بھارت سے مذاکرات بے نتیجہ رہیں گے‘ اصل بات چینی بیچنے آلو خریدنے کی ہے : منور حسن

 لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا کہ انتخابات کے بعد بالعموم یہ توقع ہوتی ہے کہ قوم کے حالات میں بہتری آئے گی تاہم عجیب بات ہے کہ حکمرانوںنے آتے ہی جی ایس ٹی میں اضافہ کرکے مہنگائی کی بنیاد رکھ دی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ غربت بڑھ چکی ہے اور غریب نانِ شبینہ کا محتاج ہوچکا ہے ، یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرضہ لیا جائے گا مگر یہ کہنے والے بھول گئے کہ ضرورت مند کبھی اپنی شرائط نہیں منوایا کرتا بلکہ قرضہ دینے والے کی شرائط پر قرضہ لینے پر مجبور ہوتا ہے، وزیر خزانہ فنانس کے آدمی سرے سے ہے ہیں ہی نہیں بلکہ یہ تو کامرس کے آدمی ہیں اور ان کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے یورپ میں ان پرالزامات بھی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اپنا اقتصادی قبلہ درست کرے ہم یہ نہیںکہتے کہ وہ ہمارے منشور پر عمل کریں بلکہ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ اپنے منشور کو یادرکھیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مانسہرہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور امیر جماعت اسلامی ضلع مانسہرہ محمد یونس خٹک مرحوم کی یاد میںمنعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ریفرنس سے جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکریٹری شبیر احمد خان ، جماعت اسلامی ضلع مانسہرہ کے امیر سید سجاد حسین شاہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سیدمنورحسن نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بدامنی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔ حکومت شمالی وزیرستان اور اقتصادی معاملات پر بات کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کرے اور آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے ۔ یوتھ لون پروگرام کے حوالے سے سید منور حسن نے کہا کہ سود سے میاں صاحبان کودیرینہ لگاو¿ ہے ۔ سود کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں یہی لوگ لے کر گئے تھے ۔ اب میاں صاحب کی بیٹی سودی پروگرام کو فروغ دے رہی ہیں۔ بھارت سے مذاکرات کے سوال پر سید منور حسن نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی ہماری تاریخ ہے ۔ سردار سورن سنگھ اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1962ءمیں جو مذاکرات شروع ہوئے تھے وہ چھ مہینے تک مختلف شہروں میں جاری رہے تاہم انکے خاتمے پر نتیجہ صفر رہا تھا۔ امریکہ کی ڈکٹیشن پر ہونے والے یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ ہی رہیں گے ۔ کشمیر اور پانی پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی اصل بات اپنی چینی فروخت کر کے وہاں سے آلو خریدنے کی ہے ۔عبدالقادر ملا کی عدالتی شہادت کے بارے میں سید منور حسن نے کہا کہ میں دو سالوں سے حکومت سے کہتا رہا کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے بات کرے۔ جن لوگوں نے پاکستان سے محبت اور وفاداری کی ہے انہیں سزائیں دی جارہی ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے کر جائے ۔ عبدالقادر ملا جیسے لوگوں نے اپنے وقت کے آئین اور قانون کا ساتھ دیا تھا اور کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ ڈرون حملوں کے بارے میں سید منور حسن نے کہا کہ یہ حملے امریکہ اور مشرف کے درمیان ہونے والے ایک خفیہ معاہدے کے نتیجے میں ہو رہے ہیں ۔ اس معاہدے کو پہلے زرداری نے جاری رکھا اور اب موجودہ حکمران اس کی پاسداری کر رہے ہیں ۔ امریکی کانگریس میں یہ بات ہوئی ہے کہ پاکستانی حکمران چاہیں تو ڈرون حملے فوری طور پر رک سکتے ہیں۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
منور حسن