خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 30 مئی کو ہونگے

خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 30 مئی کو ہونگے

راجہ عابدپرویز
  خیبرپی کے میں دودن بعد30مئی کو بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں، صوبے کو2835دیہاتی جبکہ 504شہری یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے صوبے کے 24اضلاع میں 11154پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں،پولنگ کے دوران امن وامان برقراررکھنے کے لئے صوبے کے 2858پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس جبکہ 4071کو حساس قراردے دیا ہے۔پولنگ کے لئے الیکشن کمیشن نے تیاریاںمکمل کرلی ہیں، 30مئی کو ایک کروڑ 33لاکھ 87ہزار سے زائد ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرسکیں گے۔خیبرپی کے میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں، دوسرے صوبوں کی طرح کے پی کے میں بھی بلدیات کا سٹرکچر تبدیل کردیا گیا ہے، اب شہری اور دیہاتی یونین کونسلوں میں ناظم اور نائب ناظم کے انتخابات  براہ راست نہیں ہوں گے بلکہ جنرل سیٹ پر انتخاب لڑنے والا وہ کونسلر جو سب سے زیادہ ووٹس لے گا ناظم قرار دیا جائے گا جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والا نائب ناظم ہوگا۔کے پی کے کی 3052تحصیل اور ڈسٹرکٹ یونین کونسلوں کے انتخابات پرناظم اور نائب ناظم کی نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوں گے۔الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول 4اپریل کو جاری کردیا تھا جس کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر ابتک 11بڑی اور اہم شخصیات کو نوٹس جاری کیے گئے، ان شخصیات میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی،امیر جماعت اسلامی سراج الحق ،ایڈوائزر برائے چیف منسٹر کے پی کے اکبر ایوب خان، وزیر انفارمیشن ایجوکیشن مشتاق احمد،ڈسٹرک ایڈوائرزی کمیٹی کے سربراہ سردار ادریس، سمیت حبیب الرحمٰن ،گوہر ایوب،فیصل زمان اور ضیاء اللہ بنگشن شامل ہیں۔ عمران خان کو نوٹس جاری ہونے کے بعدعمران خان نے اپنا شیڈول تبدیل کردیاجس کے بعد الیکشن کمیشن نے نوٹس واپس لے لیا،اس کے بعدڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا گیا،جس پر انہوںنے معافی مانگی مگر الیکشن کمیشن نے ابھی تک نوٹس واپس نہیںلیا،عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری انفارمیشن روزخان کی شکائت پر الیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ضلع مردار میں ترقیاتی فنڈز جاری کرنے پر چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا کو طلب کیا اورنہ صرف وضاحت طلب کی بلکہ تمام ترقیاتی پروگرامز پر کام روکوادیا ،ضابطہ اخلاق کے خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن جس  طرح اب ایکشن لے رہا ہے اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی۔الیکشن کمیشن نے سب سیاسی پارٹیوں اور انتظامیہ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لئے کسی قسم کی کوتاہی اور قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے موجودہ چیف جسٹس سردار محمد رضا نے بغیرکسی تشہیر کے ایسے ایسے اقدامات اٹھائے جس سے الیکشن کمیشن کی رٹ قائم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے، اس حوالے سے کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات ایک مثال کے طورپر لیے جاسکتے ہیں۔جہاں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا اورضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرکسی کو نہ بخشا بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ چارڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کوبھی صوبائی الیکشن کمیشن کے احکامات ماننے سے انکار پر نوٹس جاری کیے گے۔بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے الیکشن کمیشن کے تمام ممبران نے خیبر پختون خوا کا دورہ کیا،اس موقع پر کمیشن نے موقع پر شکایات سنیں اور احکامات جاری کیے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے ممبران جسٹس (ر) محمد روشن ایسانی (سندھ)،جسٹس (ر) ریاض کیانی( پنجاب)،جسٹس (ر)فضل الرحمٰن (بلوچستان)، جسٹس (ر) شہزاد اکبرخان (خیبر پختون خوا)صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے لئے اٹھائے گے اقدامات کی حوالے سے بریف کیا۔الیکشن کمیشن کے تمام ممبران کا صوبے کا دورہ بہت اہمیت کا تھاجس سے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبے کی انتظامیہ کو یہ یہ پیغام ملا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کو صاف شفاف بنانے کے لئے نہ صرف متحد ہے بلکہ انتخابات کو صاف شفاف اور پرامن بنانے کے لئے اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرنے میں کوئی روح رعائت نہیں برتے گا۔گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے سب سے زیادہ الزامات تحریک انصاف کی طرف سے لگائے گے اور اب جبکہ کے پی کے میں انتخابات ہورہے ہیں جہاں تحریک انصاف حکمران جماعت ہے تو الیکشن کمیشن کو زیادہ محتاط اندازمیں کام کرنا پڑرہاہے۔تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انتخابات کروانا چاہتی تھی مگر بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے انتخابات کرانے میں مشکلات کی وجہ سے موجودہ انتخابات میں ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔حالانکہ بائیومیٹرک سسٹم کا ابتدائی ماڈل تیار کرلیا گیا تھا اور اصولی طورپر یہ طے بھی ہوگیا تھا کہ بائیومیٹرک سسٹم کی آزمائش کے لئے چند تحصیلوںمیں بائیومیٹرک کے ذریعے پولنگ کرائی جائے گی مگر بعد میں اس پر عمل نہیں کیا گیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کے حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں اور امید ہے کہ موجودہ انتخابات ابتک ہونے والے انتخابات سے کہیں بہتر اور شفاف ہوں گے ،مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کے پی کے میں خواتین ووٹرز کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے پورے پورے مواقع فراہم کیے جائیں گے یاپھر ماضی کی طرح یہ تناسب بہت کم رہے گا۔اگر تناسب نہ بڑھ سکاتو پھر موجودہ بلدیاتی انتخابات پر انگلی اٹھائی جاتی رہے گی،مگر اس بار شائید ذمہ دار الیکشن کمیشن نہیں بلکہ صوبے کے سیاسی رہنما اور عمائدین ٹھہرائے جائیں گے۔کیونکہ الیکشن کمیشن نے خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کی متعدد شکایات پر سخت فیصلے کیے مگر جب سیاسی قائدین اور عمائدین ہی اپنا کردار ادا نہ کریں تو پھر قانون قاعدے کیا کریں گے۔