الحمراء آرٹس کونسل کے زیر اہتمام دسویں ینگ آرٹسٹ نمائش2014

 الحمراء آرٹس کونسل کے زیر اہتمام دسویں ینگ آرٹسٹ نمائش2014

 صبح صادق
کسی بڑے کام کا بیڑا اٹھانا اور پھر اسے آگے ہی آگے بڑھاتے رہنا کامیاب شخص، اداروںاور اقوام کی پہچان ہوتا ہے ، لاہورآرٹس کونسل بھی انہی اداروں میں سے ایک اہم ادبی و ثقافتی ادارہ ہے جہاں ینگ آرٹسٹ نمائش کا آغاز آج سے دس سال پہلے کیا گیا اور رواں ہفتے اس سیریز کی دسویں ینگ آرٹسٹ نمائش کا افتتاح عمل میں آیا۔ جس میں نوجوان مصوروںکی دلچسپی دیکھنے لائق تھی ملک بھر سے 250 مصوروں کا اس نمائش میں حصہ لینا اس نمائش کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اس نمائش میں 350 فن پارے آویزاں کئے گئے اور پہلے 13 پوزیشن حاصل کرنے والے نوجوان مصوروں کو 10،10 ہزار روپے بمع سرٹیفیکیٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل محمد علی بلوچ نے اپنے ہاتھو ں سے پیش کئے، 350 فن پاروں میں سے 13فن پاروں کا انتخاب نہایت ہی مشکل مرحلہ تھا مگر ایک تجربہ کار ٹیم جس میں میاںاعجاز الحسن ، شاہ نواززیدی، ظفراللہ، غلام مصطفی اور عرفان احمد خان شامل تھے ،انھوں نے نہایت عمدہ اور احسن طریقے سے یہ ذمہ داری نبھائی اور میرٹ پر انتخاب کو یقینی بنایااس جیوری کے مطابق سجاد نواز، افق الطاف ، اسامہ بن نوید ، عالیہ امجد ، صوفیہ یونس ، ہما اکرم ، مریم صدیق ، علی سعد ، مقصود ، عمران علی ، علی تالپور ، بلال خالد ، اورحریم مجید نے پوزیشن حاصل کیں ۔اس نمائش کے منتظم ڈپٹی ڈائریکٹر فائن آرٹس قاضی زبیر بلوچ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش نوجوان مصوروں کی فکر کو تازگی بخشتی ہے جس سے نوجوان مصورپوری عمرتوانائی حاصل کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے ہیں اور ملک و قوم کانام روشن کرتے ہیں۔
لاہور آرٹس کونسل (الحمرائ) ہر سال اس نمائش میں آویزاں کئے گئے فن پاروں کو کتابی صورت میں شائع بھی کرتی ہے اس سال بھی یہ کتاب نہایت عمدہ کا غذ پر جدیدتدوین کے ساتھ شائع کی گئی اور یہ امر کسی بڑے اعزاز سے کم نہ ہے۔
نوجوان مصوروں جنہوں نے پہلی تیرہ پوزیشن حاصل کیں ، کے کام پر ایک نظر ڈالنا اور ان کے خیالات سے قارئین کو آگاہ کرنا بھی اہم ہے۔ لہذا اس نمائش میں پوزیشن حاصل کرنے والے ایک نوجوان مصور جو آج کل نیشنل کالج آف آرٹس میں ایم ۔اے Visual Art کے طالب علم ہیں نے اپنی زندگی اور کام سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ میرے والد آرٹسٹ تھے ،لہذا مجھے یہ پیشہ وراثت میں ملا اور بچپن ہی سے میں نے اپنے والد سے سیکھ لیا تھا ۔بہاولپور سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہاں کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری اٹھارکھی ہے سجاد نواز کو جس فن پارے پر یہ ایوارڈ ملا اس پینٹنگ کا موضوع چولستانی ورثہ ہے چولستانی عورت کی عکاسی کی گئی ہے۔ چولستانی زیور کو نمایاں کیا گیا ہے جو خاص طور پر بازوئوں کو ڈھانپتے ہیں۔ یہ خواتین اپنے ان زیورات کو ہر وقت پہنے رکھتی ہیں اور یہی ان کی جمع پونجی ہوتی ہے جسے مشکل وقت آنے پر بیچ کر اپنی ضروریات زندگی کوپورا کر لیتی ہیں۔ سجاد نواز کے بارے میں مستند مصوروں کا یہ قوی خیال ہے کہ وہ آنے والے دور میں کامیاب مصور کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے، نوجوان مصورہ صوفیہ یونس نے ہمارے ہاں رائج بے بنیاد توہم پرستانہ رواجوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے مصوری کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔
  راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی صوفیہ این۔ سی۔ اے میں زیر تعلیم ہے ۔ انہیںاپنے کام سے جنون کی حد تک شغف رکھتی ہے ، ان کے کام میںبڑی شدت کے ساتھ ان توہمات کی نفی کی گئی ہے جن کا کچھ وجود نہیں ہوتا مگر ہمارے ہاں وہ چیزیں ہمارے رسم ورواج میں گھل مل گئی ہیں اور ہم انھیں اپنے اوپر سوار کرلیتے ہیں، صوفیہ کے مطابق ہمیں ان توہم پرستا نہ ر واجوں سے نجات حاصل کرنے کی سعی کرنا چاہئے۔
 لاہور آرٹس کونسل (الحمرائ) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دسویں ینگ آرٹسٹ نمائش میں پوزیشن حاصل کرنے والی نوجوان مصورہ حریم مجید کا تعلق گجرات سے ہے اور پنجاب یونورسٹی میں زیر تعلیم ہے ان کے کام کے کئی رخ ہیں جن میں وہ مہارت رکھتی ہیں ان کا منفرد کام ہی ان کے فنی عروج کی طرف اشارہ ہے
 بلال خالد نے جس مسئلے کو موضوع بنایا ہے اس کی افادیت عالمی نوعیت کی ہے ،کہا جاتا ہے ’’مرد کو تعلیم دینا محض ایک شخص کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو اس زیور سے آراستہ کرنے کا مطلب پورے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانا ہے ‘‘بلال خالد نے بھی بچیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دینے پر زور دیا ہے، جس پر کہ ہم دیہاتوں میںتو بالکل توجہ نہیں دیتے یہ المیہ ہمارے معاشرے کے لئے نقصان کا باعث ہے ۔واضح رہے اس نمائش کی کامیابی سے یوں لگتاہے یہ شعبہ (مصوری ) بڑی تیزی سے ترقی پا رہا ہے اس میں نوجوان طلباء و طالبات کی دلچسپی بڑ ھ رہی ہے اس نمائش میں اعلی پوزیشن حاصل کرنے والی ایک نوجوان مصورہ ہما اکرم نے اپنی پینٹنگ کا موضوع معاشرے کے ہر طبقے کے لوگوں کو بنایا ہے جن کے تاثرات کو انھوں نے بڑی مہارت سے اجاگر کیا ہے اس نمائش کا افتتاح ایم ۔این ۔اے میاں معین احمد خان وٹو نے کیا ۔ اس موقع پر ملک کے نامور مصور بھی موجود تھے ۔ نوجوان مصوروں کو ایوارڈ دئیے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹرلاہور آ رٹس کونسل محمد علی بلوچ نے کہا کہ آ ج کامصور ملک کی سماجی ترقی میں اہم کردار اداکر رہاہے۔اس کام کے فروغ میں الحمراء آرٹ گیلری کا پلیٹ فارم آج کے نوجوان مصوروںکے لیے سنہری پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے !