الیکٹرانک میڈیا میں ریڈیو کا کردار سب سے الگ ہے

الیکٹرانک میڈیا میں ریڈیو کا کردار سب سے الگ ہے

اصغر ملک
ریڈیو پاکستان کے حکام بالا نے ملکی حالات و واقعات کے پیش نظر اپنے پروگراموں میں مثبت تبدیلیاں اس لئے کردیںکہ ملک میں امن، بھائی چارے اور آپس میں کشمکش کو پیار و محبت اور صوبائی و لسانی تعصب کے اثرات سے نجات کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکے جب  نیتنیک ہو تو راستے اپنے آپ ہی درست سمت رواں دواں ہونے شروع ہو جاتے ہیں ریڈیو نے ہمیشہ قوم کی رہنمائی کے لئے بہتر تین پروگرام نشر کرکے دادوتحسین حاصل کی ہے اور کالے بادل چھٹنے شروع ہوگئے ریڈیو پاکستان کو یہ بھی اعزاز حاصل رہاہے کہ اس نے نہ تو معزز منتخب اراکین کو آمنے سامنے بیٹھا کر تو تکار کروائی نہ چونیچیںلڑانے کا موقع فراہم کیا آج کل مختلف پرائیوٹ  ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر جو دیکھا یا اور سنایا جارہا ہے یہ کہاں کاوطن اور معزز اداروں سے محبت کا اظہار ہے جو جان کی بازی لگا کر سرحدوں پر معمور ہیں ان پرچھینٹے اُڑانا کہاں کی دانشمندی اور وطن سے وفا ہے گھر کی بات کو ہمیشہ گھر تک ہی رہنا چاہیے دشمن  گھات لگائے موقع کی تلاش میں ہوتا ہے یہ افسانے، قصے اور کہانیاں یہاں کے ٹی وی چینلز کی مہربانیوں سے ہورہاہے جہنوں نے سب سے پہلے صدر اور وزیر اعظم کے کارٹون بناکر سکرین پر پیش کئے کسی نے ایکشن نہ لیا۔ پھر حکومت کی دوسری مشینری پر ہاتھ ڈالا اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب دولت کے پجاری عوام پر بھاری اور یورپ کے بھکاری ہیں پھر چندTVچینلز والوں نے بھانڈوں کی خدمات سے بھونڈئے انداز میں ان کی ادائوں اور اوازوں سے سکرینوں کو گندہ کیا کسی نے کوئی نوٹس نہ لیا اور ابھی تک یہ سلسلے جاری ہیں سید وارث شاہ صاحب نے ایک جگہ فرمایا ہے ڈوم ڈانگری نہیں دانا ھوندے نہ وجدے دریاواں نوں بن ہیرے، سیلاب جب بھی آتا ہے بڑے بڑے جدید ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک بے بس دیکھائی دیتے ہیں آج کل ہمارے ہاں بھی الیکٹرونک میڈیا میں بھانڈوں نے فحاشی کے بھونڈوں کا کردار ادا کرکے معاشرے کی بے راہ روی میں اضافہ کردیا ہوا ہے اور متعلقہ اداروں پر سکوت طاری اور جاری ہے اور دانشور طبقے کی آج سے چند سال پہلے یہ رائے تھی کہ ان کو اجازت دینے والے ایک دن بھگتیں گے سو بھگت رہے ہیں دشمن  ممالک سے ڈالر لیکر  بعض ٹی وی چینلز فساد کو ہوا دے  رہے ہیںموجودہ حکومت کو ایسے پروگراموں پر فوراً قدغٖن لگادینی چاہیے ہمسایہ ملک جس نے ہمیں آج تک تسلیم ہی نہیں کیا اُن کے TVچینلز پر بھی مزاحیہ پروگرام  ٹیلی کاسٹ ہوتے رہتے ہیں لیکن اُن میں ادب و تہذیب کی حدیں پار نہیں کی  جاتیں حالانکہ ہندو ہمارا نہ پہلے دوست تھا نہ اب ہے اُن کے راہبر کی کتاب کوٹلیہ چانکیہ کا مطالعہ کرلیں سب روپ عیاں ہو جائیں گے، جہاں تک ریڈیو پاکستان کا تعلق ہے تو اُس نے ہمیشہ ملک و قوم کی سلامتی کے گیت گائے جنگ کے زمانے میں دشمن کو بھگانے کے ترانے سنائے سیلاب آئے تو قوم کو  جگانے  بھائیوں کی مدد امداد کے نغمے بجائے آئو عہد کریں کہ اس پاک وطن کو امن  کاگہوارہ بناکر سجھانے اللہ اور رسولؐ کے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک میں دین اسلام کے قانون کو رائج کرنے کے شادیانے بجائیں گے آپ ہی کے اسلاف تھے جو سمندروں میں اُتر گئے پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں آئیں تو اُن پر مسکرا دیئے بادل گرجے تو قہقوں سے جواب دیا، آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ یہ  تمہارا راستہ نہیں ہے یہ ایمان کی جان کنی ہے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے ہیں کہ صرف زر ہی تمہارا سب کچھ ہے ایک دن یہی دولت تمہیں دوستی مارکر لحد کی گود میں سلادے گی اور وقت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ساتھ ہوگا۔اگر آج بھی ہم چودہ سو برس پہلے والے نسخے جس کو کائنات انسانی کے سب سے بڑے محسنؐ لائے تھے یہ وہی نسخہ قرآن حکیم ہے جس کی حکمت میں دین و دنیا کی بھلائی، سچائی رہنمائی اور خدا تک رسائی کا راز مضمر ہے اور اس پر عمل کرنے والوں نے فرش پر بیٹھ کر عرش والے سے باتیں کئیں ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کی ابتدا اور انتہا بھی اسی نسخہ  کیمیا کی تلاوت سے ہوتی ہے جب سے ہم نے اسے تاکوں رکھ کر دولت کی تاک جھانک کے اسیر ہوئے ہیں دینی اخلاقی معاشی طور پر دلگیر ہی دیکھائی دے رہے ہیں لیکن  صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تواسے بھولانہیں کہتے۔ وقت کی لگام تھام کر آگے بڑھیے خدا مدد کرے گا۔