نیٹو سپلائی روکنے کیخلاف ہوں لاپتہ افراد کے معاملہ پر پھر ناکامی کا اعتراف کرتا ہوں : عبدالمالک بلوچ

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ہم نے چھ ماہ میں نہ صرف بلدیاتی الیکشن کا انعقاد کیا بلکہ اس عرصہ میں صوبہ کو پولیو فری اور کرپشن سے پاک صوبہ بنانے کے اقدامات بھی کئے۔ بلوچستان میں میرا وزیر اعلیٰ بننا اور جنرل پرویز مشرف کا ریٹائرڈ ہونا ہی تبدیلی کا آغاز ہے۔ اب عدلیہ، الیکشن کمیشن سمیت تمام ادارے ایک جمہوری پاکستان کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی جمہوری راہ پر چل کر ہم بلوچستان کے معاشی اور سیاسی مسائل کو حل کر لیں گے۔ ہم بلوچستان کے علیحد گی پسند عوام کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کے مسائل اور محرومیوں کا علاج پاکستان کی فیڈریشن کے ساتھ ہے۔ وہ لاہور پریس کلب کے پروگرام گیسٹ آف آنر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ وہ زلزلہ میں پنجاب حکومت اور عوام کی طرف سے بلوچستان کے لوگوں کیلئے34 کروڑ کی امداد پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبہ کے معاشی مسائل کے حل کیلئے حکومت بلوچستان دو مین ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب سمیت کھچی کینال اور ڈیمز کی تعمیر کے کام ترجیح بنیادوں پر کر رہی ہے اسی طرح چھ یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب فیڈریشن کی مضبوطی چاہتے ہیں، بد قسمتی سے ماضی میں فوجی حکومتوں نے اپنے خلاف ابھرنے والی جمہوری تحریکوں اور مزاحمتوں کو ریاست پاکستان کے خلاف غداری سے جوڑنے کی کوشش کی جس سے حالات خراب ہوئے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نیٹو سپلائی روکنے کے خلاف ہوں میں نہیں سمجھتا کہ دنیا سے الگ رہ کر پاکستان کو آگے لے جایا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے استحکام کے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہو سکتا، ہمیں ایران اور دیگر ہمسایوں سے تعلقات بہتر رکھنا ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے لاہور پریس کلب کیلئے 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا اور پریس کلب کے ممبران کو بلوچستان کے مسائل سے آگاہی کیلئے دورے کی دعوت دی جبکہ صدر ارشد انصاری نے وزیرا علیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو لاہور پریس کلب کی اعزازی لائف ممبرشپ دینے کا اعلان کیا۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سیاسی مسئلہ ہے جس کو سیاسی طریقے سے حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں نعشیں ملنے کا سلسلہ کم ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بیروزگاری کے دنوں میں میں بھی اخبار نکالتا تھا جس پر تمام صحافیوں نے بھرپور قہقہہ لگایا۔
عبدالمالک بلوچ