کھلاڑیوں کو سہولیات دیئے بغیر کھیلوں میں ترقی ممکن نہیں چیئرمین پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن معظم خان کا اظہار خیال

کھلاڑیوں کو سہولیات دیئے بغیر کھیلوں میں ترقی ممکن نہیں چیئرمین پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن معظم خان کا اظہار خیال

حافظ محمد عمران
کھیل کوئی بھی ہو اسی وقت ترقی کرتا ہے جب اسے حکومتی سرپرستی کے ساتھ ساتھ اچھے منتظمین بھی میسر ہوں پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کیونکہ پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ دونوں ادارے ایک دوسرے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ پی او اے اگر حکومت کی بات مانتی ہے تو آئی او سی کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ پاکستان سپورٹس بورڈ پی او اے کا ساتھ دینے والی کھیلوں کی تنظیموں کو نہ فنڈز دے رہا ہے اور نہ ہی انہیں بین الاقوامی کھیلوں میں نمائندگی کا موقع دے رہا ہے۔ اس صورتحال سے کب جان چھوٹے گی اس کے بارے میں فیصلہ اگلے ایک ڈیڑھ ماہ میں ہو جائے گا۔ پاکستان میں کھیلوں کے مستقبل کے حوالے سے پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے چیئرمین معظم خان سے خصوصی نشست ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ جب تک ہم اپنے کھلاڑیوں کو سہولیات نہیں دیں گے ان سے اچھی کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھیلوں کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال سے کھیل کے ساتھ ساتھ کھلاڑی تباہ ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کا جتنی جلدی خاتمہ ہو جائے تو بہتر ہے۔ معظم خان جوکہ خود بھی انٹرنیشنل سائیکلسٹ رہے ہیں کا کہنا تھا کہ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ ایک کھلاڑی کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے لہٰذا میری اولین ترجیح یہی ہو گی کہ قومی سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لئے ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں کھیل کی وجہ سے اگر ایک کھلاڑی کو نوکری ملے گی تو اس سے ایک خاندان کو ترقی ملنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں کھیل کا جذبہ پیدا ہو گا۔ معظم خان کا کہنا تھا کہ سائیکلنگ میرا اولین کھیل ہے اس کی ترقی کے لئے بھی اقدامات کرتا رہا ہوں اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بیس بال کی ترقی کے لئے کام کا آغاز کیا ہے۔ جس کے لئے پاکستان بیس بال فیڈریشن نے مجھے ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی ایسوسی ایشن کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ میری ٹیم میں صدر خاور شاہ اور سیکرٹری شیخ مظہر شامل ہیں جو انتہائی محنتی اور بیس بال سے پیار کرنے والے افراد ہیں۔ سید خاور شاہ کی وجہ سے بیس بال کے کھیل میں آیا ہوں اس سے قبل امریکہ میں بیس بال کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ معظم خان نے بتایا کہ پاکستان بیس بال فیڈریشن کے صدر سابق آئی جی پنجاب پولیس شوکت جاوید اور فیڈریشن پر سیکرٹری خاور شاہ کی وجہ سے بیس بال کھیل میں ایشیا کی سطح پر پاکستان کا نام روشن ہو رہا ہے اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ٹیم ورلڈ میں بھی نام پیدا کرنا شروع ہو جائے گا۔ معظم خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بیس بال کا بہت ٹیلنٹ ہے جس کو سامنے لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ مقابلوں کا انعقاد ضروری ہے۔ پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کے زیراہتمام صوبہ بھر میں اوپن ٹرائلز کا انعقاد کیا جائے گا۔ ابھی بیس بال میں واپڈا کی حکمرانی ہے جو نیشنل چیمپئن شپ بھی ہے تاہم ہماری کوشش ہو گی کہ آنے والے دنوں میں پنجاب کی ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی جائے جو محکموں کی ٹیموں کو قومی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں ٹف ٹائم دیکر چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کرئے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ٹیمیں اس لئے کمزور ہوتی ہیں کہ صوبہ بھر سے ٹیلنٹ کو سامنے صوبائی ایسوسی ایشن لاتی ہیں جبکہ بعد ازاں محکمے ان کھلاڑیوں کو ملازمتیں دیکر اپنے پاس لے جاتے ہیں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ پنجاب کی ٹیم میں منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی حاصل کریں تاکہ انہیں صوبے کی ٹیم کو چھوڑ کر کسی دوسری ٹیم میں نہ جانا پڑے۔ معظم خان نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ بلاتفریق تمام کھیلوں کی سرپرستی کرے جب تک یہ نہیں ہو گا ہماری کھیلیں ترقی نہیں کریں گی۔ پاکستان میں سکیورٹی کے خدشات کی وجہ غیر ملکی ٹیمیں یہاں آکر کھیلنے سے کتراتی ہیں اس کے باوجود پاکستان بیس بال فیڈریشن نے غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لاکر ملک کا سوفٹ امیج دنیا میں بھیجا ہے۔ مستقبل میں بھی فیڈریشن ملک میں بین الاقوامی ٹیموں کو لانا چاہتی ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی کھیلوں کی تنظیموں کی معاونت کرے۔