لاپتہ افراد ....کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہوں کو طلب کرنے سمیت وسیع اختیارات حاصل ہونگے

لندن (بی بی سی ڈاٹ کام) جبری گمشدگیوں کے دیرینہ اور حساس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے نوتشکیل کردہ کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہان کو طلب کرنے سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اختیارات حاصل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے دور میں بنائے گئے کمش سے اس کمیٹی کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے اور یہ کمشن کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا پابند ہو گا۔ وزارت قانون کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کی مجاز ہے اور ان سے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھ گچھ بھی کر سکتی ہے۔ سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمشن تشکیل دیا گیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کا اختیار تو ضرور تھا لیکن ان کے کہنے پر کسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا۔ اس کمشن کے سربراہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔ کمشن اور کمیٹی کے ارکان میں روابط بڑھیں گے اور ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس سے اس حساس مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔ اس وقت کمشن کے پاس 800 کے قریب لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں اور ان میں سے 300 ایسے ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے چھان بین کے لئے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمشن کے پاس جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق جو مقدمات ہیں وہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کروائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کمشن نے جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق 991 مقدمات کی سماعت کی تھی جن میں سے 316 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ باقی افراد کی بازیابی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والے 15 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد سے متعلق جب بھی کمشن کا اجلاس ہوتا تھا تو اس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔
لاپتہ افراد / کمیٹی