گئی اور لوگوں نے مجھے شوز میں بلانا شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ بہت سے ٹی وی چینلز کے شوز میں پرفارم کیا۔ اے ٹی وی نے میوزک پر مبنی ایک پروگرام ’’مستی مستی‘‘ شروع کیا جس میں میں  گیت گانے کے ساتھ ساتھ کمپیئرنگ بھی کرتی۔ اس کی 36 قسطیں  آن ائر  گئیں یہ پروگرام لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اور اس کے بعد دوسرے پاکستانی چینلز پر بھی گایا پھر بھارتی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’سا رے گا ما پا‘‘ میں چلی گئی۔ یہ سال 2009ء کی بات ہے میں پاکستان کی پہلی لڑکی تھی جو پروگرام سا رے گا ما پا کے ٹاپ  8 تک گئی۔ اس پروگرام میں شرکت کے بعد جب واپس آئی  تو میری مصروفیات میں اضافہ ہو گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اصل میں اس پروگرام کے بعد  میرا پروفیشنل کیرئیر شروع ہوا۔ ان دنوں ہدایت کار جرار رضوی ’’سن آف پاکستان‘‘ کے نام سے فلم بنا رہے تھے جس کے گانوں کے لئے مجھے آفر ہوئی اور میں نے اس کے گانے گائے جو بہت پسند کئے گئے۔ اس کے علاوہ متعدد ٹی وی ڈراموں کے ٹائٹل سانگ گائے ہیں ان ڈراموں میں میرے درد کو جو دوا ملے، میرے قاتل میرے دلدار، میں چاند سی اور بابل شامل ہیں۔
س:۔ آج کل آپ کی کیا مصروفیات  ہیں؟
ج:۔ آج کل پاکستان میں فلمیں کم بن رہی ہیں زیادہ تر ٹی وی ڈرامے بن رہے ہیں فلموں کے ساتھ ساتھ ان ڈراموں کے ٹائٹل سانگ گا رہی ہوں۔ اس کے علاوہ البم پر کام کر رہی ہوں۔ دوگانے مکمل ہیں ان کے ویڈیو بنا رہی ہوں جو بہت جلد مختلف ٹی وی چینلز  سے آن آئر  جائیں گے۔ اندرون اور بیرون ملک شوز بھی کر رہی ہوں حال ہی میں جرمنی کے دو شہروں برلن اور فرینکفرٹ  میں شوز کئے ہیں جو بہت کامیاب رہے ہیں۔ جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں نے بھی میری پرفارمنس  بہت پسند کی۔ غیر ملکی میری پرفارمنس پر رقص کرتے رہے۔   
س:۔ کیا آپ کو اداکاری کی آفرز ہوئی؟ 
ج:۔ جی ہاں بہت آفر ہو رہی ہیں بلکہ میں نے شروع شروع میں ایک دو ڈراموں میں کام بھی کیا ہے مجھے اداکاری میں مزا نہیں آیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں شاید اداکاری کے لئے نہیںبلکہ گلوکاری کے لئے پیدا ہوئی ہوں۔ ہاں البتہ کوئی میوزک یا گلوکاری پر مبنی فلم یا ڈرامہ ہو تو اس میں ضرور اداکاری کروں گی بشرطیکہ اس فلم یا ڈرامے میں میرا کردار میری شخصیت پر پورا اترتا ہو۔ جب میں بھارت گئی تو مجھے کہا گیا کہ یہاں بہت بڑی فلم انڈسٹری ہے۔ یہاں رہ کر اداکاری کرو۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ میں ایک سنگر ہوں اور گانے میں ہی انجوائے کرتی ہوں۔ 
س:۔ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟ 
ج:۔ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے حالات آج کل بہت خراب ہیں جس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر معیاری فلمیں نہیں بن رہیں جس کے باعث پلے بیک گلوکاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ پہلے بیک  گلوکاری میوزک انڈسٹری کے لئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر میوزک ریلیزنگ کمپنیاں نہیں ہیں بس ایک آدھ میوزک کمپنی ہے جس کے پاس نئے گلوکاروں کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے۔ ٹی وی چینلز میوزک پروموشن  کے لئے بہت بڑا پلیٹ فارم  ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر ٹی وی چینلز میرٹ کو نظرانداز کر رہے ہیں پیسے اور سفارش کی بنیاد پر ایسے گلوکاروں کو پروموٹ کر رہے ہیں جنہیں گلوکاری کی صحیح سمجھ بوجھ بھی نہیں۔ اس سے اچھا ٹیلنٹ سامنے  نہیں آ رہا۔ بس ریڈیو پاکستان ایک ایسا ادارہ ہے جو میرٹ پر کام دیتا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے مجھے آئوٹ سٹینڈنگ کیٹگری دی ہے یہ اعزاز میری عمر کے کسی فنکار کو اس سے قبل نہیں ملا۔ یہ ایک ریکارڈ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب تک معیاری فلمیں نہیں بنیں گی۔ بڑے ٹی وی چینلز لابی سسٹم، سفارش اور رشوت کو چھوڑ کر میرٹ پر کام نہیں دیں گے اور جب تک ملک میں امن و امان نہیں ہو گا اس وقت تک میوزک انڈسٹری ترقی نہیں کر سکتی۔ 
س:۔ آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے؟ 
ج:۔ کنیئرڈ کالج سے ایف ایس سی کی ہے اور اب گریجویشن کر رہی ہوں گلوکاری اپنی جگہ مگر تعلیم میری پہلی ترجیح ہے۔ 
س:۔ فرصت کے لمحات کیسے گزارتی ہیں؟
ج:۔ فرصت کے لمحات میں اچھا میوزک سنتی ہوں۔ 
س:۔ کس قسم کا میوزک پسند ہے؟ 
ج:۔ میوزک کلاسیکل ہو یا پاپ معیاری میوزک پسند ہے۔   ملکہ ترنم نورجہاں، نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن میرے پسندیدہ سنگر ہیں۔ 
س:۔ گھر داری  میں دلچسپی ہے؟  
ج:۔ جی بالکل نہیں۔ کھانا کھانا آتا ہے پکانا نہیں آتا۔
س:۔ کس قسم کے کھانے پسند ہیں؟ 
ج:۔ جو کھانا اچھا پکا ہو چاہے دال ہی کیوں نہ ہو۔ 
س:۔ آپ شادی کب کر رہی ہیں؟
ج:۔ ابھی تو میں نے کیرئیر شروع کیا ہے۔ فی الحال شادی کا کوئی پروگرام نہیں۔