بینظیر کا قتل، پیپلز پارٹی کی حکومت قاتل نہ پکڑ سکی، عوام کی نظریں مسلم لیگ ن پر

لاہور (مبشر حسن/ دی نیشن رپورٹ) 6 سال گزر چکے ہیں ابھی تک اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 2007ءمیں انکی واپسی پر کس نے قتل کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ اور سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس سے کرائی مگر اس حوالے سے کوئی کامیابی نہیں ملی۔ یہ کیس آج بھی راولپنڈی کی عدالت میں زیرالتوا ہے اور مستقبل قریب میں اس کے فیصلے کی امید بھی بہت کم ہے۔ عوام کی نظریں اب مسلم لیگ ن کی جانب ہیں جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکڑے گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس حوالے سے سندھ کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اعلان کیا تھا کہ قاتلوں کو پکڑ کر سزا دی جائیگی۔ نوازشریف یہ جانتے ہیں کہ پی پی پی کے کارکن آصف علی زرداری سے اس بات پر ناراض ہیں کہ انہوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ نواز شریف نے بینظیر بھٹو کو اپنی بہن قرار دیکر کہا تھا کہ وہ قاتلوں کو سزا دینے کی ہرممکن کوشش کرینگے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی ایسے ہی بیانات دے چکے ہیں۔ ناہید خان بھی اس حوالے سے وزیراعظم کو ان کا وعدہ یاد دلا چکی ہیں مگر مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ آصف زرداری کہہ چکے ہیں کہ انہیں قاتلوں کے بارے میں علم ہے۔