نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل خلاف آئین ہے: شاہد اورکزئی


اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) نگران وزیراعظم کی مجوزہ تقرری کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر، درخواست گزار شاہد اورکزئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ 20 ویں آئینی ترمیم میں نگران وزیراعظم کی اہلیت کا معیار مقرر کیا گیا اور نہ ہی تحلیل شدہ قومی اسمبلی کی رکنیت لازم قرار دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد سپیکر کے علاوہ کوئی دوسرا سابق رکن اسمبلی کی کارروائی کا مجاز نہیں لہذا نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل خلاف آئین ہے کیونکہ اسی کمیٹی کے ارکان آئندہ انتخابات میں امیدوار ہوں گے۔ انتظامیہ کے ساتھ ان کا تعلق امیدوار کیلئے برتری کا باعث بن جائے گا۔ الیکن کمشن انتظامی تقرریوں کا مجاز نہیں کمشن کے ارکان نگران وزیراعظم اور وزیراعلی کی تقرری کا فیصلہ رائے دہی سے نہیں کر سکتے کیونکہ آئین الیکشن کمشن کے ارکان کو ووٹ کا حق نہیں دیتا۔