مسلم لیگ کو اکٹھا کرنیکی کوششیں بارآور ہو سکیں گی

مسلم لیگ کو اکٹھا کرنیکی کوششیں بارآور ہو سکیں گی

فرخ سعید خواجہ
پاکستان  کی خالق جماعت مسلم لیگ کے دھڑوں میں بٹ جانے پر ہر مسلم لیگی اور مسلم لیگیوں کی اولاد کا دل کڑھتا ہے وہ آرزو رکھتے ہیں کہ مسلم لیگ ایک ہو جائے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی مسلم لیگ ن ملک کی حکمران ہے اسے الیکشن 2013ء میں نہ صرف پنجاب میں فقید المثال کامیابی حاصل ہوئی اور یہاں ان کی حکومت بنی جس کے سربراہ پاکستان کے فعال ترین سیاستدان میاں شہباز شریف ہیں جبکہ مرکز میں میاں نواز شریف کی سربراہی میں حکومت قائم ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف کی حکومتیں تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہیں۔ بلوچستان میں بھی مسلم لیگ ن حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ خیبر پی کے کی اپوزیشن ان کے پاس ہے جبکہ گورنر سردار متہاب خان سرد گرم چشیدہ سیاستدان ہیں۔ سندھ میں البتہ مسلم لیگ ن بحران کا شکار ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین، سینیٹر سلیم ضیائ، نہال ہاشمی کو سندھ سے اکاموڈیٹ کرکے میاں نواز شریف نے سندھ مسلم لیگ کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن سید غوث علی شاہ کی ناراضگی بلکہ عملاً مسلم لیگ ن سے ساتھیوں سمیت علیحدگی نے سندھ مسلم لیگ کی کمزوری میں مزید اضافہ کر دیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ میاں صاحب نے سندھ سے مرکزی نائب صدر امداد چانڈیو کو کیوں نظر انداز کر رکھا ہے؟
سندھ سے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والوں سردار ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، الٰہی بخش سومرو سمیت دیگر کو بھی نہ جانے کیوں میاں صاحب خوش نہ رکھ سکے۔ اب سید غوث علی شاہ نے جنرل پرویز مشرف، پیر پگاڑہ اور چوہدری شجاعت حسین کی ٹرین پکڑ لی ہے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ بھی اس ٹرین میں سوار ہیں۔ حامد ناصر چٹھہ، سلیم سیف اللہ، اعجاز الحق، شیخ رشید کو بھی اس ٹرین میں سوار کروانے کے کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بے چاروں کی نظریں چوہدری نثار علی خان پر تھیں کہ نہ صرف وہ ساتھ آ جائیں بلکہ اپنے ساتھ مسلم لیگ ن کے ناراض ممبران اسمبلی کو بھی لیتے آئیں لیکن ان کا یہ خواب تو ملیا میٹ ہو گیا ہے۔ نواز شریف، چوہدری نثار علی خان کی ناراضگی محبت کرنے والے دو دوستوں کی خفگی تھی جسے ختم کروانے میں میاں شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق نے اہم کردار ادا کیا۔ اب ٹرین میں ماسوائے سید غوث علی شاہ اور سردار ذوالفقار کھوسہ کے باقی سب جنرل پرویز مشرف کی پرانی ساتھی سواریاں ہیں۔ ان کے ذریعے مسلم لیگ ن کی اصل اپوزیشن بننے کا جنرل صاحب کا منصوبہ  پایہ تکمیل نہیں پہنچ سکے گا۔
جہاں تک وسیع تر قومی اتحاد قائم کرنے کی خواہش کا تعلق ہے اس کی چوہدری حامد ناصر چٹھہ نے مخالفت کر دی ہے۔ حامد ناصر چٹھہ حقیقت پسند سیاستدان ہیں انہیں اپنے دھڑے کی طاقت کا بھی ادراک ہے اور مشرف ٹرین میں سوار ہونے والوں کی سیاسی پوزیشن کا بھی پوری طرح علم ہے لہٰذا انہوں نے سید غوث علی شاہ پر زور دیا ہے کہ پہلے مسلم لیگ کا ایک پلیٹ فارم بنائیں اور پھر دیگر جماعتوں کی طرف قدم بڑھائیں وگرنہ کوئی گھاس نہیں ڈالے گا بالخصوص تحریک انصاف اور عمران خان جو کہ مسلم لیگ (ن) والوں سے گھمنڈ میں دو ایک ہاتھ آگے ہی ہیں پیچھے نہیں۔ جنرل پرویز مشرف بے چارے گھر تک محدود ہیں وہ سیاسی میدان میں نکلنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ بہادر آدمی ہیں لیکن گھر میں رہتے ہوئے ان کا چراغ نہیں جل سکتا۔ ان کا ٹرین کا انجن اور کون کھینچے گا؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سید غوث علی شاہ لاہور میں حامد ناصر چٹھہ اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کرکے اسلام آباد جا چکے ہیں یہ سطریں شائع ہونے تک ان کی سلیم سیف اللہ، شیخ رشید اور اعجاز الحق سے طے شدہ ملاقاتیں ہو چکی ہوں گی ان ملاقاتوں کا نتیجہ بھی سامنے آ چکا ہو گا۔ 29 مئی کو سید غوث علی شاہ کی لاہور میں واپسی ہے اور 30 مئی کو سردار ذوالفقار علی کھوسہ کی رہائش گاہ پر لاہور میں موجود مسلم لیگی دھڑوں کے لیڈروں کا اجلاس ہو گا جس میں سید غوث علی شاہ کے طوفانی دورے کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔ جون کے پہلے ہفتے میں کراچی میں سید غوث علی شاہ کی رہائش گاہ پر پرویز مشرف، پیر پگاڑہ، چوہدری شجاعت سمیت تمام ہمخیالی مسلم لیگی لیڈر سر جوڑ کر بیٹھیں گے کہ متحدہ مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کر دیں۔ ہماری رائے میں متحدہ مسلم لیگ قائم ہو جاتی ہے تو پاکستان کی سیاست میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی کے علاوہ تیسری مضبوط اپوزیشن جماعت سامنے آئے گی لیکن متحدہ مسلم لیگ کے قیام کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
اب مسلم لیگ ن کی طرف آئیں تو اس کے سربراہ میاں نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ و صدر مسلم لیگ شہباز شریف کی توجہ حکومت کرنے پر رہی ہے مسلم لیگ (ن) کو انہوں نے میاں حمزہ شہباز کے حوالے کر رکھا ہے۔ نوجوان حمزہ شہباز مسلم لیگ ن کو بحیثیت سیاسی جماعت فعال و متحرک کرنے کی طرف اتنی توجہ نہیں دے پائے جتنی دینی چاہیے تھی تاہم حمزہ شہباز اور ان کی ٹیم ضمنی انتخابات کی چیمپئن بن کر سامنے آئی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں پنجاب کے جتنے حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے ان سب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں مقامی دھڑوں کو یکجا کرنا میاں حمزہ شہباز کا کارنامہ رہا ہے۔ حال ہی میں ملتان کے پی پی 196 کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے رانا محمود الحسن کی کامیابی میں حمزہ شہباز شریف کی حکمت عملی کا بہت ہاتھ ہے۔ ان کی ٹیم سید توصیف شاہ کی قیادت میں ملتان میں مسلم لیگ ملتان کے صدر بلال بٹ کو ساتھ لے کر اپنے تمام ان ساتھیوں تک پہنچی جن میں سے بعض رانا محمود الحسن سے ناراض تھے اور ان سب کو انتخابی مہم میں شامل کیا ہے کہ 11مئی کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے کامیاب ہونے والے امیدوار چوہدری عبدالوحید ارائیں تحریک انصاف کے امیدوار رانا عبدلجبار سے 4 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے تھے لیکن ضمنی الیکشن میں رانا محمود الحسن نے تحریک انصاف کے امیدوار رانا عبدالجبار کو دس ہزار کے قریب ووٹوں کی اکثریت سے ہرایا۔ یہاں منڈی بہائوالدین میں اگلے ماہ ہونے والے این اے 108 کا ضمنی الیکشن کا ذکر بے جا نہیں ہو گا۔ یہ نشست اعجاز احمد چوہدری کے نااہل ہونے سے خالی ہوئی ہے جس نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر 85ہزار 9ووٹ حاصل کیے تھے اس کے بعد وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے ان کے قریبی حریف مسلم لیگ ن کے ممتاز احمد تارڑ نے 73 ہزار 789 ووٹ جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد طارق تارڑ نے 29ہزار 883 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اعجاز احمد چوہدری کی خواہش تھی کہ تحریک انصاف ان میں ان کے بھائی کو ان کی جگہ الیکشن لڑوائے لیکن تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے محمد طارق تارڑ کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن نے ایک مرتبہ پھر ممتاز احمد تارڑ کو میدان میں اتارا ہے۔ میاں حمزہ شہباز نے سیاسی پیش قدمی کرتے ہوئے اعجاز احمد چوہدری کے خاندان کی حمایت حاصل کر لی ہے اور اب یہ بات یقینی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس حلقے کے ضمنی الیکشن میں بھی میدان مار لے گی۔